مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں کپتان محمد منیر میموریل والی بال ٹورنامنٹ کا انعقاد،مانچسٹر کی جیت
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے، برطانیہ میں ڈاکے مارنا بھی آسان نہ رہا !!
لندن ... وہ دن گئے جب چور اور ڈاکو کسی بھی دن کسی کو عمر بھر کی جمع بونجی سے محروم کر دیا کرتے تھے، برٹش بینکرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ بینکاری میں جدت کی وجہ سے ایسے ڈاکوں میں گزشتہ ایک دہائی میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔ پیشہ وارانہ تنظیم کے سربراہ انتھونی براؤن کا کہنا ہے کہ بینک اب ڈاکوں کو صرف ٹی وی ڈراموں تک محدود رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بینک دوسرے بینکوں، ڈاک خانوں اور پولیس کے اشتراک سے ڈاکوں کو ماضی کا حصہ بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس قسم کے جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اب جو کوئی بھی بینک لوٹنا چاہتا ہے اسے بہت بہتر سی سی ٹی وی، ایک سیکنڈ کے اندر اندر بلند ہو جانے والی حفاظتی سکرینوں، حتیٰ کہ خصوصی قسم کی دھند کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا مقصد مجرموں کو گڑبڑا دینا ہوتا ہے۔ برٹش بینکرز ایسوسی ایشن "بی بی اے" کا کہنا ہے کہ 1992 میں پڑنے والے ڈاکوں کی تعداد 847 تھی جب کہ 2011 میں صرف 66 ڈاکے پڑے۔ اس کمی کی وجہ جدید ٹیکنالوجی ہے جس کے باعث ڈاکے مارنے کے روایتی طریقے فرسودہ ہو چکے ہیں اور اب وہ کام نہیں کرتے۔