مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان میں قید برطانوی مسلمان کو توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت کا حکم
اسلام آباد ... برطانیہ میں مقیم کمیونٹی کو کئی سال بعد ایک بار پھر ایسی صورتحال کا سامنا ہونے جا رہا ہے جسے کسی بھی طور پر پسندیدہ نہیں کہا جا سکتا۔ سکاٹش دارالحکومت انڈنبرا سے تعلق رکھنے والے 70 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری محمد اصغر کو توہین رسالت میں موت کی سزا سنادی گئی ہے۔ محمد اصغر کو 2010 میں راولپنڈی سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب انہوں نے مبینہ طور پر پولیس افسران کو لکھے گئے خطوط میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ پراسیکیوٹر جاوید گل نے عالمی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اصغر نے عدالت میں بھی نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور انھوں نے عدالت کے سامنے بھی اعتراف کیا۔ محمد اصغر کی وکیل کا کہنا ہے کہ وہ جمعرات کو سنائے گئے اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔ مگر اسکے معافی کے جانسز بہت کم ہیں۔ محمد اصغر ماضی میں فالج کی وجہ سے جزوی طور پر معذور ہو گیا تھا اور اسے انتشارِ شخصیت کا مرض بھی لاحق ہے اور انہوں نے اس کا علاج رائل وکٹوریہ ہسپتال ایڈنبرا سے کروایا تھا مگر عدالت نے برطانیہ سے آنے والی ان کا رپورٹوں کو درست ماننے سے انکار کر دیا۔ اصغر 2010 میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں اور ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک موقعے پر جیل ہی میں اپنی جان بھی لینے کی کوشش کی۔ قانونی امداد کے خیراتی ادارے "ریپرائیو" نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اصغر کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں کیونکہ ان کو نفسیاتی بیماری ہے جس کی مستقل نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے توہین رسالت کے قوانین اکثر ذاتی جھگڑے نمٹانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں ان کا ناجائز استعمال ہوتا ہے۔ اصغر کے کیس میں بھی اس طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں کہ وہ پاکستان اپنی جائداد کی حفاظت کیلئے گیا تھا مگر اسکے ایک کرایہ دار نے جھگڑے کے بعد اس پر توہین رسالت کا الزام عائد کر دیا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ججوں پر بھی دبائو تھا۔ اسوقت خطرے کی سب سے بڑی یہ بات بیان کی جا رہی ہے کہ اصغر کو اسی جیل میں بند رکھا گیا ہے جہاں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قاتل ممتاز قادری قید ہے۔ یہاں برطانیہ میں مسلمان میلاد النبی پورے جوش جذبے سے مناتے ہوئے اسوہ حسنہ کو اجاگر کر رہے ہیں ان پر کوئی پابندی نہیں ایسے موقع پر اسطرح کا کیس کسی بھی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔ ابھی اصغر کے اہلخانہ کے پاس معافی کی امید باقی ہے بالکل اسی طرح جیسے ایک شخص کے قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا کے منتظرلیڈز کے ایک نوجوان مرزا طاہر حسین کو اٹھارہ سال بعد ہی سہی مگر معافی مل گئی تھی، مشرف دور میں اسکی جاں بخشی کردی گئی تھی لیکن وہ کیس بہرحال توہین رسالت کا نہ تھا۔