مقبول خبریں
روٹری کلب کے راہنما ڈاکٹر سہیل قریشی کے اعزاز میں سماجی کمیونٹی شخصیت چوہدری محمود کا استقبالیہ
پاکستان سے آئے وکلا کے اعزاز میں ورلڈ وائیڈ سالیسٹرز کے ڈائیریکٹر محمد اشفاق کا استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
سابق صدر پی ٹی آئی یارکشائر اینڈ ہمبر ریجن طاہر ایوب خواجہ کا اپنی رہائش گاہ پر محفل کا انعقاد
بے نظیر بھٹو: چراغ بجھ گیا لیکن روشنی زندہ ہے
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ میں سوشل میڈیا پر اور فون کے ذریعے نازیبا پیغامات کے اجرا میں اضافہ
لندن ...برطانوی عدالتوں میں آن لائن اور فون کے ذریعے بھیجے گئے نازیبا پیغامات سے متعلق دائر کیے جانے والے مقدمات میں اضافہ ہوا ہے۔’فریڈم آف انفارمیشن‘ کے تحت حاصل کی گئی معلومات میں بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ دو ہزار بارہ میں اس قسم کے ایک ہزار سات سو سے زائد کیس دائر کیے گئے جبکہ رواں برس جنوری اور مئی کے درمیان عائد کیے جانے والے الزامات کی تعداد چھ سو ہے۔ ہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب پولیس برطانوی رکن پارلیمان سٹیلا کریسی کو ٹوئٹر پر بھیجے گئے نازیبا پیغامات کی تفتیش کر رہی ہے۔ سی پی ایس نے بی بی سے کو یہ نہیں بتایا کہ ان کیسوں میں کتنے لوگوں کے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور کتنے کیسوں میں کامیابی حاصل ہوئی۔ سی پی ایس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ ہم اعدادوشمار سے اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ کتنے افراد کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور ان مقدمات کا نتیجہ کیا رہا۔ یہ اکثر ہوتا ہے کہ ایک شخص کے خلاف ایک سے زیادہ الزامات عائد کیے گئے ہوں۔‘ مشرقی لندن کی مسلم آبادی والی برو کونسل سے منتخب ہونے والی پارلیمان کی رکن سٹیلا کریسی کو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون کی حمایت کرنے کی وجہ سے ٹوئٹر پر نازیبا پیغامات موصول ہوئے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون کارکن کیرولائن کریاڈو پیریز نے برطانوی کرنسی پر خواتین کی تصاویر چھاپنے کے حق میں مہم چلائی تھی اور انہیں ٹوئٹر پر اس دن نشانہ بنایا گیا جس دن یہ اعلان ہوا کہ دس پاؤنڈ کے نئے نوٹ پر مصنفہ جین آسٹن کی تصویر ہوگی۔ سٹیلا کریسی اور کیرولائن کریاڈو پیریز کو ٹوئٹر پر ریپ اور موت کی دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔ ٹوئٹر پر اس بات کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ پر بھیجے گئے نازیبا پیغامات کے خلاف اقدامات کرے۔ آن لائن پٹیشنز کی ویب سائٹ change.org پر ٹوئٹر پر نازیبا ٹوئٹ کو رپورٹ کرنے کے بٹن کے حق میں پٹیشن پر منگل تک اکہتر ہزار افراد نے دستخط کیے تھے۔ ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ ’ٹوئٹر تک عالمی سطح پر رسائی اور اس پر بھیجے جانے والے پیغامات کی تعداد کے باعث ہر ٹویٹ پر نظر ثانی کرنا ممکن نہیں۔‘