مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں کپتان محمد منیر میموریل والی بال ٹورنامنٹ کا انعقاد،مانچسٹر کی جیت
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ڈرون حملےجاری رہے تو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے رابطہ کیا جائے گا: ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد ... امریکی ڈرون حملوں سے ہونے والی حالیہ ہلاکتوں کو حکومت پاکستان نے انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے سکیورٹی حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیارے نے افغانستان کی سرحد سے متصل قبائلی علاقے میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے ان ڈروں حملوں کی شدت سے مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قوانین سے متصادم قرار دیتے ہوئے انکے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ تسنیم اسلم کے مطابق اگر ڈرون حملے اسی طرح جاری رہے تو جنیوا میں انسانی حقوق کی کونسل یو این ایچ آر سی سے رابطہ کیا جائے گا۔ واضع رہے پاکستان امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج اور ان کی مذمت کرتا ہے اور اسے اپنی سالمیت کے خلاف قرار دیتا ہے تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑائی میں ڈرون ایک ناگزیر ہتھیار ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پہلے ہی ان ڈرون حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور یو این چارٹر کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہے۔ پاکستان کے قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کا سلسلہ کئی برس سے جاری ہے تاہم گذشتہ ماہ امریکی ڈرونز نے پہلی بار پاکستان کے بندوبستی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل میں واقع ایک مدرسے پر ہونے والے اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کی حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے جماعتی سطح پر ان حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صوبے سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی آج تک بند کر رکھی ہے۔