مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے، برطانیہ میں ڈاکے مارنا بھی آسان نہ رہا !!
لندن ... وہ دن گئے جب چور اور ڈاکو کسی بھی دن کسی کو عمر بھر کی جمع بونجی سے محروم کر دیا کرتے تھے، برٹش بینکرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ بینکاری میں جدت کی وجہ سے ایسے ڈاکوں میں گزشتہ ایک دہائی میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔ پیشہ وارانہ تنظیم کے سربراہ انتھونی براؤن کا کہنا ہے کہ بینک اب ڈاکوں کو صرف ٹی وی ڈراموں تک محدود رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بینک دوسرے بینکوں، ڈاک خانوں اور پولیس کے اشتراک سے ڈاکوں کو ماضی کا حصہ بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس قسم کے جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اب جو کوئی بھی بینک لوٹنا چاہتا ہے اسے بہت بہتر سی سی ٹی وی، ایک سیکنڈ کے اندر اندر بلند ہو جانے والی حفاظتی سکرینوں، حتیٰ کہ خصوصی قسم کی دھند کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا مقصد مجرموں کو گڑبڑا دینا ہوتا ہے۔ برٹش بینکرز ایسوسی ایشن "بی بی اے" کا کہنا ہے کہ 1992 میں پڑنے والے ڈاکوں کی تعداد 847 تھی جب کہ 2011 میں صرف 66 ڈاکے پڑے۔ اس کمی کی وجہ جدید ٹیکنالوجی ہے جس کے باعث ڈاکے مارنے کے روایتی طریقے فرسودہ ہو چکے ہیں اور اب وہ کام نہیں کرتے۔