مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مائی لارڈ ہم قابل عزت سکھ اور ہندو ہیں ہمیں مسلمانوں سے الگ شناخت کیا جائے، برٹش انڈینز
لندن ... برطانیہ کے ایک انتہائی منجھے ہوئے قانون دان و سیاستدان کی جانب سے برطانیہ میں آباد پاکستانی و برطانوی کمیونٹی کو بدعنوان کہنے کی معافی کی بازگشت عام بھی نہ ہوئی تھی کہ برطانیہ میں ہی آباد انڈیا کی سکھ و ہندو کمیونیٹیز نےمطالبہ کردیا ہے کہ ایشیائی گینگ کے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا جائے اور پاکستانی ملزمان کا نام واضع طور پر لیا جائے کیونکہ ملزمان کی بھاری اکثریت کا تعلق پاکستانیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جبکہ ان کو ایشیائی لکھنے سے سارے ایشیائی باشندوں کی توہین ہوتی ہے۔ جن میں ہندو اور سکھ کمیونٹیز کے لوگ بھی شامل ہیں۔ معروف برطانوی اخبار کے مطابق برطانوی ہندوؤں اور سکھوں نے سیکس گینگز کو ایشیائی لکھے اور بولے جانے پر کڑی تنقید کی ہے۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ چائلڈ سیکس گرومنگ میں زیادہ تر پاکستانی مسلمان ملوث ہیں۔ اس لیے ان کیسوں کو رپورٹ کرتے وقت ایشیائی لکھنے کی بجائے انہیں پاکستانی لکھا اور بولا جانا چاہیے۔ واضع رہے کہ برطانیہ میں ہندوئوں اور سکھوں کی سب سے بڑی دوست قوم پاکستانی ہیں جو ہر اچھے برے وقت میں ان کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں۔ انڈین، پاکستانی اور برٹش مکس تقریب میں بھی پاکستانی پروفیشنلز انڈینز پر اس لئے فریفتہ نظر آتے ہیں کہ وہ بڑا ملک ہے، کوئی خرابی بھی اسی لئے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ دوستی عزیز ہے لیکن اسی دوست ملک کے دوستوں نے برملا کہہ دیا ہے کہ ہمیں ان سے الگ رکھا جائے۔ برطانیہ میں ہندوؤں اور سکھوں کے چار بڑے مذہبی گروپوں دی ہندو کونسل یوکے، دی نیٹ ورک آف سکھ آرگنائزیشنز، دی سکھ میڈیا مانیٹرنگ گروپ اور دی سکھ اویئرنس سوسائٹی نے مشترکہ طور پر ایک آن لائن پٹیشن میں سیاستدانوں اور میڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیکس گینگز کے لیے ایشیائی کی اصطلاح استعمال کرکے دوسری کمیونٹیز کو رسوا نہ کریں۔ ان گروپوں کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی بالیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سیکس گینگز کی شناخت کو ظاہر کرے جو برطانیہ میں چائلڈ سیکس گرومنگ کرتے ہیں اور ان کا زیادہ تر نشانہ سفید فام نابالغ لڑکیاں بنتی ہیں۔ ان افراد کی اکثریت کا تعلق برٹش پاکستان مسلم کمیونٹی کے ساتھ ہوتا ہے۔ گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ایشیائی کا لفظ مبہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان افراد کو شناخت نہ کیا گیا تو پھر بھٹکی ہوئی ٹین ایجز لڑکیوں کو اس طرح کے گینگز سے بچایا نہیں جاسکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چائلڈ سیکس گرومنگ میں ملوث افراد کے چہرے سے نقاب اتارا جانا ضروری ہے۔اس پٹیشن پر ایک رات میں 600 سے زیادہ افراد نے دستخط کیے ہیں۔ نیٹ ورک آف سکھ آرگنائزیشنز کے ڈائریکٹر لارڈ سنگھ آف ومبلڈن نے 2012ء میں بی بی سی سے یہ شکایت کی تھی کہ سیکس گینگز کے لیے ایشیائی کی اصطلاح گمراہ کن ہے۔ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ بی بی سی نے اس حوالے سے یہ موقف اختیار کیا ہے وہ ملزموں کی مذہبی شناخت کو ظاہر کرنے کی بجائے نسلی شناخت ظاہر کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ بی بی سی کی اس توجیح سے تمام حلقوں کے لوگ اسلئت مطمئن ہیں کہ جب برطانیہ انہی کمیونیٹیز کے آبائی ملکوًں میں امداد دیتا ہے تو ایسی کسی حرکت کو مد نظر نہیں رکھتا، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ کے لاکھوں ٹیکس دہندگان سے حاصل ہونے والی رقم سے دنیا کے مختلف ممالک کو دی جانے والی امداد کا ہدف 11.2 بلین پونڈ تک پہنچ گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی سٹڈی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ برطانوی امداد سے دنیا کی کرپٹ ترین حکومتوں نے فائدہ اٹھایا سٹڈی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کرپشن کے سنگین مسائل سے دوچار دنیا کے تمام ممالک نے برطانیہ کی فراخدلانہ امداد سے خوب فائدہ اٹھایا۔ سٹڈی رپورٹ کے مطابق برطانیہ نے 2012 کے دوران 10 انتہائی بدترین اقوام کو فنڈ فراہم کئے ان ممالک نے 500 ملین پونڈ تک کی امداد وصول۔یہ بات بھی آن دی ریکارڈ ہے کہ بھارتی سیاستدانوں نے برطانیہ کی طرف سے ملنے والی تین سو ملین کی امداد کو بھی حقیر جانا اور ٢٠١٥ کے بعد ہونے والی نظر ثانی میں بھارتی امداد بتدریج برحانے کا مطالبہ کیا جہاں آج بھی لوگ اسی پنس فی دن کے حساب سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ http://www.parliament.uk/edm/2012-13/738