مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے بعد عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے پیر کو کارروائی کی جائے گی
اسلام آباد ۔اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی جانب سے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے بعد عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے پیر کو کارروائی کی جائے گی۔سکندر حیات نے بتایا کہ ایس پی رورل کیپٹن الیاس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پرویز مشرف کو یہ وارنٹ پہنچائیں۔نو جنوری کو غداری کے مقدمے میں پیشی کے لیے سفر کے دوران علیل ہونے والے پاکستان کے سابق فوجی حکمران اس وقت راولپنڈی میں فوج کے ادارہ برائے امراض قلب ’آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘ میں زیرِ علاج ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ذمہ داری کیپٹن الیاس کو سونپی گئی ہے تاہم کوئی بھی ذمہ دار افسر عدالتی حکم کی تعمیل کروانے کے لیے ہسپتال جا سکتا ہے۔ان کے مطابق وہی افسر ذمہ دار ہو گا کہ ضمانتی مچلکے فراہم کیے جانے پر ان کی تصدیق کرے اور تصدیق کے بعد وہ پرویز مشرف کو پابند کر سکتا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں۔سکندر حیات کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اس سلسلے میں تعاون نہیں کیا جاتا تو وہ عدالت کو مطلع کریں گے جس کے بعد عدالت ناقابلِ ضمانت وارنٹ بھی جاری کر سکتی ہے۔پرویز مشرف کے وکلا کی ٹیم کے رکن فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ جب پولیس افسر وارنٹ کی تعمیل کروانے جائے گا تو وہ احتجاج کے طور پر ضمانتی مچلکے جمع کروائیں گے۔اُنہوں نے کہا کہ سماعت کے دوران سابق صدر کے وکلاء نے یہ اعتراض اُٹھایا تھا کہ عدالت پہلے اُن درخواستوں کا فیصلہ کرے جو عدالت کی تشکیل اور اُس کی دائرہ سماعت سے متعلق ہے اس کے بعد عدالت کوئی حکم جاری کر سکتی ہے۔فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے بھی موجود ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالتی اختیارات سے متعلق کوئی درخواست آئے تو عدالت کو پہلے اُس کا فیصلہ کر نا ہوگا۔