مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سمندری طوفان تباہیاں مچا کر واپسی کے راستے پر، معیشت کی بحالی کا کام شروع !!
ریڈنگ ... خطرناک سمندری طوفان کی متعدد تباہیوں کے بعد بالآخر محکمہ موسیات نے ڈرے ہوئے عوام کو تسلی دی ہے کہ بدھ کے روز کسی بھی وقت اس طوفان کا زور ختم ہو جائے گا۔ برطانیہ کے جنوبی ساحلوں پر خوفناک طوفان نے ایڈونچر کے شوقین افراد کو بھی خوفزدہ کردیا جب ٢٥ سے ٣٠ فٹ اونچی لہروں نے ہوٹلوں کی بالائی منزلوں تک بھی رسائی حاصل کر لی تھی۔ جس پرایبریستوتھ میں سمندر کے قریب مقیم 250 افراد کو وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔ طوفانی ہواؤں اور تیز بارش نے زمینی، سمندری اور ہوائی سفر کو بھی متاثر کیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی آئرلینڈ کے ساحلی علاقوں میں خاص طور پر سمندر سے اٹھنے والی لہروں اور بارشوں کی وجہ سے سیلاب کا سامناہے۔ جبکہ برطانیہ کے بعد دوسرے علاقوں میں 74میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور طوفان بادوباراں کی پیش گوئی کی گئی ۔ مختلف علاقوں میں سیلاب سے ہزاروں گھر متاثر ہوئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق برطانیہ کو 20سال میں پہلی مرتبہ اس قدر برے سیلاب اور طوفان کا سامنا ہے۔ اس موقع پر حکومت پر اس حوالے سے بھی تنقید کی گئی اس نے ہر شعبے کی طرح ماحولیاتی شعبہ میں بھی کٹ لگا دئے جس سے تحقیق کا عمل متاثر ہوا نیز امدادی کاروائوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم برطانوی وزیر ماحولیات اوون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ سیلاب اور طوفان سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نبٹنے کیلئے حکومت کے پاس وافر سوائل موجود ہیں۔ آکسفورڈ میں کسان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قوم کو مشورہ دیا کہ معیشت کے استحکام کیلئے وہ بیرون ممالک سے درآمد کی گئی سبزیوں اور پھلوں کی بجائے برطانیہ میں پیدا ہونے والی اجناس کو خریدیں۔ انہوں نے کسانوں سے کہا کہ دنیا کا بہترین پھل کینٹ کے سیب اور سکاٹش رسبری سمیت متعدد اشیا پیدا کرنے کے باوجود ہم ٢٤ فیصد اجناس دیگر ممالک سے درآمد کرتے ہیں جس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔