مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے بعد عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے پیر کو کارروائی کی جائے گی
اسلام آباد ۔اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی جانب سے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے بعد عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے پیر کو کارروائی کی جائے گی۔سکندر حیات نے بتایا کہ ایس پی رورل کیپٹن الیاس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پرویز مشرف کو یہ وارنٹ پہنچائیں۔نو جنوری کو غداری کے مقدمے میں پیشی کے لیے سفر کے دوران علیل ہونے والے پاکستان کے سابق فوجی حکمران اس وقت راولپنڈی میں فوج کے ادارہ برائے امراض قلب ’آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘ میں زیرِ علاج ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ذمہ داری کیپٹن الیاس کو سونپی گئی ہے تاہم کوئی بھی ذمہ دار افسر عدالتی حکم کی تعمیل کروانے کے لیے ہسپتال جا سکتا ہے۔ان کے مطابق وہی افسر ذمہ دار ہو گا کہ ضمانتی مچلکے فراہم کیے جانے پر ان کی تصدیق کرے اور تصدیق کے بعد وہ پرویز مشرف کو پابند کر سکتا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں۔سکندر حیات کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اس سلسلے میں تعاون نہیں کیا جاتا تو وہ عدالت کو مطلع کریں گے جس کے بعد عدالت ناقابلِ ضمانت وارنٹ بھی جاری کر سکتی ہے۔پرویز مشرف کے وکلا کی ٹیم کے رکن فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ جب پولیس افسر وارنٹ کی تعمیل کروانے جائے گا تو وہ احتجاج کے طور پر ضمانتی مچلکے جمع کروائیں گے۔اُنہوں نے کہا کہ سماعت کے دوران سابق صدر کے وکلاء نے یہ اعتراض اُٹھایا تھا کہ عدالت پہلے اُن درخواستوں کا فیصلہ کرے جو عدالت کی تشکیل اور اُس کی دائرہ سماعت سے متعلق ہے اس کے بعد عدالت کوئی حکم جاری کر سکتی ہے۔فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے بھی موجود ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالتی اختیارات سے متعلق کوئی درخواست آئے تو عدالت کو پہلے اُس کا فیصلہ کر نا ہوگا۔