مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
طالبان جہاں کہیں گے وہیں ان سے بات کی جائے گی،عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو اپنے نمائندے اپنی صفوں سے چننے چا ہئیں۔عمران خان کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق طالبان نے اپنی جانب سے مذاکرات کے لیے عمران خان اور مولانا سمیع الحق سمیت پانچ افراد کے نام دیے ہیں۔’طالبان جہاں کہیں گے وہیں ان سے بات کی جائے گی‘سات ماہ لاشیں اٹھائیں، امن کو آخری موقع دینا چاہتا ہوں‘ تحریکِ انصاف کی ویب سائٹ پر جاری بیان ہونے والے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان امن مذاکرات کے لیے خود اپنے طالبان نمائندے منتخب کرے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کو حکومت کی جانب سے بنائی گئی چار رکنی کمیٹی پر پورا اعتماد ہے اور جماعت پیر کو کور کمیٹی کے اجلاس میں اپنی جانب سے تعاون کے ممکنہ طریقۂ کار پر بھی غور کرے گی۔عمران خان کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنے پیغام میں یہ بات دہرائی اور ٹویٹ کی کہ ’امن مذاکرت میں تحریک ِ انصاف کی جانب سے تعاون کے امکانات پر غور کرنے کے لیے پیر کو جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے علاوہ مولانا سمیع الحق، لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز، جمیعت علمائے اسلام کے سابق رکن اسمبلی مفتی کفایت اللہ اور جماعتِ اسلامی کے پروفیسر محمد ابراہیم کے نام سامنے آئے تھے۔اس سے پہلے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے منتظم مولانا عبدالعزیز نے بھی کہا کہ حکومت اور طالبان کی جانب سے مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کی پیشکش کی گئی ہے تاہم وہ اس وقت تک اس عمل میں شامل نہیں ہوں گے جب تک حکومت نظام شریعت کے نفاذ کے مطالبے پر سنجیدگی ظاہر نہیں کرتی۔دوسری جانب طالبان سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی حکومت کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا کہ صرف کمیٹی کے ارکان کو بات چیت کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے اور کمیٹی کے کسی نمائندے کی جانب سے مولانا عبدالعزیز سے کوئی رابط نہیں ہوا ہے۔مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ سنیچر کو حکومت اور طالبان دونوں جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔