مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شام میں درندگی کا شکار ہونے والے ڈاکٹر عباس سپرد خاک، ماں بیٹا کھونے پر نوحہ کناں رہی !!
لندن ... انسانیت کی خدمت کیلئے شام میں جان گنوانے والے مسلمان ڈاکٹر عباس خان کے بھائی کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت نے انکے بھائی کی حراست کے معاملے کو اس طرح ڈیل گیا جیسے کوئی برطانوی دوبئی میں شراب پیتے پکڑا جائے، عباس خان مرحوم خانہ جنگی سے مرتے بے سہارا اور لاوارث لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے گیا تھا لیکن افسوس کہ وحشی درندوں کو اسکی مسیحائی بھی راس نہ آئی۔ ریجنٹ پارک مسجد لندن میں ڈاکٹر عباس مرحوم کے جنازے کے موقع پر اپنی گرویدہ ماں کو سنبھالتے ہوئے مرحوم کے چھوٹے بھائی شاہنواز خان حکومت برطانیہ کے رویہ سے سخت نالاں نظر آرہے تھے انکا کہنا تھا کی انکا بھائی ایک سٹار تھا جنکی کمی کا خلا کبھی پورا نہ ہوسکے گا اللہ نے انہیں بہت نرم اور محبت کرنے والا دل عطا کیا تھا۔ انکی والدہ فاطمہ خان اپنے جوان بیٹے کی جدائی پر دھاڑیں مار مار کر روتی رہیں۔ ان کے بڑے بیٹے شاہنواز خان اگرچہ انہیں تسلی دیتے رہے تاہم فاطمہ خان دیر تک اپنے بیٹے کی موت پر نوحہ کناں رہیں۔ عزیز و اقارب انہیں سنبھالتے رہے لیکن وہ بار بار یہی کہتی رہیں میں نے اپنا بیٹا کھودیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کسی نے مدد نہیں کی۔ انہوں نے کہا میں اپنے بیٹے سے محبت کرتی ہوں‘ میں نے اسے کھو دیا ہے، میں ناکام ہو گئی ہوں ۔ میں نے اپنے بیٹے کی زندگی کیلئے ہر ایک سے بھیک مانگی۔ سب کے پاوٴں پر گری اور کہاکہ میرے بیٹے کو معاف کردو۔ ڈاکٹر عباس کے بھائی شاہنواز خان نے اس موقع پر کہاکہ ان کا بھائی رحمدل ترین انسان تھا۔ اس کی موت کی وجہ سے آج ان کا خاندان انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ڈاکٹر عباس کو گزشتہ برس نومبر میں شام میں ایک چیک پوسٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ شامی فورسز کے ہاتھوں زخمی ہونے والے شہریوں کا علاج کرنے جا رہا تھا۔ ڈاکٹر عباس کی والدہ فاطمہ خان چار ماہ سے زیادہ عرصہ تک شام میں اپنے بیٹے کی رہائی کیلئے کوششیں کرتی رہیں۔ شامی حکومت نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کے بیٹے کو 20 دسمبر کو رہا کر دیا جائے گا مگر متوقع رہائی سے چار روز قبل فاطمہ خان کو بتایا گیا کہ ان کے بیٹے نے جیل میں خود کشی کر لی ہے۔ ڈاکٹر عباس کے خاندان والوں نے اس بار کو تسلیم کرنے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکٹر عباس کی میت کو برطانیہ لائی گئی جہاں پر پوسٹمارٹم کے بعد میت ورثا کے حوالے کی گئی۔ ڈاکٹر عباس خان نے ایک سات سالہ بیٹی رقیہ چھ سالہ بیٹا عبداللہ اور بیوہ کو بھی سوگوار چھوڑا ، سوگوار فیملی کے وکیل کا کہنا تھا کہ مرحوم کا خاندان لوگوں کی طرف سے ملنے والی ہمدردی پر مشکور ہے، برطانوی ہوم آفس کا بھی کہنا ہے کہ وہ ماہرین کی ایک ٹیم اس سلسلے میں شام بھیجنے پر رضا مند ہے تاہم اس وقت وہ سوگوار خاندان کو غم سے نبٹنے کیلئے وقت دینا بہتر سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر عباس مرحوم کو الفورڈ کے معروف قبرستان گارڈن آف پیس میں دفن کیا گیا جبکہ جمعہ کے روز والتھم اسٹو کرونر کورٹ میں انکوئسٹ اوپن کی گئی۔