مقبول خبریں
کشمیر سالیڈیرٹی کیلئے یکم فروری سے 11فروری تک تقریبات منعقد کرائی جائیں گی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستا ن میں ایک کروڑ20لاکھ خواتین گھروں میں ملازمت کرتی ہیں
ملتان ۔ پاکستان میں گھروں میں کام کرنے والی خواتین مختلف مسائل کاشکارہیں کم تنخواہ اور تشدد سمیت ان کے خلاف ہونے والے بیشتر جرائم مناسب قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے سامنے نہیں آتے ۔مختلف غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے حاصل کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں گھریلو ملازمین کی مجموعی تعداد دوکروڑ ہے جن میں ایک کروڑ 20لاکھ خواتین شامل ہیں ۔ان گھریلو ملازمین کے مسائل اورمشکلات دور کرنے کیلئے نہ صرف یہ کہ آج تک حکومتی سطح پر کوئی قانون سازی نہیں ہوئی بلکہ اس حوالے سے کوئی غیرسرکاری تنظیم بھی کام نہیں کررہی ۔ان ملازمین کو کم ازکم 50روپے یومیہ مزدوری ادا کی جاتی ہے۔اپنے گھر کوچلانے کیئے انہیں ایک ہی دن میں مختلف گھروں میں کام کرنا ہوتا ہے جس کے بعد وہ معقول آمدن حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں زیادہ تر ملازمین کا تعلق شہروں کے مضافاتی علاقوں سے ہوتاہے۔ان میں سے بعض روزانہ کرایہ لگا کر ملازمت کیلئے آتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو مستقل طورپر اپنے مالک کے پاس ہی رہائش پذیر رہتے ہیں۔ایس پی او کی پروگرام کوارڈینیٹر زہرہ سجاد زیدی نے بتایا کہ چند سال قبل مختلف این جی اوز کے تعاون سے گھریلو ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کابل تیار کیاگیا اور اس کا مسودہ 2007ء میں قومی اسمبلی میں بھی پیش کیاگیا ۔2007ء سے لیکراب تک اس مسودے پر بارہا نظرثانی بھی ہوئی لیکن اس حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس قانون سازی نہیں ہوسکی۔انہوں نے کہاکہ این جی اوز کو جب بھی کسی قسم کی شکایت ملتی ہے یا کسی خاتون کوتشدد کانشانہ بنایا جاتا ہے تو ہم ان کے حق میں آوازبلند کرتے ہیں اوران کی داد رسی بھی کی جاتی ہے ۔آواز فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو محمد ضیاء الرحمن نے کہاکہ جنوبی پنجاب میں بہت سی گھریلو خواتین تشدد کا شکارہوتی ہیں لیکن وہ اس طرح کے ایشو بھی سامنے نہیں لاتیں۔آپس کے لین دین میں ہی معاملہ سلجھا دیاجاتا ہے جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں اس طرح کے کیسز کورپورٹ نہیں کیا جاتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر اس حوالے سے فوری طورپر قانون سازی کی جائے تاکہ گھریلو ملازمین کوتحفظ مل سکے۔