مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
فرقہ واریت اور پرتشدد کاروائیوں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا: پیر امین الحسنات
گلاسگو ... پاکستان میں موجودہ مذہبی فرقہ واریت اور تشدد کی کاروائیوں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا ہم تمام مذاہب کے علمائے کرام کو اکٹھا کرکے مذہبی رواداری، تحمل اور برداشت کا کلچر پیدا کرنے کی کوشش میں کامیاب ہوجائیں گے ان خیالات کا اظہارپاکستان کی مذہبی امور کی وزیر مملکت پیر امین الحسنات نے سکاٹ لینڈ میں مختلف مژاہب کے پیروکاروں اور تقریب سے خطاب میں کیا۔ پاکستان قونصلیٹ گلاسگو میں ایک بین المذاہب تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیر امین الحسنات کا کہنا تھا کہ پشاور میں چرچ پر حملے اور دیگر مسالک کے مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے غیر اسلامی اقدام ہیں، اس طرح کی تشدد آمیز کاروائیاں کرنے والے ہم میں سے نہیں۔ حکومت اپنی طرف سے بھرپور کوششیں کررہی ہے۔ قونصلر آف پاکستان ڈاکٹر ثقلین جاوید نے کہا کہ اسلام پیار ومحبت کا سبق دیتا ہے ہمیں اس وقت قائداعظم کے اصولوں اتحاد، تنظیم اور یقین محکم پر عمل پیرا ہونے کی شدید ضرورت ہے۔ پاکستان اگرچہ اس وقت مشکلات کا شکار ہے لیکن یہ سب عارضی ہیں، ہمیں مل جل کر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔مسلم کونسل آف سکاٹ لینڈ کے صدر ڈاکٹر پروفیسر جاوید حسین گل نے کہا کہ پاکستان میں نسلی اقلیتوں اور دیگر فرقوں کے افراد کے ساتھ جو سلوک کیاجارہا ہے، وہ قابل مذمت ہے۔ برطانیہ میں ہم لوگ بھی نسلی اور مذہبی اقلیت ہیں لیکن یہاں مساوات کا یہ عالم ہے کہ سینٹرل مسجد کے لئے ہم کو جوزمین ملی وہ مناسب رعایتی نرخوں پر تھی،یہاں پر ہمیں قانونی طورپر برابری کے حقوق حاصل ہیں، یہاں پر ہمارے نمائندے کونسل اور پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور ایسے حلقوں سے منتخب ہوئے جہاں پر اکثریت گورے ووٹرز کی ہے ۔ ڈاکٹر جاوید گل نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے تشدد کے اکثر واقعات میں انتظامیہ کی کوتاہی شامل ہوتی ہے۔ سید ناصر جعفری اور مولانا سید سرفراز حسین شاہ نے کہا کہ ہمیں اس وقت آپس میں قریبی تعلقات رکھنے، معاملہ فہمی اور اتحاد کی ضرورت ہے، ہم متحد ہوکر ہی اسلام اور ملک دشمنوں کے عزائم ناکام بناسکتے ہیں، عیسائی کمیونٹی کے نمائندے جارج فلپ نے کہا کہ میں ایک کٹر پاکستانی ہوں۔ ہمارا خاندان صدیوں سے پاکستان میں رہ رہا ہے اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے، لیکن بدقسمتی سے بعض تنگ نظر افراد ہمارے لئے پاکستان میں مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ جارج فلپ نے توہین رسالت کے قانون پر اپنے تحفظات کااظہار کیا۔ پروفیسر عادل بھٹی نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے اور بعض افراد اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں،لہٰذا اس کو ختم کیاجائے، گورنر پنجاب کے میڈیا کوآرڈینیٹر طاہر انعام شیخ نے کہا کہ ہمارا دین اسلام اور پاکستان کا آئین ہر شہری چاہے اس کا تعلق کسی بھی فرقے یا مذہب سے ہو، اس کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس مقصد کے لئے پوری قوت کو استعمال کرے اور ریاست کی رٹ بحال کرے، مولانا شبیر ربانی نے کہا کہ پیر امین الحسنات محبتوں کے سفیر ہیں، انشاء اللہ وہ پاکستان کے تمام فرقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، سکاٹش پارلیمنٹ کے ممبر حنظلہ ملک نے پاکستان میں مذہبی منافرت اور اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شدید مذمت کی اور کہا کہ میں خود یہاں پر ایک نسلی اقلیت کا فرد ہوں ، اگر میرے ساتھ یہاں کوئی زیادتی ہوتی ہے تومیں اس پر شدید احتجاج کروں گا، اس طرح اگر پاکستان میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے تو ہم سب کو مل جل کر اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔