مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے خواجہ آصف کی سربراہی میں وزیر اعظم کی با اختیار کمیٹی کی تشکیل !!
اسلام آباد ... پاکستان کی قومی اسمبلی کے سربراہ، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنے انتہائی معتمد ساتھی خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری قانون اور پاکستان کے اٹارنی جنرل بھی شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔ یہ کمیٹی لاپتہ افراد سے متعلق کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کو طلب کرنے کی مجاز ہے اور اُن سے لاپتہ افراد سے متعلق پوچھ گچھ بھی کرسکتی ہے۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں لاپتہ افراد سے متعلق سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس کو اگرچہ کسی بھی خفیہ ادارے کے سربراہ کو طلب کرنے کا اختیار تو ضرور تھا لیکن اُن کے کہنے پر کسی بھی خفیہ ادارے کا سربراہ کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا تاہم ماتحت عملہ پیش ہوتا رہا ہے۔ اس کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ اب اس کمیٹی کی تشکیل سے لاپتہ افراد کا معاملہ جلد حل کرنے میں مدد ملے گی۔ انکا کہنا تھا کہ کمیشن کے پاس جبری طور پرگمشدہ افراد سے متعلق جو مقدمات ہیں وہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے نہیں بلکہ لاپتہ افراد سے متعلق کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں اور ان افراد کے لواحقین کی طرف سے جمع کروائے گئے شواہد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا کہ جب بھی کمیشن کا اجلاس ہوتا تھا تو اُس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود ہوتے تھے۔ قوم کو اس امر کی نوید ملی ہے کہ شائد اب ایجنسیوں کی مداخلت کے بغیر یہ مسئلہ حل ہو سکے گا۔