مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
اسلام بھائی چارے ،حسن سلوک، اور آپس میں تعاون کا نام ہے :مقررین کتاب وسنت کانفرنس
بریڈفورڈ ... اسلام محض عبادات کے مجموعے کا نام نہیں ہے بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے مختلف پہلؤوں پربحث کرتا ہے اور معاشرے کے پھلنے پھولنے اور اسکی ترقی کیلئے بنیادفراہم کرتا ہے ، ان خیالات کا اظہار مسجد قبلتین مدینہ منورہ کے امام شیخ محمود خلیل نے الھدیٰ مسجد بریڈفورڈ میں کتاب وسنت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، کانفرنس کا آغاز یحیٰ سعود،محمدزبیر ،حافظ سعید کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا ، امام مسجد قبلتین شیخ محمود خلیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا دین اسلام بھائی چارے ،حسن سلوک اور آپس میں تعاون کا نام ہے، اسلامی تعلیمات ہمیں ایسا معاشرہ قائم کرنے کی ترغیب دیتی ہیں جس میں ہرفرد دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کیلئے کمربستہ ہو ، نبی مکرمؐ کی تعلیمات نے پوری امت مسلمہ کو ایک جسم قرار دیا جس میں ہرفرد دوسرے کے حقوق کا ایسا خیال رکھے جیسے جسم کا ایک عضو دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہو ، صحابہ کرام کا جذبہ مؤاخات ہمارے لئے روشن مثال ہے جس پر آج ہر کلمہ گو کو چلنا چاہئے ، ان کے خطاب کا ترجمہ شیخ ابویونس الازھری نے کیا ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیرمولانا عبدالہادی العمری نے خطاب کرتے ہوئے کہا اسلامی تعلیمات کے معاشرے میں مثبت پیمانے پر پھیلاؤ میں بڑی رکاوٹ فرقہ پرستی اور گروہ بندی ہے جب تک دین کا نام لینے والی جماعتیں خالص قرآن وسنت کی طرف نہیں آئیں گی ، اختلافات اسی طرح موجود رہیں گے ، آج آئمہ کرام کے نام پر اپنی جماعتیں اور مسالک کھڑے کرنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ آئمہ کرام ہرقسم کے مسلکی تعصب سے بالا تر ہوکر صرف قرآن وسنت کی طرف رجوع کا درس دیتے تھے اور اپنی آراء کو انہوں نے کبھی دین کا مأ خذقرار نہیں دیا ، قرآن مجید باربار جس اطاعت کا حکم دیتا ہے وہ صرف اللہ اور اسکے رسول ؐ کی غیرمشروط فرمانبرداری ہے ، اگر آج کا مسلمان یہ تسلیم کرلے کہ میں نے اللہ اور اسکے رسول ؐ کے حکم کے مقابلے اپنی رائے ، بزرگو ں کی باتیں اور مسلکی تعصب کو چھوڑدینا ہے تو فرقہ پرستی ایک دن میں ختم ہوسکتی ہے ۔ حافظ حبیب الرحمن حبیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا ثابت شدہ احادیث قرآن مجیدکی تشریح کرتی ہیں جو لوگ حدیث کا انکارکرتے ہیں وہ دراصل قرآن حکیم کا انکارکرتے ہیں اور انکار حدیث کا مطلب محض اپنی من مانی تفسیر وتاویل کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ کا پیغام قرآن ہے اور اس پیغام کی حقیقی وضاحت آپؐ کے فرامین کرتے ہیں ۔ پروفیسر عبدالرحمن عتیق نے تحریک ختم نبوت پر خطاب کرتے ہوئے کہا ختم نبوت ہی وہ عقیدہ ہے جس پر قرون اولیٰ سے لیکر آج تک امت مسلمہ کا اجماع رہا ہے اور اس مسئلہ میں کسی مسلمان کو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جو شخص بھی آنحضرت ؐ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ، تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں مولانا محمد حسین بتالوی،سیدنذیرحسین دہلوی اور فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری کی خدمات ناقابل مثال ہیں جنہوں نے منکرین ختم نبوت کے فتنہ کی تردید اور بیخ کنی میں اہم کردار ادا کیا ۔ مولانا محمدابراہیم میرپوری نے فکرآخرت پر خطاب کرتے ہوئے زوردیا کہ آج کا مسلمان سفرآخرت پر فکرمندہونے کی بجائے دنیاکی روشنیوں میں گم ہوچکا ہے خالق کائنات کے نزدیک اس دنیا کی حیثیت مچھرکے پر کے برابر بھی نہیں ، اسلئے ہمیں آخرت کی فکرہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہئے اسی سے راست بازی اور نیکی سے محبت کرنے والی زندگی نصیب ہوگی ۔ مولانا عبدالستارعاصم نے والدین کے حقوق پر خطاب کرتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد جس حکم کو اسلام میں اہم رکھا گیا وہ والدین کی خدمت ہے والدین کی خدمت سے جنت اور رحمتوں کا نزول ہے ہرمسلمان اپنے والدین کی خدمت کو اپنے لئے رحمت وبرکت کا دروازہ سمجھے ۔ مولانا شعیب احمدمیرپوری نے اولاد کے حقوق بیان کرتے ہوئے والدین پرزوردیا کہ وہ اپنے بچوں کو پہلے دن سے ہی اچھے اخلاق اور آداب سے آگاہ کریں انہیں بہترین تعلیم اور تربیت فراہم کریں ،اولاد کی ذمہ داریوں کے سلسلہ میں سستی سے انسان کیلئے بہت بڑا نقصان ہے ۔ مولانا شفیق الرحمن شاہین نے نعت کی اہمیت پرخطاب کرتے ہوئے کہا نعت ایک عبادت کا نام ہے اسلئے ہرنعت گو کیلئے ضروری ہے کہ سیرت طیبہ کا مطالعہ کرے اور اپنی نعت میں شرکیہ الفاظ اور گانوں کی نقالی کی بجائے نبی معظم کی تعریف اور انکے پیغام انسانیت کو عام کرے ۔ مولانا فضل الرحمن حقانی نے صلہ رحمی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اس مسئلہ میں اسلامی احکامات سے روگردانی کی وجہ سے معاشرے میں اس کے اثرات سے سامعین کو آگاہ کیا ۔ ابتدائی کلمات مولانا شریف اللہ شاہد نے ادا کئے اور کانفرنس کے اغراض ومقاصد کو بیان کرتے ہوئے قرآن سنت کی تعلیمات کے فروغ کیلئے الھدیٰ مسجدبریڈفورڈ کی کاوشوں کا تذکرہ کیا ۔نعیم رضانے فلسطینی مسلمانوں پرہونے والے اسرائیلی مظالم سے سامعین کو آگاہ کیا ۔ حافظ اخلاق احمدنے اختتامی کلمات ادا کئے ۔ کانفرنس میں نارتھ ویسٹ کے احباب وکارکنان کی کثیرتعداد نے شرکت کی ۔امیرمسجد چوہدری محمد اکبر نے تمام انتظامات کی نگرانی کی ۔