مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی فوجی کے قتل کے جواب میں گرمزبی مسجد پر حملہ کرنے والے دو سابق فوجیوں کو سزا
ہل ...ھل کرائون کورٹ نے گرمزبی کے مقامی اسلامک سنٹر و مسجد پر پٹرول بم سے حملہ کرنے والے دو سابق برطانوی فوجیوں کو دستیاب ثبوتوں کی روشنی میں فوری سزا سنا کر ایسے بہت سے افراد کے منہ بند کر دئے ہیں جو برطانوی فوجی لی رگبی کیس کے حوالے سے چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔ اسلامک سنٹر ہل پر حملہ کرنے والے دونوں برطانوی فوجیوں کی قسمت خراب کہ بم بناتے ہوئے انکے اپنے گھر کے عقب میں لگا کیمرہ انکی حرکات نوٹ کرتا رہا اور جس وقت انہوں نے سنٹر پر حملہ کیا انہیں یقین تھا کہ اس وقت وہاں کا سی سی ٹی وی کام نہیں کر رہا لیکن اس نے تمام واردات کی لمحہ بہ لمحہ عکس بندی کی۔ عدالت نے ان دوسابق فوجیوں کو چھ چھ سال قید کی سزا سنائی کہ انہوں نےگرمزبی کی مسجد کو آتشیں بموں سے تباہ کرنے کی کوشش کی۔ سینتالیس سالہ گیون ہمفریز اور تینتیس سالہ ہارنس نے اسلامک کلچر سینٹر پر حملے کے الزام کو تسلیم کیا تھا۔ اسی سال مئی میں مسجد پر حملے میں کوئی بھی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا تاہم عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ ایک اور شخص پچیس سالہ ڈینیل کریسی کو گرمزبی مسجد پر حملے میں مدد دینے کا مجرم قرار دیا گیا وہ ان دونوں کی نقل حمل میں ساتھ دیتا رہا اسے بھی اعانت جرم میں چھ سال کی ہی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ڈینیل کریسی دونوں فوجیوں کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر مسجد پر حملے کے لیے وہاں لے کرگیا تھا لیکن خود حملے میں شریک نہیں ہوا تھا۔ ہی حملہ لندن میں برطانوی فوجی لی رگبی کو ہلاک کیے جانے کے چار روز بعدکیا گیا تھا۔