مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے خواجہ آصف کی سربراہی میں وزیر اعظم کی با اختیار کمیٹی کی تشکیل !!
اسلام آباد ... پاکستان کی قومی اسمبلی کے سربراہ، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنے انتہائی معتمد ساتھی خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری قانون اور پاکستان کے اٹارنی جنرل بھی شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔ یہ کمیٹی لاپتہ افراد سے متعلق کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کو طلب کرنے کی مجاز ہے اور اُن سے لاپتہ افراد سے متعلق پوچھ گچھ بھی کرسکتی ہے۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں لاپتہ افراد سے متعلق سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس کو اگرچہ کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کو طلب کرنے کا اختیار تو ضرور تھا لیکن اُن کے کہنے پر کسی بھی خفیہ ادارے کا سربراہ کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا تاہم ماتحت عملہ پیش ہوتا رہا ہے۔ اس کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ اب اس کمیٹی کی تشکیل سے لاپتہ افراد کا معاملہ جلد حل کرنے میں مدد ملے گی۔ انکا کہنا تھا کہ کمیشن کے پاس جبری طور پرگمشدہ افراد سے متعلق جو مقدمات ہیں وہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے نہیں بلکہ لاپتہ افراد سے متعلق کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں اور ان افراد کے لواحقین کی طرف سے جمع کروائے گئے شواہد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا کہ جب بھی کمیشن کا اجلاس ہوتا تھا تو اُس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود ہوتے تھے۔ قوم کو اس امر کی نوید ملی ہے کہ شائد اب ایجنسیوں کی مداخلت کے بغیر یہ مسئلہ حل ہو سکے گا۔