مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مذاکرات کے ذریعے امن کی بحالی ملک کے لیے بہترین راستہ ہے، وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف
پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے امن کی بحالی ملک کے لیے بہترین راستہ ہے۔ادھر طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ فی الحال طالبان نے اپنی شرائط نہیں بتائیں اور مذاکرات کے لیے ٹائم فریم دینا ابھی ممکن نہیں۔پیر کو لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کا معاملہ تسلی بخش انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور وہ ذاتی طور پر مذاکراتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور خلوصِ نیت سے معاملات آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق طالبان کی جانب سے نامزد کردہ کمیٹی کا خیر مقدم کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دونوں کمیٹیوں کے ارکان قابلِ قدر ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ حکومت تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے اور اب یہ کمیٹیاں آپس میں بیٹھ کر مذاکرات کا عمل آگے بڑھائیں گی۔نواز شریف نے لاہور ہی میں سینیئر صحافیوں سے بھی ملاقات کی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق اس ملاقات میں انھوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ ہے کیونکہ معیشت کی بحالی کے لیے امن ناگزیر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مذاکرات کے نتیجے میں امن قائم ہوجائے تو اس سے بہتر کچھ نہیں۔سرکاری ٹی وی کے مطابق پیر کو طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کا اجلاس مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں منعقد ہوا ہے جس میں عمران خان اور مفتی کفایت کے علاوہ باقی تینوں ارکان شریک ہوئے ہیں۔اس اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے حکومتی کمیٹی سے رابطہ کریں گے اور جبھی مذاکرات کا طریقۂ کار اور مقام کا تعین ہوگا۔