مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ میں بسنے والی ہر پس منظر کی خاتون کو اپنے حقوق کا مکمل علم ہونا چاہئے :یاسمین قریشی ایم پی
برمنگھم ... مذہب اسلام ہمیں بہت سے حقوق عطا کرتا ہے اور ہمارے مذہب اسلام میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین تعلیم حاصل کریں اور اپنے بچوں کی بہترین تعلیم وتربیت کریں۔ ان خیالات کا اظہار ممبر پارلیمنٹ یاسمین قریشی نے برمنگھم میں منعقدہ ایک سیمینار میں کیا جس کا موضوع تھا "خواتین کیا چاہتی ہیں؟" لیبر پارٹی کی اہم رکن اور خواتین و مساوی حقوق کی شیڈو منسٹر گلوریا ڈی پائرو اس سیمینار کی مہمان خصوصی تھیں۔ یاسمین قریشی نے مذید کہا کہ ایک تعلیم یافتہ، صحت مند اور فعال ماں ہی اپنے بچوں کی معیاری اور اچھی تعلیم و تربیت کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی خواتین کی اہمیت اور حقوق کو اچھی سمجھنے اور ان کے لئے جدوجہد کرنے والی جماعت ہے اور یہی وجہ ہے کہ لیبر پارٹی کی شیڈو وزیر برائے خواتین اور یکساں حقوق، گلوریا ڈی پائرو اس سلسلے میں برطانیہ بھر میں رابطہ مہم اور خواتین کے ایشوز پر ان سے بات چیت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برمنگھم شہر چونکہ پاکستان کمیونٹی اور مسلم آبادیوں کا بڑا شہر ہے اور خاص طور پر مسلم خواتین کی فلاح و بہبود اور حقوق لیبر پارٹی کے لئے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ گلوریا ڈی پائرو نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لیبر پارٹی برطانیہ میں رہنے والی تمام ثقافتوں اور رنگ و نسل کی خواتین کو مردوں کے برابر اور مساوی حقوق دینے کے پروگرام اور منشور کی پابند ہے اور لیبر پارٹی کی کوشش ہے کہ تمام مذاہب، پس منظر اور عمر کی خواتین کو جلد اور ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے برطانیہ بھر میں خواتین سے ملنے ان کے مسائل معلوم کرنے اور ان سے بات چیت کرنے کے لئے اپنا کل برطانیہ ٹور شروع کیا ہے۔ جس سے مجھے خواتین سے خود براہ راست بات کرنے کا موقع ملے گا۔ گلوریا ڈی پائرو نے کہا کہ مجھے مسلم خواتین سے مل کر بے حد خوشی ہوئی ہے اور ذاتی طور پر اس بات کا ادراک ہوا ہے کہ برطانیہ میں ایشیائی اور مسلم خواتین کو کس کس نوعیت اور سطح کے مسائل درپیش ہیں اور آنے والی لیبر حکومت ایسے اقدامات کس طرح اٹھا سکتی ہے جس سے تمام خواتین کے اعتماد میں اضافے ہو، اور وہ برطانیہ میں اپنا بھرپور اور موثر کردار ادا کریں۔ برطانیہ میں بسنے والی ہر خاتون انگریز، ایشین، چائنیز، یورپین اور ہر پس منظر رکھنے والی خاتون کو اپنے حقوق کا مکمل علم ہونا چاہئے اور اسے یہ حقوق حاصل بھی ہونے چاہئیں۔ سیمینار سے مسلم وومن نیٹ ورک کی چیف ایگزیکٹو شائستہ گوہر نے شیڈو وزیر اور یاسمین قریشی ایم پی کا خیرمقدم کیا اور ان کے دورہ برمنگھم کو بروق اور خواتین کے مسائل اور ویلفیئر کے حوالے سے قابل تحسین قرار دیا۔