مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
وقت گزرنے سے کشمیریوں کا حق کم نہیں ہو سکتا !
٢٦ جنوری کو بھارت اپنا یوم جمہوریہ منارہا ہے اور وادی کشمیر کے عوام اس دن یوم احتجاج کے طور اپنا کاروربار بند کرکے بھارت کویہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پرکشمیریوں کے ساتھ جووعدے کیے گئے ہیں ان پر عمل کیا جائے ۔پھر یہ کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے یہ ایک متنازع مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کو جتنی جلدی حل کیا جائے یہ انسایت کے لیے بہتر ہے۔مگراقوام متحدہ کی قرارداوں پر عمل کرنے سے پہلے ہی وادی کشمیر کی حریت کانفرنس میر واعظ گروپ کے ایک باثررکن پروفیسر عبدالغنی بٹ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ کشمیر کے ضمن میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رٹ لگانا ایک بیکار سی بات ہے اور اب ہمیں یہ رٹ چھوڑ دینی چاہیے اور متبادل راستوںکی تلاش کے لیے کام کرنا چاہیے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا کشمیری لیڈروں یا وہاں کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ کہیں ہمیں ان قراردادوں کی ضرورت نہیں ۔ اس کا اگر مختصر جواب دیا جائے تو وہ یہی ہے کہ یہ نہ ان کے اختیار میں ہی نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ بذات خود ان قراردادوں کے فریق نہیں بلکہ قرادادوں میں کشمیر, پاکستان اور ہندوستان کے درمیاں ایک متنازع خطہ ہے جس کا مستقبل ابھی طے ہونا باقی ہے۔ کشمیر میں یوم جمہوریہ پر جو ہڑتال یاجو بھی واقع وقوع پذیر ہوتاہے وہ دراصل اس کے ذریعہ ان دونوں ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کو اپنے اس احتجاج سے یہ باور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کشمیر ایک متنازعہ اور حل طلب مسئلہ ہے اور یہ کسی دو ملکوں کے درمیاں کوئی قطعہ اراضی کاجگڑاہے نہیں بلکہ یہ سواکروڑ انسانوں کی آزادی اور حق خودارادیت کا مسئلہ ہے جن کی ریاست پر ایک قوت نے محض طاقت کے بل پر فوج کشی کے ذریعہ قبضہ کررکھا ہے اور آج بھی صرف قوت کے ذریعہ ان پر قابض ہے۔ مگربدقسمتی یہ کہ آج اس مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے بھارت کے حکمراں‘ بڑی طاقتوں کے سیاست کار اور خود پاکستانی اور کشمیر کے چندمخصوص لوگوں کی طرف سے جو عجیب و غریب نوعیت کے سنگل مل رہے ہیں جس سے یہ تاثر ابھررہا ہے کہ کہ سواکروڑ انسانوں کی خون میں لت پت ریاست کو یونہی فروخت کیا جارہا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی کچھ کرنا تھاایک لاکھ افراد کو کیوں قربانی کا بکرہ بنایا گیا۔ اورپھر آج یہ باشندے دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ کیا یہ سب لوگوں کو بیوقوف بنانے کا کوئی نرالہ طریقہ ہے ۔ یہ سوال بھی ذہنوں میں ابھر رہا ہے کہ ایک لاکھ افراد کے خون کا تاوان کس سے لیا جائے گا۔ حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سرکردہ ممبر نے یہ تو کہہ دیا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادیں بیکار ہوچکی ہیں ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حریت کے ان افراد دائرہ کار میں ہے ۔جیسا کہ بین الاقوامی ججز کا خیال ہے کہ اگر حریت کے سبی دھڑے ایک متفقہ قرارداد بھی پاس کریں کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں بیکار ہوچگی ہیں اور اب ان کی کوئی ضرورت نہیں ۔ تب بھی وہ کسی بھی صورت میںاس بین الاقوامی قانونی ڈاکومنٹ تبدیل نہیں کرسکتی ہیں اور نہیں وہ بیکار قرارد دی جاسکتی ہیں کیونکہ یہ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ حریت کانفرنس کی قیادت ہی ایک سوالیہ نشان ہے جو مسئلہ کی حقیقت سے چشم پوشی کی مرتکب ہورہی ہے۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے عوام کی آواز کو ہر سطح پر اٹھانے کی کوشش کریں اور ان کے جذبات کی ترجمانی کرے۔ہاں اگر تمام حزب اقتدار،حزب اختلاف بشمول تمام حریت پسند لیڈروں کو کشمیری عوام اپنے ریفرنڈم کے ذریعہ انہیں یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ اس طرح کرے اور وہ سب مل کر کوئی ایسا متفقہ لائحہ عمل مرتب کرکے ہندوستان اور پاکستان کو پیش کریں کہ کشمیری جس تکلیف میں گزشتہ 65 سالوں سے مبتلا ہیں انہیں اس سے چھٹکارا دلایا جائے تو کوئی بات بن سکتی ہے ۔ اصل مسئلہ جموں و کشمیر کی ریاست کے مستقبل اور مستقل حیثیت کا ہے ۔ بھارت کی اٹوٹ انگ کی رٹ ‘ یاچندلوگوں کی من گھڑت باتوں کے باوجود اصل حقیقت یہی ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جسے اقوام متحدہ , یوربین یونین اور اور دوسرے بین الاقوامی اداروں نے متنازع تسلیم کیا ہے۔ سب سے بڑھ کر کشمیر ی عوام نے اپنے خون سے گواہی دے کر اسے متنازع تسلیم کیا ہے ۔ پھر یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کی قراردادوں کا معاملہ محض ایک قراردا کا نہیں بلکہ ایک اصول کا ہے بعنی حق خودارادیت۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا بنیادی اصول ہے۔ دفعہ 1 ‘ اقوام متحدہ کے مقاصد کا تعین کرتی ہے اس کی شق 2۔ میں صاف صاف الفاظ میں اس مستقل اصول کو بیان کیا گیا ہے ۔یعنی لوگوں کے حق خودارادیت اور مساوی حقوق کے حصول کے احترام میں ۔ اسی طرح دفعہ2 (4) تمام رکن ممالک کو پابند کرتی ہے کہ تمام ممبر اپنے بین الاقوامی تعلقات میں کسی ریاست کی سیاسی آزادی یا ملکی سرحدوں کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے احتراز کریں گے یا کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کریں گے جو اقوام متحدہ کے مقاصد کے خلاف ہو۔ واضح رہے کہ حق خودارادیت اقوام متحدہ کے مقاصد میں سے ایک ہے ۔ کشمیر کی قرار داد کا تعلق حق خودارادیت سے ہے جس پر وقت گزرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 1970اور 1974ء کی دو تاریخی قرار داددوں میں بین الاقومی قانون کو واضح کیا گیا ہے ۔ اسے اقوام متجدہ کے تمام ممالک نے بشمول امریکہ‘ بھارت اور پاکستان نے تسلیم کیاہے۔ 1970ء کا اعلامیہ دوستانہ تعلقات اور تعاون کے حوالہ سے بین الاقومی قانون کے اصولوں کا اعلامیہ ہے اور 1974 ء کے اعلامیہ کا عنوان جارحیت کی تعریف پر قرارداد ہے۔ دونوں قرار دادیں متفقہ طور پر منظور ہوئی ہیں۔ 1970ء کے اعلامیہ کی مزید اہمیت ہے کہ اسے اقوام متحدہ کے 25 سال پورے ہونے پر جس جنرل اسمبلی نے اس کا چارٹر قبول کیا تھا اسی نے اسے منظور کیا ہے۔ان قرار دادوں میں ان بنیادی اصولوں کی بھی وضاحت ہے اور اس عنوان سے ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں ترمیم نہیں ‘ ان کی توضیح کی جارہی تھی۔ ان اصولوں میں حق خودارادیت اورطاقت کے استعمال کے اصول سرفہرست ہیں جس میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ طاقت کے استعمال کے نتیجے میں جو علاقہ حاصل ہوا ہے اسے جائز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔کشمیریوں کو جو حق خودارادیت ملا ہے وہ اس حق کی بنا پر ہے جو کسی علاقے کے غیر ملکی غلبے سے آزاد ہوتے ہوئے وہاں کے لوگوں کو اپنے لیے یہ انتخاب کرنے کا ہوتا ہے کہ بعد میں قائم ہونے والی کس ریاست میں شامل ہوں۔ یہ حق ایک قائم شدہ آزاد ریاست سے علیحدگی کے قابل بحث حق سے باکل ممتاز اور علیحدہ ہے اور یہ بھارت سے اس کے علاقوں میں کسی کی علحدگی کے لیے مثال نہیں بنتا۔ اب دیکھئے کہ برصغیر ہند جس طرح تقسیم ہوا اور اس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کے عوام کو جس حق خودارادیت کا استحقاق حاصل ہوا تھا وہ ابھی تک استعمال ہی نہیں ہوا اور نہ ہی کسی وجہ سے ختم ہوا۔ اس لیے آج بھی قابل استعمال ہے۔ مگر کتنی بدقسمتی اور ستم ظریفی ہے کہ اسکے نفاذ سے قبل ہی اس کوختم کرنے کی کوششیں شروع ہوچکی ہیں۔