مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
افواج کے دستوں پر حملے ہوتے رہیں گے، آوارہ بھیڑیوں کو روکنا ممکن نہیں: اسسٹنٹ کمشنر پولیس
لندن ... اسسٹنٹ میٹروپولیٹن کمشنر پولیس کریسیڈا ڈک نے کہا ہے کہ برطانوی فوجی آوارہ بھیڑیوں کا ہمیشہ نشانہ رہیں گے، اس مائنڈ سیٹ سے مکمل چھٹکارا ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی فوجی لی رگبی کا قاتلوں کو عدالت سے مجرم ٹھرائے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ فوجی دستے بھٹکی ہوئے نظرئے کا نشانہ رہیں گے کیونکہ ان سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔ واضع رہے کہ برطانوی فوجی لی رگبی کو دو نوجوانوں نے بے دردی سے قتل کرکے برطانیہ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ جسکی جب مرضی ہو خود کو مسلمان کہلوا سکتا ہے ؟ ایک مجرم کی ماں نے بتایا کہاسکے بیٹے نی سترہ سال کی عمر میں اس لیے اسلام قبول کیا کہ دوسرے گینگ اسے تنگ نہ کر سکیں۔ ماں نے اپنے بیٹے کے مذہبی جنون کی دنیا میں داخل ہونے کا الزام اسلام کے ایک شیطان پر عائد اور قتل ہونے والے برطانوی فوجی کی فیملی سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں اپنے بیٹوں سے محروم ہوگئی ہیں۔ فوجی لی رگبی کے قاتلوں نے عدالت میں خود کو مسلمان کہا اور پولیس کے ریکارڈ میں انکی ایسی تصاویر موجود تھیں کہ ماضی میں انہوں نے عراق کی جنگ میں برطانوی فوج بھیجنے کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی تھی، ان میں ایک ایسا بھی تھا جسکی مظاہرے میں انتہا پسند مسلمان انجم چوہدری کے ساتھ مظاہرہ کرتے ہوئے تصویر ہے۔ 8عورتوں اور چار مردوں پر مشتمل جیوری نے 29 سالہ مائیکل ایڈ بوجولو اور 22 سالہ مائیکل ایڈبو ویل کو مجرم قرار دینے میں صرف 90منٹ لگائے، ملزمان نے برطانوی فوجی کو قتل کرنے کی تردید کی تھی اور ایک نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اللہ کا سپاہی ہے اور اس نے لی رگبی کو قتل کرکے کوئی جرم نہیں کیا کیونکہ وہ جہاد کررہا ہے، اس کا کہنا تھا کہ لی رگبی جنگ میں مارا گیا ہے اس لئے اس کا الزام اس پر نہیں لگایا جاسکتا۔ دونوں مجرموں کا تعلق پیدائش سے عیسائی گھرانے سے ہے جبکہ وہ نوعمری میں اسلام کی طرف مائل ہوئے۔ دونوں نو مسلموں نے 22مئی کو برطانوی فوجی لی رگبی کو وولچ میں اس وقت اپنی کار سے ٹکر مار کر شدید زخمی کردیا جب وہ فوجی بیرکوں کے قریب پیدل جارہا تھا دونوں گھاٹ لگاکر بیٹھے ہوئے تھے اور کسی فوجی کو قتل کرنا چاہتے تھے لی رگبی کے زخمی ہونے کے بعد ان دونوں سے چاقو اور ٹو کے کے ساتھ اسے قتل کیا اور اس کا سر دھڑ سے الگ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس واقعہ کی لوگوں سے ویڈیو فلم بنوائی اورمغربی ممالک کے لئے یہ پیغام بھی ریکارڈ کرایا کہ مسلمان ممالک میں مداخلت کی وجہ سے ان کی گلیوں میں جہاد ہوگا۔ ملزمان نے برطانوی عوام سے کہا کہ وہ اپنے حکمرانوں کو مسلمان ممالک میں مداخلت سے باز رکھیں ورنہ ان کا انجام بھی برا ہوگا۔ دونوں نے کئی منٹ تک سڑک پر ویڈیو فلمیں بنوائیں اور پولیس کی آمد کا انتظار کیا، جس کے بعد دونوں نے پولیس افسروں پربھی حملہ کرنے کی کوشش کی اور جواباً پولیس نے فائرنگ کرکے انہیں زخمی کردیا تھا۔ مجرموں کے وکیل عباس لاکھا کیوسی نے جیوری کو بتایا تھا کہ دونوں پولیس کے ہاتھوں مونے کو خواہاں تھے تاکہ شہادت کا رتبہ پاتے انہوں نے پولیس کو جو پستول تانی وہ ٩٠ سال پرانی ناکارہ پستول تھی۔ جیوری نے ان دونوں کو پولیس والوں کے اقدام قتل کے الزام سے بری کردیا۔ اور اگلے ماہ جنوری میں اعلی ٹرائل کورٹ میں مقدمہ جانے کے بعد سزا سنانے کا اعلان کیا ۔