مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھاگنے کی خبروں میں صداقت نہیں،پرویز مشرف قوم کا، اثاثہ صحتیابی زیادہ اہم ہے:حامیوں کا جواب
اسلام آباد ... پاکستان کی سپریم عدالت کا کہنا ہے کہ وارنٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ پرویز مشرف کی ناسازئ طبع کی وجہ سے کیا گیا۔ پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے میں جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا تاہم عدالت جاتے ہوئے راستے میں ان کی طبعیت خراب ہو گئی اور انھیں راولپنڈی میں فوج کے ادارہ برائے شعبۂ امراض قلب ’آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی‘ لے جایا گیا۔ انکی غیر حاضری میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت کی۔ مختصر وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے استفسار کیا پرویز مشرف کہاں ہیں؟۔ جس پر ڈی آئی جی سیکورٹی نے عدالت کو بتایا طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے مشرف عدالت نہیں آ سکے۔ اس جواب کے بعد پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا پرویز مشرف بیماری کا جواز بنا کر اسپتال منتقل ہوئے غداری کیس میں قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے استدعا کی کہ خصوصی عدالت پرویز مشرف کی گرفتاری کا حکم دے۔ تاہم عدالت نے خصوصی عدالت نے بیماری کی وجہ سے پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقدمے کی اگلی سماعت پیر 6 جنوری کو ہو گی اور آج کے لئے حاضری سے مستثنی قرار دے دیا۔ اس سے پہلے صبح سماعت کے دوران مشرف کے وکلا نے پیر تک مشرف کی پیشی ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ مشرف کے پیش ہونے کے بعد ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ مشرف پیش نہ ہوئے تو عدالت مناسب حکم جاری کرنے پر مجبور ہو گی۔ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ہم میدان میں کھڑے ہیں جھوٹی پیشن گویوں سے بہتر ہے کہ کوئی بھی بات عملی طور پر کی جائے۔ سابق صدر کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ پرویز مشرف ایک کمانڈو ہیں وہ کسی سے نہیں ڈرتے ، کمانڈو کا نصب العین یہ ہوتا ہے کہ وہ جان لیتا ہے یا جان دیتا ہے ، میں نے اپنی زندگی میں جنرل آصف نواز جیسا فٹ جرنیل نہیں دیکھا لیکن ہارٹ اٹیک کے آگے اس جیسے شخص کی نہیں چلی ، پرویزمشرف کو دل کی تکلیف بھی اللہ کی رضا ہے۔وہ با عزت اور عظمت کے ساتھ بری ہوں گے ۔ حالات کے پیش نظرپیر 6 جنوری سے قبل کسی قسم کی پیش گوئی ٹی وی چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے سوا کچھ نہ ہو گی۔