مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
دو دہائیوں سے کرسچن مسلم بھائی چارے کیلئے مصروف ہوں افسوس کہ کامیاب نہیں ہوں: پرنس چارلز
لندن ... برطانوی شہزادہ چارلز نے کہا ہے کہ گزشتہ بیس سال سے وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان غلط فہمیاں دور کرکے محبتوں کے پرچارک کی تگ و دو میں مصروف ہوں لیکن افسوس کہ کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ وہ قوتیں جو اس فطری محبت کی مخالف ہیں زیادہ طاقت ور ہیں اور دن بدن مزید طاقتور ہورہی ہیں۔ کلیرنس ہائوس لندن میں مڈل ایسٹ کے رہنمائوں کے اعزاز میں منعقدہ تقرین میں وہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں برطانیہ میں مقیم انٹر فیتھ رہنمائوں نے بھی شرکت کی۔ شہزادہ چارلز کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے اسلام اور عیسائیت کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے اور ان کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ لیکن بعض عناصر کے مخصوص مفادات کے سبب دونوں مذاہب کے درمیان تعلقات بحران کا شکار ہوگئے ہیں اور یہ انتہا پسند عناصر الزامات، دھمکیوں اور ظلم کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کے شام، عراق، فلسطین، مصر کے علاوہ دیگر عرب ممالک میں بھی آباد عیسائی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں عیسائیت کی پیدائش مشرق وسطیٰ میں ہوئی تھی اور ہم وہاں آباد اپنے بھائی اور بہنوں کو نہیں بھولیں گے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عیسائیوں کی آبادی کل آبادی کا صرف 4فیصد ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کی آبادی ڈرامائی طور پر کم ہوئی ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے تمام عقائد کے ماننے والے رہنماؤں سے کہا کہ وہ متحد ہو کر اس ظلم کے خلاف کوشش کریں ورنہ مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو نقصان ہو گا۔ اردن کے کنگ کے چیف ایڈوائزر برا کے مذہب و ثقافتی امور اور ذاتی ایلچی پرنس غازی بن محمد نے پرنس چارلس کی طرف سے مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر کرسچن کی اکثریت والے ممالک میں مسلمان وقار کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں تو عیسائی کمیونٹی کو بھی مسلم ممالک میں وقار کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا اختیار ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10برسوں سے کرسچن کمیونٹی کو ایک نئے قسم کے خطرے کا سامنا ہے۔ 2003ء میں عراق جنگ کے خاتمہ کے بعد القاعدہ اور اس جیسی دیگر تنظیموں نے کرسچن کمیونٹی کی شناخت، حملہ کرنے والے مغربی افراد کے طور پر کرائی ہے۔ شام میں اسد حکومت کے خلاف سرگرم گروپ کرسچن کمیونٹی کو دھمکا اور تشد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ چرچ اور دیگر عبادت گاہیں بھی ان کے نشانے پر ہیں۔ کوپٹک آرتھوڈوکس چرچ کے جنرل بشپ، بشپ اینجلوز نے کہا کہ اب جبکہ ہم کرسمس کے تہوار کی طرف بڑھ رہے ہیں ہمیں اس وقت مشرق وسطیٰ میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں رہائش پذیر کرسچن کمیونٹی جرأت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کر رہی ہے۔ تقریب میں آرچ بشپ آف کنٹربری اور بشپ آف لندن بھی شریک تھے۔