مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
خاندان کی عزت بچانے کیلئے بہن کی دوست کی پٹائی کرنے والے چھ بہن بھائیوں کو سزا
مانچسٹر ... بلیک برن کے ایک مسلمان خاندان کے چھ بہن بھائیوں کو تشدد کا جرم ثابت ہونے پر قید کی تین سے چھ سال کی مختلف سزائوں کا حکم سنایا ہے۔ ان بہن بھائیوں پر الزام تھا کی انہوں نے اپنی سگی بہن کو ہم جنس پرستی کے خطرے سے بچانے کیلئے اسکی دوست کی سرعام پٹائی کیاور اسے اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔ پانچ بہنوں اور انکے بھائی کو ایک سفید فام عورت پینتیس سالہ سارہ ہیرسن پر حملہ آور ہونے اور اغوا کرنے کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی، حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ کام ختم کر کے گھر جا رہی تھی ۔ سی سی ٹی وی کیمرہ نے یہ تمام مناظر فلم بند کر لئے۔پچھلے سال20جون2013دن دیہاڑے مس ہیر سن بڑی تگ و دو کے بعد ملزمان سے جان چھڑاکر اپنی کار میں بیٹھ کر بھاگی،مس ہیر سن نے پرسٹن کرائون کورٹ میں بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ وہ بہت زیادہ خوف زدہ تھی کہ ملزمان اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیں گے کیونکہ وہ انتہائی غصے کے عالم میں تھے اور زور سے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ اس کو گاڑی میں بٹھا کر لے چلو،دو بہنوں بتیس سالہ آمنہ دتہ اور اکتیس سالہ غزالہ دتہ نے اڑتیس سالہ نگہت اور تیمور دتہ کے ساتھ ملکر یہ واردات کی اور مس ہیر سن کو بالوں سے پکڑ کر دبوچ لیا اور کار میں زبر دستی بیٹھے اور اغواء کرنے کیلئے دبائو ڈالا،مس ہیرسن سے پرس چھین لیا،لیکن وہ انکے چنگل سے آزاد ہو گئی،ملزمان نے مس ہیر سن کے ساتھ کام کرنے والوں سے تمام معلومات لی اور پھر تمام خارجی راستوں کی ناکہ بندی کی۔ناظمہ دتہ نے کچھ دن پہلے خاندان کی مرضی سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ مس ہیر سن کے ساتھ رہائش پذیر ہو گئی اور گھر والوں کو بتایا کہ اسے مانچسٹر میں کام مل گیا ہے لہٰذا وہ اب وہاں سکونت اختیار رکرے گی۔سزا سناتے ہوئے جج گراہم نولز نے ملزمان کو بتایا کہ ایک غیر مسلم سفید فام عورت کے انکی بہن کے ساتھ تعلقات نے انکے اندر اتنی نفرت اور غصہ بھر دیا کہ یہ رشتہ توڑنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے اور اپنی مرضی ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی’’ یہ کیس طاقت اور کنٹرول حاصل کرنے کا ہے‘‘تاکہ دل کہ اندر خوف پیدا کر کے انسان کی روح،جسم اور مرضی پر قبضہ کیا جائے اور آپ لوگوں نے اپنی ماں کو خوش کرنے کیلئے ایسا کیا اور مس ہیر سن کے ارد گرد انتہائی منصوبہ بندی سے گھیرا ڈالا تاکہ اپنی بہن پر دبائو ڈالا جا سکے کہ وہ اسے چھوڑ کر واپس آ جائے اور ممکن ہو تو یہ بھی پتہ چلے کہ وہ کہاں رہائش پذیر ہے،گروپ کی شکل میں ایک ظالمانہ اقدام اٹھایا گیا،جج گراہم نولز نے مذید کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ مس ہیر سن کے پاس ایسی طاقت کہاں سے آئی کہ وہ انکے گھیرے سے نکل کر بھاگ گئی،تمام ملزمان کو پانچ سال اور چار ماہ کیلئے جیل بھیج دیا گیا،پینتیس سالہ توصیف دتہ اور بتیس سالہ نیر محمود نے انکا ساتھ دینے کا اعتراف کر لیا،انکو ساڑھے تین سال کی سزا سنائی گئی بچوں کی ماں پچپن سالہ رانی دتہ پر اغواء کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام تھا جو گزشتہ سال نومبر میں ثبوت نہ ہونے کی بناء پر بری الزمہ قرار دے دیا گیا،کورٹ کو پتہ چلا کہ مس ہیرسن اور مس دتہ کے گزشتہ اڑھائی سال سے تعلقات استوار ہیں،ملزمان بہنوں کے درمیان بذریعہ فون پیغام رسانی سے پتہ چلا کہ وہ اپنی بہن ناظمہ دتہ کو یکطرفہ ہوائی ٹکٹ لے کر پاکستان بھیجنا چاہتی تھیں،جج نے مزید کہا کہ ملزمان کا یہ خام و خیال تھا کہ مس ہیر سن انکے مذہب اسلام سے نا واقف ہے اور اسکی اہمیت کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔ انہیں یہ ڈر بھی تھا کہ معاشرے کو دونوں لڑکیوں کے تعلقات کا پتہ چلے گا تو خاندان کی بے عزتی ہوگی،تفتیشی آفیسر سارجنٹ مارک ہائورتھ اوٹس نے کورٹ کو اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ خاندان کی ملی بھگت سے بنایا گیا اور یہ قابل مذمت فعل ہے،لنکا شائر کانسٹیبلری ایسے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ (تحقیق و رپورٹ: فیاض بشیر، مانچسٹر بیورو)