مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سمندری طوفان تباہیاں مچا کر واپسی کے راستے پر، معیشت کی بحالی کا کام شروع !!
ریڈنگ ... خطرناک سمندری طوفان کی متعدد تباہیوں کے بعد بالآخر محکمہ موسیات نے ڈرے ہوئے عوام کو تسلی دی ہے کہ بدھ کے روز کسی بھی وقت اس طوفان کا زور ختم ہو جائے گا۔ برطانیہ کے جنوبی ساحلوں پر خوفناک طوفان نے ایڈونچر کے شوقین افراد کو بھی خوفزدہ کردیا جب ٢٥ سے ٣٠ فٹ اونچی لہروں نے ہوٹلوں کی بالائی منزلوں تک بھی رسائی حاصل کر لی تھی۔ جس پرایبریستوتھ میں سمندر کے قریب مقیم 250 افراد کو وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔ طوفانی ہواؤں اور تیز بارش نے زمینی، سمندری اور ہوائی سفر کو بھی متاثر کیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی آئرلینڈ کے ساحلی علاقوں میں خاص طور پر سمندر سے اٹھنے والی لہروں اور بارشوں کی وجہ سے سیلاب کا سامناہے۔ جبکہ برطانیہ کے بعد دوسرے علاقوں میں 74میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور طوفان بادوباراں کی پیش گوئی کی گئی ۔ مختلف علاقوں میں سیلاب سے ہزاروں گھر متاثر ہوئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق برطانیہ کو 20سال میں پہلی مرتبہ اس قدر برے سیلاب اور طوفان کا سامنا ہے۔ اس موقع پر حکومت پر اس حوالے سے بھی تنقید کی گئی اس نے ہر شعبے کی طرح ماحولیاتی شعبہ میں بھی کٹ لگا دئے جس سے تحقیق کا عمل متاثر ہوا نیز امدادی کاروائوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم برطانوی وزیر ماحولیات اوون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ سیلاب اور طوفان سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نبٹنے کیلئے حکومت کے پاس وافر سوائل موجود ہیں۔ آکسفورڈ میں کسان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قوم کو مشورہ دیا کہ معیشت کے استحکام کیلئے وہ بیرون ممالک سے درآمد کی گئی سبزیوں اور پھلوں کی بجائے برطانیہ میں پیدا ہونے والی اجناس کو خریدیں۔ انہوں نے کسانوں سے کہا کہ دنیا کا بہترین پھل کینٹ کے سیب اور سکاٹش رسبری سمیت متعدد اشیا پیدا کرنے کے باوجود ہم ٢٤ فیصد اجناس دیگر ممالک سے درآمد کرتے ہیں جس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔