مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ویلکم ٹو انگلینڈ، بلغاریہ اور رومانیہ سے ہزاروں تارکین وطن کی آمد شروع،کیتھ واز کا استقبال
لوٹن ... برطانیہ میں ایک طرف جب لوگ نیو ائیر کی موج مستیوں سے تھک ہار کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے وہیں بلغاریہ اور رومانیہ سے لوگوں کا ایک ہجوم مختلف علاقوں سے برطانیہ کا رخ کر رہا تھا۔ واضع رہے کی یورپ کی ان دو ممالک پر برطانیہ نے 2005 میں امیگریشن کی پابندی لگا دی تھی۔ جسکا خاتمہ یورپی یونین سے ایک معاہدے کے تحت 30 دسمبر 2012 کی رات ہوگیا۔لوٹن کے مقام پر ہوم آفس سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین کیتھ واز ایم پی امیگرینٹس کو خوش آمدید کہنے کو موجود تھے۔ حکمران ٹوری پارٹی کو اپنے 90 انتہائی سینیئر ممبران پارلیمنٹ کی بھرپور مخالفت کا سامنا رہا کہ ایسا مت کیا جائے لیکن ہوم آفس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت ایسے تمام موقع سے فائدہ اٹھانے کی خواہشمند ہے جن سے ملکی معیشت پر بہتر اثر پڑے اور ان ممالک کے محنتی لوگ یقینی طور پر برطانیہ کیلئے سود مند ثابت ہوں گے۔ ریکروٹمنٹ ایجنسیاں بلغارین تارکین وطن کو اس حوالے سے عملی مشاورت فراہم کر رہی ہیں کہ جب وہ یکم جنوری کو برطانیہ میں داخل ہوں تو کس طرح بینی فٹس سسٹم کا استحصال کرکے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق یورپ کے سب سے غریب ملک بلغاریہ کے لوگوں کی اس حوالے سے مدد کیلئے ایجنسیاں قائم کی گئی ہیں، تاکہ جب وہ برطانیہ میں داخل ہوں تو اس سخی سوشل سیکورٹی سسٹم سے فائدہ اٹھا سکیں، آج بلغاریہ اور رومانیہ سے ہزاروں تارکین وطن کی برطانیہ آمد متوقع ہے، بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ کے بس اسٹیشن کا رش ہے اور 9 جنوری تک لندن آنے والی تمام بسیں بک ہیں، برطانیہ جانے والے بلغارین نوجوانوں نے بس کرائے کے مد میں فی کس 110 پونڈ ادا کئے ہیں۔