مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نیوکلیئر بم زمین پر ایک ایسا طاعون ہے جسے انسان نے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے
کیا یہ حیران کن بات نہیں کہ پاکستانی اور ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے اس کتاب اتنی بھی اہمیت نہیں دی جتنی انھوں نے وینا ملک کی ان نیم ملبوس تصویروں کو دی تھی، جن میں ان کے ایک بازو پر آئی ایس آئی لکھوا کر بنوائی جانے والی تصویر بھی شامل تھی۔پاکستان کے دو ایک انگریزی اخباروں نے پھر بھی اس کا تذکرہ کیا اور اس کی کچھ تفصیلات بتائیں لیکن اردو ذرائع ابلاغ نے تو اسے بالکل بھی توجہ کے لائق نہیں سمجھا۔کیا یہ بات دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ کے بارے میں یہ سوچنے کا اشارہ نہیں دیتی کہ اگر ذرائع ابلاغ پر دونوں ملکوں کی اسٹیبلشمنٹوں کا دباؤ نہیں تو وہ ایک طرح کی سیلف سنسر شپ کو ضرور روا رکھتے ہیں؟ یہ کتاب ’بم کے مقابل، پاکستانی اور ہندوستانی سائنسداں کیا کہتے ہیں‘ ڈاکٹر پرویز ہوڈ بائی نے مرتب کی ہے!! اس میں، 1:سائنسداں اور ہندوستان کا نیوکلیئر بم (این وی رامن) 2:پاکستان میں اٹامک عہد کی آمد (ضیا میاں) 3: پاکستان: نیوکلیئر سیڑھیوں پر، 4: پاکستان: دنیا تیز تر پھیلتے ہتھیاروں کی تفہیم، 5: کشمیر: نیوکلیئر فلیش پوائنٹ سے جنوبی ایشیا میں امن کے پُل تک؟ 6: قوم پرستی اور بم، 7: ایران، سعودی عرب، پاکستان اور اسلامی بم، 8: بن لادن کے بعد: پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیاروں کا تحفظ اور سلامتی، 9: کمانڈ اینڈ کنٹرولنگ نیوکلیئر ہتھیار (ضیا میاں)، 10: جلد از جلد انتباہ کا عدم امکان (ضیا میاں، آر راجہ رامن اور ایم وی رامن)، 11: پاکستان کا میدانِ جنگ نیکلیئر ہتھیاروں کا استعما (ضیا میاں، اے ایچ نیّر) 12: ایٹمی جنگ جنوبی ایشیا کے ساتھ کیا کر سکتی ہے (میتھیو میکنزی، ضیا میاں، اے ایچ نیّر، اور ایم وی رامن)، 13: پاکستان کی نیوکلیئر ڈپلومیسی (ضیا میاں، اے ایچ نیّر)، 14: نیوکلیئر ساؤتھ ایشیا کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں، 15: امریکہ کی گلوبل بالا دستی اور گلوبل تحدید اسلحہ (پرویز ہوڈ بائی/ ضیا میاں) 16: نیوکلیئر الیکٹرسٹی پاکستان کا جواب نہیں (پرویز ہوڈ بائی) اور 17: نیوکلئر الیکٹرسٹی ہندوستان کا جواب نہیں (سورت راجو) کے عنوانات سے مضامین ہیں۔ ایٹم بم کے سلسلے میں سب اہم نام رابرٹ جے اوپن ہائمر کا ہے۔ وہ امریکہ میں ہونے والی ایٹمی تحقیق کی ٹیم کے سربراہ تھے۔ جب انھوں ایٹمی قوت دریافت کر لی تو انھیں احساس ہوا کہ انھوں نے کیا کر لیا ہے۔ خود ان کے الفاظ ہیں:(میں موت بن گیا ہوں، دنیاؤں کا تباہ کار)۔ تبھی سے انہوں نے بم بنانے کی مخالفت شروع کی اور تبھی سے امریکی اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں نے انھیں پہلے امریکہ کا بے وفا قرار دیا، پھر ان کی سکیورٹی کلیئرنس ختم کی اوران دنوں جب امریکہ میں کمیونسٹوں کا جینا حرام کیا جا رہا تھا انھیں کمیونسٹ قرار دے دیا گیا۔ اوپن ہائمر کی پوری روداد پڑھنے کے لائق ہے۔ اس کتاب میں بھی اس کا تھوڑا سا حوالہ ہے۔ کتاب میں شامل مضامین ایک تو اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والوں نے لکھے ہیں اور پھر پوری تحقیق اور احتیاط سے لکھے ہیں، ایک اور اہم بات ان مضامین کے انداز اور زبان کا غیر جذباتی اور غیر جغرافیائی ہونا ہے۔ ان سے ہمیں ان تمام کرداروں کے بارے میں علم ہوتا ہے جو بم کے پیچھے رہے ہیں اور وہ جو سامنے کھڑے ہوئے اور ہیں۔لیکن اس سے کیا ہوگا جب تک دونوں ملکوں کے سیاست داں، جنرل اور مذہبی رہنما ہی نہیں ذرائع ابلاغ بھی یہ بات محسوس نہیں کریں گے کہ ان ہتھیاروں سے ہونے والی جنگ میں فتح صرف تباہی کو ہو گی۔ ہوڈبائی کو کتاب کے متنازع ہونے کا اندازہ ہے، اس لیے انھوں نے تعارف میں ہی متنبہ کر دیا ہے کہ ’یہ کوئی مقبول کتاب نہیں ہے‘ لیکن انتہائی ضروری ہے۔اس کا پیش لفظ 1986 میں کیمسٹری کا نوبل انعام حاصل کرنے والے جون پولیانی نے لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’نیوکلیئر بم اس زمین پر ایک ایسا طاعوں ہے جسے انسان نے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے‘۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ نہیں کہ اس میں تکنیکی مہارت کو عمدگی سے بروئے کار لایا گیا ہے بلکہ یہ ہے کہ بم کے حوالے سے دونوں ملکوں کی فوجی قیادتوں کی سوچ اور نفسیات کو بھی سمجھنے کو کوشش کی گئی ہے۔ لکھنے والے بم کے تاریخی اور سیاسی پس منظر سے واقف ہیں۔ وہ بم کے بعد لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں، وار آن ٹیرر اور خود کو ایٹمی طاقت سمجھنے والے پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے حوالے سے حقیقی اور تلخ سوال اٹھاتے ہیں.اس کتاب میں جو کچھ ہے اُسے دونوں ملکوں کے عام لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ اس کتاب کو صرف اردو اور ہندی ہی میں نہیں دونوں ملکوں کی تمام زبانوں میں ہونا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے انھیں تو ضرور پڑھنا چاہیے جو انگریزی پڑھ سکتے ہیں۔(بشکریہ : انور سِن رائے..بی بی سی اردو)