مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
حکومتِ پاکستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور
اسلام آباد۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے امن مذاکرات کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی نے اپنے نکات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان سے ہونے والے مذاکرات کا اطلاق صرف شورش زدہ علاقوں پر ہوگا۔یہ بات حکومتی کمیٹی اور طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر جاری ہونے والی مشترکہ پریس ریلیز میں کہی گئی ہے۔حکومتِ پاکستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور جمعرات کی سہ پہر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔بیان کے مطابق حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں کہا گیا ہے کہ بات چیت مکمل طور پر آئینِ پاکستان کی حدود میں ہونی چاہیے اور امن مذاکرات زیادہ طویل نہیں ہونے چاہئیں۔حکومت نے طالبان سے یہ بھی کہا ہے کہ ان سے کیے جانے والے مذاکرات کا دائرہ شورش زدہ علاقوں تک محدود رہے گا اور یہ پورے پاکستان پر محیط نہیں ہوں گے۔حکومتی کمیٹی نے طالبان سے نمائندہ کمیٹی کے علاوہ خود طالبان کی طرف سے بنائی جانے والی نو رکنی کمیٹی کے بارے میں بھی استفسار کیا اور پوچھا کہ کیا حکومتی کمیٹی کو اس سے بھی بات کرنا ہوگی۔ انہوں نے طالبان سے اس کمیٹی کا دائرہ کار واضح کرنے کو بھی کہا ہے۔مشترکہ بیان میں طالبان کی کمیٹی کے تحفظات کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور حکومت سے اس کی کمیٹی کے مینڈیٹ اور دائرہ کار کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔طالبان کی نمائندہ کمیٹی نے وزیراعظم، آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وہ حکومتی کمیٹی کے مطالبات جلد طالبان تک پہنچائیں گے اور ان کے جواب سے حکومت کو آگاہ کیا جائے گا جس کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا۔طالبان سے بات چیت کے لیے بنائی جانے والی حکومت کی کمیٹی میں وزیرِاعظم کے مشیر عرفان صدیقی کے علاوہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے کے سابق افسر میجر محمد عامر خان، سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی اور افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند شامل ہیں جبکہ طالبان کی نمائندہ کمیٹی جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جماعتِ اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم اور اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز پر مشتمل ہے۔