مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
مسئلہ کشمیر اور بھارتی ہٹ دھرمی
بھارت کی سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کے ایک سینئر رہنما پرشانت بھوشن نے مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ بھارتی افواج کی موجودگی سے متعلق حال ہی میں موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر میں فوج کی تعیناتی کے معاملے پر کشمیر میں ریفرنڈم کروایا جائے چونکہ بھارتی افواج کی موجودگی سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ پرشانت بھوشن کے اس بیان پر بھارت میں ایک طرح کی کھلبلی مچ گئی ہے۔ ہندو فرقہ بند اور انتہا پسند مسنگ پری وار، راشٹریہ، رکشا دل اور دوسرے گروپوں نے احتجاجاً ہنگامے کئے ہیں دو سال پہلے بھی پرشانت بھوشن نے اسی طرح اپنے ٹی وی چینلوں کے انٹرویوز کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ بھارت کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ بھارتی آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کشمیر کے عوام کی آرزئوں کے مطابق یہ فیصلہ کیا جانا چاہئے کہ کشمیر میں فوج رہے یا نہ رہے مقامی لوگوں کی مرضی کے خلاف فوج تعینات نہیں ہونی چاہئے۔ دو سال پہلے ان کے مذکورہ بیان کے ردعمل میں انتہا پسند ہندوئوں نے ان کے دلی میں دفتر پر گھس کر ان کی پٹائی کی تھی اور انہیں شدید زخمی کر دیا تھا ان کے حالیہ بیان کے خلاف بھی حکمران جماعت کانگریس سمیت شدید ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔ پرشانت بھوشن کی طرح باضمیر انٹرنیشنل پیپلز ٹریبونل فارجسٹس آف ہیومن رائٹس کی شریک چیئرپرسن ڈاکٹر انگنا چیٹر جی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم سے متعلق 2700 گمنام قبروں کی رپورٹ شائع کی تھی انہوں نے نہ صرف یورپین پارلیمنٹ برسلز اور برطانوی پارلیمنٹ کے مختلف پروگراموں میں اپنی رپورٹ کے بارے میں سوالوں کے جوابات دیئے تھے بلکہ بھارتی افواج اور بھارتی حکومت کی انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرنے کو بے نقاب کیا تھا انہوں نے امریکہ اور دیگر ممالک کے بھی دورے کئے تھے انہیں بھارتی حکومت کی جانب دھمکیاں بھی ملی تھیں لیکن انہوں نے نامساعد حالات کے باوجود حق اور سچ منظر عام پر لایا تھا۔ ہندوستان کی ممتاز سماجی رہنما، شاعرہ ادیبہ ارن دتی رائے نے ہندوستان کا بڑا ایوارڈ ملنے کی پیشکش کویہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ ہندوستانی افواج نے مقبوضہ کشمیر میں زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ کشمیریوں کو ان کا حق ملنا چاہئے۔ بھارتی ماہر نفسیات شونبا سون پارس نے بھی اپنی کتاب میں بھارت افواج کے مظالم تذکرہ کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کو بدنام زمانہ ابو غریب جیل سے تعبیر کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے ایک طرف بیک ڈور ڈپلومیسی چل رہی ہے جبکہ بیک وقت پاکستان اور ہندستان کے درمیان سیکرٹری سطح پر تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے 18 جنوری کو دلی میں مذاکرات شروع ہورہے ہیں اس سے پہلے بھی بھارت اور پاکستان تین تجارتی معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد اس لئے نہیں ہوسکا کہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھ جاتی ہے اور حالات سازگار نہیں رہتے۔ اب جبکہ دونوں ممالک باہم سیاسی اور تجارتی طور پر سفارتکاری کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ بھارت کے آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے پاکستان پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا نہ صرف الزام عائد کیا ہے بلکہ حالات میں مزید کشیدگی پیدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے ایسا ہی جواب دیا جائے گا جبکہ پاکستان نے الزامات مسترد کردیئے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو جہاں سیاسی، سفارتکارتی اور تجارتی روابط بحال کرنے ہیں وہاں پر کشمیر کا مسئلہ بھی حل کرنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں شدید ردعمل بھارتی افواج کے قبضے کے خلاف ہے پاکستان کی نئی حکومت جہاں نئے روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے وہاں ہندوستان سے کشمیر کے مسئلے پر دو ٹوک اور واضح نئے تناظر میں بات کرنی ہوگی اور کشمیریوں کی صفوںمیں اٹھنے والی آوازوں کو مطمئن کرنا ہوگا لیکن مسئلہ کشمیر بھارت کی ہٹ دھرمی اور مظالم سے ختم ہونے والا نہیں۔ اگر برطانیہ اپنے ہی ملک کے ایک حصے سکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم کروا سکتا ہے تو پھر بھارت اقوام متحدہ میں اپنے وعدے کے باوجود کشمیر میں ریفرنڈم کروانے سے کیوں انکار کر رہا ہے۔