مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی فوجی کے قتل کے جواب میں گرمزبی مسجد پر حملہ کرنے والے دو سابق فوجیوں کو سزا
ہل ...ھل کرائون کورٹ نے گرمزبی کے مقامی اسلامک سنٹر و مسجد پر پٹرول بم سے حملہ کرنے والے دو سابق برطانوی فوجیوں کو دستیاب ثبوتوں کی روشنی میں فوری سزا سنا کر ایسے بہت سے افراد کے منہ بند کر دئے ہیں جو برطانوی فوجی لی رگبی کیس کے حوالے سے چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔ اسلامک سنٹر ہل پر حملہ کرنے والے دونوں برطانوی فوجیوں کی قسمت خراب کہ بم بناتے ہوئے انکے اپنے گھر کے عقب میں لگا کیمرہ انکی حرکات نوٹ کرتا رہا اور جس وقت انہوں نے سنٹر پر حملہ کیا انہیں یقین تھا کہ اس وقت وہاں کا سی سی ٹی وی کام نہیں کر رہا لیکن اس نے تمام واردات کی لمحہ بہ لمحہ عکس بندی کی۔ عدالت نے ان دوسابق فوجیوں کو چھ چھ سال قید کی سزا سنائی کہ انہوں نےگرمزبی کی مسجد کو آتشیں بموں سے تباہ کرنے کی کوشش کی۔ سینتالیس سالہ گیون ہمفریز اور تینتیس سالہ ہارنس نے اسلامک کلچر سینٹر پر حملے کے الزام کو تسلیم کیا تھا۔ اسی سال مئی میں مسجد پر حملے میں کوئی بھی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا تاہم عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ ایک اور شخص پچیس سالہ ڈینیل کریسی کو گرمزبی مسجد پر حملے میں مدد دینے کا مجرم قرار دیا گیا وہ ان دونوں کی نقل حمل میں ساتھ دیتا رہا اسے بھی اعانت جرم میں چھ سال کی ہی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ڈینیل کریسی دونوں فوجیوں کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر مسجد پر حملے کے لیے وہاں لے کرگیا تھا لیکن خود حملے میں شریک نہیں ہوا تھا۔ ہی حملہ لندن میں برطانوی فوجی لی رگبی کو ہلاک کیے جانے کے چار روز بعدکیا گیا تھا۔