مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
نیا مشترکہ فتوہ جاری مرد سے چار سال دور رہنے والی عورت کو نئی شادی کی اجازت ہوگی !!
تن مرگ ... جموں کشمیر میں جاری شورشوں کے باعث گھروں سے غائب ہوجانے مرد خاندان کو ایک طرف جدائی کا دکھ دے جاتے ہیں دوسری طرف اپنی شریک حیات کو انتظار کی ایسی سولی پر لٹکا جاتے ہیں جس اس عورت کو نا مرنے دیتی ہیں تو نہ ہی جینے۔ ایسی صورتحال ایک عرصے سے جاری رہنے کے بعد اور بعض تنظیموں کی طرف سے مہم چلانے کے بعد مختلف مکتبہ فکر کے جید علما نے فیصلہ دیا ہے کہ جس عورت کا مرد چار سال تک گھر واپس نہیں آجاتا وہ کسی دوسرے مرد کے نکاح میں جا سکتی ہے۔ علما کے اجلاس میں اسلامی فقیہ امام مالک کا حوالہ دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارہ کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں کہ ’ڈیزولیوشن آف میریج ایکٹ‘ یا مسئلہ شرعی حکم الگ حالات کے تحت تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی علما نے مفقودالخبر افراد کے بارے میں فتوی دیا تھا، یعنی عام حالات میں تجارت یا سفر کے دوران کوئی لاپتہ ہوجائے یا رضاکارانہ طور کسی دوسرے ملک چلا جائے تو چار سال بعد دوبارہ شادی ہوسکتی ہے۔ لیکن کشمیر میں لاپتہ افراد کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ کس نے گرفتار کیا اور گمشدگی کے دوران انجام کیا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس شرعی حکم میں اجتہاد کرتے ہوئے ترمیم کی سخت ضرورت تھی۔ علما کے اجلاس میں اسلامی فقیہ امام مالک کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے دوسرے خلیفہ حضرت عمرفاروق سے روایت کیا ہے کہ "جس خاتون کا شوہر مفقود الخبر یعنی لاپتہ ہوجائے تو عِدّت کے چار ماہ دس دن کا عرصہ چھوڑ کر اگر چار سال تک وہ واپس نہ آجائے تو خاتون دوبارہ نکاح کی اہل ہوگی"۔ وسطی کشمیر کے میرواعظ سیّد لطیف بخاری کا کہنا ہے کہ یہ نہایت اہم فتوی ہےعلما کے درمیان گو کہ اس بات پر اختلاف تھا، لیکن ڈیڑھ ہزار خواتین کی سماجی زندگی کو علما کے اختلاف کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔ وہ خواتین پہلے ہی ایک صدمے سے دوچار ہیں، اور سماج میں انہیں قبولیت کی ضرورت ہے۔ یہ فتوی ایک اہم فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ کشمیریوں کی ختم ہوتی نسل کو بھی سہارہ دے گا۔