مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بچوں کا ادب نظر انداز کرنے سے نسل نواپنی ثقافتی اقدار سےمحروم ہو جائے گی: کاروانِ ادب کانفرنس
ساہیوال ... ڈاکٹرمحمد افتخار کھوکھر چئیرمین شعبہ بچوں کا ادب، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے کہا ہے کہ نوجوان ادیب بچوں کے ادب پر طاری جمود کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں اگر بچوں کے ادب کو نظر انداز کیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنی ثقافتی اقدار سے محروم ہو جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ساہیوال میں منعقدہ دو روزہ ’’ کاروانِ ادب کانفرنس‘‘ کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر افتخار کھوکھر نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان ادیبوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوںکا استعمال کرتے ہوئے نئی نسل کی تربیت میں اپنا کردار موثر انداز میں ادا کرنا چاہیئے۔قبل ازیں معروف ادیب اختر عباس نے تقریب کے منتظمین کاشف بشیر کاشف، ندیم اختر، عبداللہ نظامی اور وسیم کھوکھر کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مضافات میں ادب کی ترویج کے لئے کاروان ادب جیسی ادبی سرگرمیاں قابل تحسین ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کا نوجوان ادیب مدیران اور علاقائی پسماندگی کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنے تخلیقی کام پر توجہ دے تو انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے بچوں کے ادب میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔معروف ناول نگار ناصر ملک اور امجد جاوید نے بھی اپنے خطاب میں نوجوان ادیبوں کو اپنی صلاحیتوں کے درست استعمال کی تلقین کی۔تقریب سے خواجہ مظہر نواز صدیقی، کاشف بشیر کاشف، ندیم اختر، فاروق ندیم، ڈی پی ایس کے پرنسپل سید انوار الحسن کرمانی اوراوصاف شیخ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر بہترین کارکردگی پر نوجوان ادیبوں کو اعزازی شیلڈیں بھی پیش کی گیئں۔