مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نیا مشترکہ فتوہ جاری مرد سے چار سال دور رہنے والی عورت کو نئی شادی کی اجازت ہوگی !!
تن مرگ ... جموں کشمیر میں جاری شورشوں کے باعث گھروں سے غائب ہوجانے مرد خاندان کو ایک طرف جدائی کا دکھ دے جاتے ہیں دوسری طرف اپنی شریک حیات کو انتظار کی ایسی سولی پر لٹکا جاتے ہیں جس اس عورت کو نا مرنے دیتی ہیں تو نہ ہی جینے۔ ایسی صورتحال ایک عرصے سے جاری رہنے کے بعد اور بعض تنظیموں کی طرف سے مہم چلانے کے بعد مختلف مکتبہ فکر کے جید علما نے فیصلہ دیا ہے کہ جس عورت کا مرد چار سال تک گھر واپس نہیں آجاتا وہ کسی دوسرے مرد کے نکاح میں جا سکتی ہے۔ علما کے اجلاس میں اسلامی فقیہ امام مالک کا حوالہ دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارہ کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں کہ ’ڈیزولیوشن آف میریج ایکٹ‘ یا مسئلہ شرعی حکم الگ حالات کے تحت تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی علما نے مفقودالخبر افراد کے بارے میں فتوی دیا تھا، یعنی عام حالات میں تجارت یا سفر کے دوران کوئی لاپتہ ہوجائے یا رضاکارانہ طور کسی دوسرے ملک چلا جائے تو چار سال بعد دوبارہ شادی ہوسکتی ہے۔ لیکن کشمیر میں لاپتہ افراد کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ کس نے گرفتار کیا اور گمشدگی کے دوران انجام کیا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس شرعی حکم میں اجتہاد کرتے ہوئے ترمیم کی سخت ضرورت تھی۔ علما کے اجلاس میں اسلامی فقیہ امام مالک کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے دوسرے خلیفہ حضرت عمرفاروق سے روایت کیا ہے کہ "جس خاتون کا شوہر مفقود الخبر یعنی لاپتہ ہوجائے تو عِدّت کے چار ماہ دس دن کا عرصہ چھوڑ کر اگر چار سال تک وہ واپس نہ آجائے تو خاتون دوبارہ نکاح کی اہل ہوگی"۔ وسطی کشمیر کے میرواعظ سیّد لطیف بخاری کا کہنا ہے کہ یہ نہایت اہم فتوی ہےعلما کے درمیان گو کہ اس بات پر اختلاف تھا، لیکن ڈیڑھ ہزار خواتین کی سماجی زندگی کو علما کے اختلاف کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔ وہ خواتین پہلے ہی ایک صدمے سے دوچار ہیں، اور سماج میں انہیں قبولیت کی ضرورت ہے۔ یہ فتوی ایک اہم فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ کشمیریوں کی ختم ہوتی نسل کو بھی سہارہ دے گا۔