مقبول خبریں
مکس مارشل آرٹ کونسل اور چیریٹی آرگنائزیشن کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شام سے واپسی پر جہادیوں کو گرفتار ہوکر بحالی پروگرام میں شرکت کرنا ہوگی: سر پیٹر فاہی
مانچسٹر ... چیف کانسٹیبل مانچسٹر پولیس سر پیٹر فاہی کا کہنا ہے کہ عالمی تناظر کے پیش نظر اس امر کا قوی امکان ہے کہ شام میں جہاد کیلئے گئے برطانوی جہادیوں کو واپسی پر گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان پر مقدمات قائم کئے جائیں گے اور ان سے انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے انکی تربیت کی جائے گی کیونکہ انتہا پسندوں کی جنگ سے واپسی قوم کیلئے خطرے کا باعث ہوگی۔ صرف جنوری کے مہینے ہی میں اب تک شام اور برطانیہ کے درمیان سفر کرنے والے سولہ افراد کو دہشتگردی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ گذشتہ پورے سال کے دوران صرف چوبیس ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ بحالی کے مذکورہ پروگرام کے تحت پولیس سکولوں اور نوجوانوں کی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرے گی جس کا اصل مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کے ایسے افراد شام میں اپنے تجربات سے ذہنی طور پر متاثر نہ ہوئے ہوں اور یہ کہ وہ برطانیہ کے لیے کسی خطرے کا باعث نہ بنیں۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ پروگرام کا مرکزی مقصد شام جانے والے برطانوی باشندوں کی اپنی فلاح کو یقینی بنانا ہے لیکن ہمیں ایسے افراد کے بارے میں شدید خدشات ہیں جنہیں شدت پسند بنا دیا گیا ہو اور وہ شام میں دہشتگردی کی تربیت حاصل کرتے رہے ہوں۔ انٹیلی جنس افسران کا اندازہ ہے کہ برطانیہ سے شام جانے والے افراد کی تعداد چند سو تک ہو سکتی ہے۔ کنگز کالج لندن کے ایک تحقیقی مرکز کے مطابق برطانوی جہادیوں کی بڑی تعداد کا تعلق ایسے پاکستانی نژاد نوجوانوں سے ہے جو یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم یافتہ ہیں۔