مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نوازشریف نے سبق نہیں سیکھا، مشرف کامعاملہ جنرل ضیاکے مقابلے میں معمولی ہے:اے پی ایم ایل
لندن ... وزیر اعظم پاکستان عدلیہ کی جانبدارانہ اور انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے اور بین الاقوامی برادری اس پر ہنس رہی ہے، محب وطن سابق صدر پر جو کہ پاکستان کے عوام کے ہیرو ہیں غداری کا الزام عاید کرکے نواز شریف نے یہ ثابت کردیا ہے کہ انھوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں پاکستانی معیشت پھل پھول اورتیزی سے ترقی کررہی تھی، پاکستانیوں کامعیار زندگی بلند ہورہاتھا اور تعلیم کو فروغ حاصل ہورہا تھا ،پرویزمشرف نے پاکستان میں میڈیا کوبے مثال آزادی دی ۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان مسلم لیگ برطانیہ کے عہدیداران و کارکنان نے پاکستان ہائی کمیشن کے باھر ایک احتجاجی مظاہرے میں کیا۔ یہ مظاہرہ پارٹی نے اپنے قائد اور سابق صدر پاکستان پرویز مشرف پر غداری مقدمے اور انکے جانبدارانہ ٹرائل کے خلاف کیا جس میں اے پی ایم ایل یوکے اور یورپ کے جنرل سیکریٹری افضال صدیقی، الطاف شاہد، فہمیدہ عباسی، سعید بھٹی ،تبریز اورہ، محسن نقوی، عامر نذیر خاں ،حامد مرزا، طارق بہاری،عثمان شیخ ،رمیسہ شاہ، محمد علی چوہان اور رانا عرفان اور دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا پاکستان کے بدترین آمر کی گود میں پروان چڑھنے والے میاں نواز شریف سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار کے ساتھ ملی بھگت کرکے پرویز مشرف کو بدترین انتقام کانشانہ بنارہے ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا میںپاکستان کاوقار بری طرح مجروح ہورہا ہے انھوں نے کہا کہ نواز شریف آئین کی دفعہ 6 کی تصریحات کونظر انداز کرکے اوراس کی خلاف ورزی کرکے دراصل ایک دفعہ پھر آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 6 کسی فرد واحد پر لاگو نہیں ہوتی بلکہ اس عمل میں بالواسطہ یابلاواسطہ شامل تمام افراد کاٹرائل ہونا چاہئے اس میں کسی کو پکڑنے اور چھوڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔آئین کی یہ دفعہ کسی ایک دور یا وقت تک محدود نہیں ہے ،پرویز مشرف پر آئین کومعطل کرنے پر غداری کاالزام عاید کیاجانا قطعی غلط ہے آئین کی دفعہ232کے تحت صدر کوایمرجنسی نافذ کرنے کااختیار حاصل ہے۔ 2007 میں ایمرجنسی کے نفاذ کامعاملہ جنرل ضیا کی بغاوت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی سامعاملہ ہے ۔اس دفعہ کے تحت یاتو سب کاٹرائل کیاجانا چاہئے یاکسی کابھی نہیں ہونا چاہئے، 2007 میں عبوری ایمرجنسی کے دوران صدر پرویز مشرف کے ساتھ رہنے والے بہت سے لوگ اب مسلم لیگ ن کے ارکان ہیں، 1999 میں فوج کے جوابی انقلاب کو قانونی تحفظ دینے والے افتخار چوہدری جیسے جانبدار ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہئے ۔ اس موقع پر پاکستانی ہائی کمیشن میں ایک یادداشت بھی پیش کی گئی۔