مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
عوام کی زندگیوں سے خوف دور اور محبت عام کرنےکی ضرورت ہے:برٹش منسٹربیرونس وارثی
لندن ... محبت کسی رنگ میں ہو، کسی زبان یا عمل میں ہو محبت ہی کہلاتی ہے، یہ نعمت کسی مذہب، فرقے، نسل یا شناخت کی محتاج نہیں ہوتی اسے لمحات کی مٹھی میں قید نہیں کیا جا سکتا نہ ہی اسے کسی کی سرشت سے آزاد کروایا جا سکتا ہے۔ یہ جذبات برطانوی دارالحکومت لندن کے عین وسط میں اور پارلیمنٹ بلڈنگ سی چند منٹوں کی دوری پر واقع پرشکوہ میتھوڈسٹ ہال میں منعقدہ تقریب میں شریک تقریبا ہر فرد کے تھے۔ ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز کے شریک چیئرمیں سید قمر رضا، صدر ناہید رندھاوا، جنرل سیکریٹری ماجد اسماعیل، انکے دوست احباب اور پردے میں چھپے ڈاکٹر عارف ملک کی کا وشوں سے لندن نے عرصے بعد کسی مسلم تنظیم کیطرف سے کرسمس کے حوالے سے ایسی بین المذاہب تقریب دیکھی جس میں ہر مذہب کے افراد نے اپنے اپنے دین کے مطابق لہو دیا اور نتیجے میں ایک ہی رنگ سمیٹا، ایک ہی پیغام لیا جوامن اور محبت کا پیغام تھا۔ حکومت برطانیہ کی پہلی مسلمان خاتون وزیر بیرونس سعیدہ وارثی کہہ رہی تھیں وہ دور بہت پیچھے رہ گیا جب برطانوی معاشرے سے ملاپ مشکل تھا انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کم سنی میں وہ بھی 25 دسمبر کو بہنوں کے ساتھ سانتا کا انتظار کرتیں لیکن وہ ہمارے گھر کبھی نہ آیا اسی دکھ سے ایک سال بڑی بہن نے مایوس ہوکر انگیٹھی توڑ ڈالی، لیکن ہماری چھوٹی بہن کی کوششوں سے 25 دسمبر کا دن اچھے طریقے سے یاد رکھا جانے لگا کہ اس دن بانی پاکستان قائد اعظم کا یوم پیدائش بھی ہے۔ بیرونس وارثی نے کہا وہ دور مشکل ضرور تھا لیکن عدل، انصاف، رواداری اور بھائی چارے کی فضا نے راستے ہموار کئے تو میرے جیسے لاتعداد لوگ اپنی شناخت زندہ رکھتے ہوئے اس معاشرے میں گھل مل گئے آج سب ایک نام اور مقام کے حامل ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ اسلاموفوبیا بھی اصل میں انتہا پسندی کی پیداوار ہے جب آب درمیانی راستہ نکالنے کا نہیں سوچیں گے تو لازمی طور پر سختی پر مائل ہوں گے، اور یہ فطری اصول بھی ہے کہ سخت اور اکڑی شے چونکہ جھک نہیں سکتی اسلئے ٹوٹ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا سے عدم برداشت کے خاتمے، بہتر معاشرے کے قیام اور لوگوں کی زندگیوں سے خوف دور کرنے کے لیے دنیا کے تمام مذاہب کو ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے جو باہمی نفرتوں کو ختم کرکے محبت اور بھائی چارے کا پیغام عام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام بھائی چارے، ہم آہنگی اور کسی مجبور شخص کی مذہبی تعصب سے بالاتر ہو کر مدد کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے سے عدم برداشت اور نفرت کے خاتمے کے لیے انٹر فیتھ کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ اگر ہم نے اس ایشو پر فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا تو اس سے مذاہب کے مابین تفریق اور بڑھے گی۔ پاکستان میں چرچ پر حملہ صرف عیسائیوں پر حملہ نہیں بلکہ دنیا کو متحد ہو مذاہب میں تفریق ڈالنے والی ان قوتوں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز کے شریک چیئرمین قمر رضا سید نےاس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انکی تنظیم بین الاقوامی سطح پر امن اور محبت کے فروغ کیلئے کوشاں ہے کیونکہ دنیا میں امن نہ ہوگا تو جنگ ہوگی جو سب کی تباہی کا باعث ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی اس تقریب میں اٹھارہ مختلف اقوام، مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے کیونکہ ہم مذہبی طور پر بھی اور ثقافتی طور پر بھی محبت کا پرچار کرنے والے لوگ ہیں، ہمیں دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ اچھی لگتی ہے، ہماری تنظیم کی خواہش ہے کی دنیا کے ١٤٤ ٠ ممالک میں بھیلے اسی لاکھ پاکستانی تارکین وطن امن کے سفیر ثابت ہوں۔ کیونکہ پاکستان بذاد خود خوبصورت، آب و ہوا، موسموں، قدرتی نظاروں سے بھرپور ملک ہے جہاں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں اور اگر ہم وہاں یہ قباحتیں نہیں دیکھ سکتے تو اوورسیز میں کیسے پسند کریں گے۔ انہوں نے اتنی سردی میں دور دراز سے آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے تقریب کو تاریخ ساز اہمیت ملی۔ تنظیم کے صدر ناہید رندھاوا، آرچ بشپ آف کنٹربری کے سابق فیتھ ایڈوائزر رانا یعقوب، ڈاکتر مشرف، ٹونی رابنز اور گلاسگو سے خصوصی طور پر آئے ممبر پارلیمنٹ انس سرور نے اپنے اپنے طور پر بین المذاہب ہم آہنگی کی قدر و اہمیت سے آگاہی دیتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض تنظیم کے سیکریٹری جنرل چوہدری ماجد اسماعیل نے سرانجام دئے۔