مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
میلاد النبیؐ کے حوالے سے چند ضروری گذارشات
ربیع الاول کا ماہ مبارک شروع ہوتے ہی دنیا بھر کے مسلمان حضور سرور کائنات نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے خوشیاں مناتے ہیں۔ اسی ماہ میں حضور کی پیدائش اور وصال ہوا۔ حضورؐ کی ولادت کا دن میلاد النبیؐ کے طور پر مسلمانوں کی ایک اکثریت مناتی ہے۔ پہلے تو یہ دن 12 ربیع الاول کی حد تک مخصوص تھا۔ اب ربیع الاول کا ماہ مبارک شروع ہوتے ہی میلاد مصطفیٰﷺ کی تقریبات کی شروعات کردی جاتی ہیں۔ برطانیہ اور یورپ میں تو عالیشان انتظامات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے بڑے نامور نعت خواں ربیع الاول کے مہینے کے آغاز سے پہلے ہی برطانیہ پہنچ جاتے ہیں، تاکہ اپنی سریلی اور میٹھی میٹھی آوازوں سے نعتیں اور درودو سلام کا ہدیہ پیش کرسکیں۔ میلاد النبیؐ کی خوشی میں بڑی بڑی ریلیاں اور جلوس بھی نکلتے ہیں۔ بڑے بڑے علمائے اکرام کی اکثریت کے لیے یہ بڑا ہی مصروف ترین مہینہ ہوتا ہے۔ البتہ مشاہدے میں آیا ہے کہ علمائے اکرام کی تقاریر کو سننے والے کم اور نعت خوانوں کو سننے والے حاضرین زیادہ میلادؐ کے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔ میں یہ تو جسارت نہیں کرسکتا کہ میلاد مصطفےؐ جو لوگ نہیں مناتے یا میلاد کے پروگراموں پر جو اعتراض کرتے ہیں، ان کے خلاف لب کشائی کروں چونکہ میرا علم ناقص اور ناتمام و نامکمل ہے۔ لیکن جو لوگ میلادؐ کے پروگراموں کا انتظام کرتے ہیں۔ ان سے چند ’’گزارشات ضرور کرنی ہیں، ہم علمائے اکرام پر اعتراض بھی کرتے ہیں، لیکن دینی معاملات، بچوں کی پیدائش کے موقع پر اذان سے لے کر تدفین تک انہی کے سپرد کردیتے ہیں۔ لہٰذا علمائے اکرام کا احترام بھی واجب ہے۔ علمائے اکرام کو آج کے جدید حالات کے مطابق جہاں ہمیں رہنمائی فراہم کرنی ہے۔ وہاں ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ علمائے اکرام کے ساتھ مل کر انہیں اپنے اور آئندہ اپنی نسلوں کے لیے گائیڈ لائن دینے کیلئے تیار کریں، تاکہ ہم مذہبی منافرت اور باہم تقسیم سے دور رہیں، میلاد مصطفےؐ کے پروگراموں کو حضورؐ کی سیرت مبارکہ پر مرکوز رکھیں۔ آج کے دور میں ایک عام مسلمان کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ حضورؐ سرور کائنات نے کس طرح غیر مسلموں کے ساتھ رہنے اور لین دین کرنے کے رہنما اصول بتائے ہیں۔ کس طرح کھانے پینے کے آداب سے لے کر معاشی، سیاسی اور سماجی معاملات تک ہم حضورؐ کی زندگی کے نقش قدم پر چل کر زندگیاں گزار سکتے ہیں۔ میلاد کے پروگراموں میں اردو کے ساتھ علمائے اکرام کو انگریزی کی تقریر کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور انتظامیہ کو باقاعدہ عنوان دے کر علمائے اکرام کو تیاری کے ساتھ مخصوص وقت کے لیے تقریر کروائی جائے۔ منصب رسالت کیا ہے۔ کس طرح صحابہ اکرام حضور سرور کائنات سے محبت کرتے تھے۔ حضورؐ سے محبت اور عشق کے کیا تقاضے ہیں، آپؐ آخری نبی بھی ہیں، آپؐ کے ہاتھوں سے دین کی تکمیل ہوگئی، آپؐ کی شریعت نے پہلے کی تمام شریعتوں کو منسوخ کردیا اور اب قیامت تک آپؐ کی لائی ہوئی ہدایات انسانیت کے لیے مشعل راہ ہوں گی اور کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا۔ حضورؐ نے فرمایا رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسولؐ ہے اور نہ نبی۔ آج کل کا مسلمان کس طرح مسلک اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہے۔ اس کی ذمہ داری مسجد امام اور مقتدی سب پر عائد ہوتی ہے۔ مذہبی منافرت آقا حضرت محمدؐ کی دینی تعلیم کے خلاف ہے۔ اقبالؒ نے فرمایا۔ منفعت ایک ہے اس قوم کا، نقصان بھی ایک ایک ہی سب کا نبیؐ دین بھی، ایمان بھی ایک حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک نبیؐ پر ایمان اور محبت اور عشق کا مطلب یہ نہیں کہ صرف یہ مان لیا جائے۔ آپؐ اللہ تعالیٰ کے رسولؐ ہیں، بلکہ اس بات پر پختہ اعتماد ہو کہ آپؐ کے ہر قول اور فعل میں حکمت ہے۔ انسان کی فلاح و بہبود کے لیے آپؐ نے جو رہنما اصول بتائے ہیں انسان اس سے بے نیاز نہیں ہوسکے گا۔ اسی لیے حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ ’’ایمان کا مزہ اس نے چکھا جو اللہ کے اپنے رب ہونے پر، اسلام کے اپنا دین ہونے پر اور محمدؐ کے اپنا رسولؐ ہونے پر مطمئن ہوگیا۔ (مسلم) نبیؐ کی ذات مبارکہ پر ایمان لانے کے بعد لازمی ہوگیا کہ نبیؐ کی اطاعت کی جائے۔ قرآن پاک کی سورہ النساء میں آتا ہے۔ ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا، اذن یا حکم کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے۔ اسی سورہ میں دوسری جگہ آتا ہے جس نے رسولؐ کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ سورہ آل عمران میں آتا ہے۔ اے نبی کہہ دو، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ بخاری شریف کی ایک حدیث ہے۔ حضورؐ نے فرمایا۔ ایک شخص لوگوں کو قرضہ دیا کرتا تھا، دیکھو جس کو تم مفلس پانا، اس کا قرض معاف کردینا۔ دوسروں سے صلح رحمی کی تلقین کی گئی ہے۔ رشتہ داروں سے درجہ بدرجہ احسان، حسن سلوک اور نیکی کا معاملہ رکھنا اور حسب توفیق و استطاعت ان کے حقوق قرض سمجھ کر ادا کرنا۔ حضورؐ کی تعلیمات کی اہم جزو ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے ایک شخص نے حضورؐ سے پوچھا۔ یا رسول اللہ مجھ پر کس کا حق سب سے زیادہ ہے۔ تمہاری ماں کا، پوچھا کس کا، حضورؐ نے تین بار کہا۔ تمہاری ماں کا، چوتھی بار پوچھا تو آپؐ نے فرمایا تمہارے باپ کا (بخاری) اللہ تعالیٰ کے رسولؐ نے فرمایا۔ قیامت کے دن پانچ باتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ 1۔ عمر کیسے اور کن کاموں میں ختم کی۔ 2۔ جوانی کہاں صرف کی۔ 3۔ مال کہاں سے کمایا۔ 4۔ مال کہاں خرچ کیا۔ 5 جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا۔ میلاد النبیؐ کے پروگراموں میں جانے والوں سے ملتمس ہوں کہ جب پروگراموں کے بعد نماز کی اذان دی جائے تو بجائے گھروں کو رخصت ہونے کے نماز بھی پڑھ لی جائے۔ نعت خوانوں کی نعتوں کو سننے کے بعد علمائے اکرام کے خطابات بھی سنے جائیں۔ میلادؐ کے جلوس جب مساجد میں پہنچ جائیں تو مسجدوں میں نماز کے وقت نماز بھی پڑھی جائے۔ حضورؐ سے محبت کا تقاضا ہے کہ دوسروں سے برتری اور سبقت لے جانے کے لیے یہ اہتمام اور انتظام نہ کیا جائے اور اسے تجارت نہ بنایا جائے۔