مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نیا مشترکہ فتوہ جاری مرد سے چار سال دور رہنے والی عورت کو نئی شادی کی اجازت ہوگی !!
تن مرگ ... جموں کشمیر میں جاری شورشوں کے باعث گھروں سے غائب ہوجانے مرد خاندان کو ایک طرف جدائی کا دکھ دے جاتے ہیں دوسری طرف اپنی شریک حیات کو انتظار کی ایسی سولی پر لٹکا جاتے ہیں جس اس عورت کو نا مرنے دیتی ہیں تو نہ ہی جینے۔ ایسی صورتحال ایک عرصے سے جاری رہنے کے بعد اور بعض تنظیموں کی طرف سے مہم چلانے کے بعد مختلف مکتبہ فکر کے جید علما نے فیصلہ دیا ہے کہ جس عورت کا مرد چار سال تک گھر واپس نہیں آجاتا وہ کسی دوسرے مرد کے نکاح میں جا سکتی ہے۔ علما کے اجلاس میں اسلامی فقیہ امام مالک کا حوالہ دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارہ کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں کہ ’ڈیزولیوشن آف میریج ایکٹ‘ یا مسئلہ شرعی حکم الگ حالات کے تحت تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی علما نے مفقودالخبر افراد کے بارے میں فتوی دیا تھا، یعنی عام حالات میں تجارت یا سفر کے دوران کوئی لاپتہ ہوجائے یا رضاکارانہ طور کسی دوسرے ملک چلا جائے تو چار سال بعد دوبارہ شادی ہوسکتی ہے۔ لیکن کشمیر میں لاپتہ افراد کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ کس نے گرفتار کیا اور گمشدگی کے دوران انجام کیا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اس شرعی حکم میں اجتہاد کرتے ہوئے ترمیم کی سخت ضرورت تھی۔ علما کے اجلاس میں اسلامی فقیہ امام مالک کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے دوسرے خلیفہ حضرت عمرفاروق سے روایت کیا ہے کہ "جس خاتون کا شوہر مفقود الخبر یعنی لاپتہ ہوجائے تو عِدّت کے چار ماہ دس دن کا عرصہ چھوڑ کر اگر چار سال تک وہ واپس نہ آجائے تو خاتون دوبارہ نکاح کی اہل ہوگی"۔ وسطی کشمیر کے میرواعظ سیّد لطیف بخاری کا کہنا ہے کہ یہ نہایت اہم فتوی ہےعلما کے درمیان گو کہ اس بات پر اختلاف تھا، لیکن ڈیڑھ ہزار خواتین کی سماجی زندگی کو علما کے اختلاف کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔ وہ خواتین پہلے ہی ایک صدمے سے دوچار ہیں، اور سماج میں انہیں قبولیت کی ضرورت ہے۔ یہ فتوی ایک اہم فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ کشمیریوں کی ختم ہوتی نسل کو بھی سہارہ دے گا۔