مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے، برطانیہ میں ڈاکے مارنا بھی آسان نہ رہا !!
لندن ... وہ دن گئے جب چور اور ڈاکو کسی بھی دن کسی کو عمر بھر کی جمع بونجی سے محروم کر دیا کرتے تھے، برٹش بینکرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ بینکاری میں جدت کی وجہ سے ایسے ڈاکوں میں گزشتہ ایک دہائی میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔ پیشہ وارانہ تنظیم کے سربراہ انتھونی براؤن کا کہنا ہے کہ بینک اب ڈاکوں کو صرف ٹی وی ڈراموں تک محدود رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بینک دوسرے بینکوں، ڈاک خانوں اور پولیس کے اشتراک سے ڈاکوں کو ماضی کا حصہ بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس قسم کے جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اب جو کوئی بھی بینک لوٹنا چاہتا ہے اسے بہت بہتر سی سی ٹی وی، ایک سیکنڈ کے اندر اندر بلند ہو جانے والی حفاظتی سکرینوں، حتیٰ کہ خصوصی قسم کی دھند کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا مقصد مجرموں کو گڑبڑا دینا ہوتا ہے۔ برٹش بینکرز ایسوسی ایشن "بی بی اے" کا کہنا ہے کہ 1992 میں پڑنے والے ڈاکوں کی تعداد 847 تھی جب کہ 2011 میں صرف 66 ڈاکے پڑے۔ اس کمی کی وجہ جدید ٹیکنالوجی ہے جس کے باعث ڈاکے مارنے کے روایتی طریقے فرسودہ ہو چکے ہیں اور اب وہ کام نہیں کرتے۔