مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
قران چھوڑ کر دہشت کے راستے پر گامزن ملائوں کا اہلسنت سے کوئی تعلق نہیں: سنی اتحاد کونسل
برمنگھم ... پاکستان میں دہشت گردی و فرقہ واریت کے مکمل خاتمے کیلئے تمام اداروں، سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مل کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان جو عالم اسلام کا قلعہ اور ایک موثر ایٹمی قوت ہے، اسکے خلاف تمام اندرونی و بیرونی اسلام اور پاکستان دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کا از سر نو عزم کرنے کی ضرورت ہے کہ علماء و مشائخ اہلسنت نے ہی پاکستان کو قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بنایا تھا اور آج انشا اللہ ان کے جانشین علماء حق پھر عملی طور پر اس مقصد کے حصول کے لئے جن پاکیزہ مشن اور نظام مصطفی کے عملی نفاذ کیلئے پاکستان کا قیام لاکھوں قربانیوں کے بعد بنا تھا اس مقصد کے حصول کے لئے متحد و منظم ہو کر جدوجہد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار علما کرام نے سنی اتحاد کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں اپنی اپنی رائے دیتے ہوئے کیا۔ سنی اتحاد کونسل برطانیہ و یورپ کا یہ اجلاس مرکزی جامع مسجد مہر الملت سنٹر برمنگھم میں منعقد ہوا جس کی صدارت کونسل کے چیئرمین مہرالملت صاحبزادہ پیر سید منور حسین جماعتی اور نظامت علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی جنرل سیکرٹری سنی اتحاد کونسل نے کی۔ علمائے کرام نے راولپنڈی میں ہونے والے دہشت گردی کے بدترین واقعہ کی شدید مذمت کی اور کہا مقام افسوس ہے کہ جو لوگ مختلف دہشت گردی کے حملوں میں ملوث و مطلوب ہیں وہ بھی اہلسنت کے دعوے دار اور ترجمان بن گئے ہیں۔ کچھ دولت اور ہوس اقتدار کے خواہش مندوں نے ان ہاتھوں سے قرآن لے کر ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف دے دی جنہوں نے تباہی اور دہشت گردی کے رستے پر چل کر اسلام کو بدنام کیا۔ پاکستان میں مذہبی دینی درسگاہیں اور صوفیائے کرام کے آستانوں کے ذریعے اسلام اور پاکستان کی خدمت کی جارہی ان اداروں کو پاکیزہ صاف ستھرا ماحول میسر کرکے خدمت اسلام اور پاکستان کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر علما کرام نے پاکستان کو یورپی یونین میں جی ایس پلس درجہ ملنے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہوا ہے اور پاکستانی مصنوعات کو پوری یورپی دنیا میں پہنچانے اور تجارت کا رستہ کھلا ہے اس کے لئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی انتھک محنت و کاوش اور سجاد کریم اور دیگر ارکان یورپی پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ علمائے کرام نے سنی اتحاد کونسل برطانیہ ویورپ کو مزید فعال بنانے کے لئے مجلس شوری میں برطانیہ بھر سے ممتاز علمائے کو شامل کرنے کے لئے ایک رابطہ کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیاجس علامہ پروفیسر سید احمد حسین ترمذی ، علامہ حافظ فضل احمد قادری، علامہ حفیظ الرحمن چشتی، علامہ صاحبزادہ محمد رفیق چشتی، علامہ حافظ محمد فاروق چشتی، صاحبزادہ ڈاکٹر حبیب احمدنقشبندی، صاحبزادہ برکات احمد چشتی ، صاحبزادہ محمد عمرانی ابدالی، علامہ قاری واجد شامل ہیں۔ جبکہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین مہر الملت صاحبزادہ پیر منورحسین جماعتی، علامہ قاضی عبدالعزیزچشتی، جنرل سیکرٹری الحاج مولانا محمد بوستان قادری سیکرٹری نشرواشاعت علامہ صاحبزادہ سید محمد ظفر اللہ شاہ، علامہ حافظ عنایت علی ،علامہ عبدالرزاق ساجد، صاحبزادہ علامہ سید مزمل حسین جماعتی، علامہ مصباح المالک نقشبندی، علامہ رسول بخش سعیدی بھی اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالے رکھیں گے۔ تمام شرکائے اجلاس نے متفقہ طورپر طے کیا کہ برطانیہ بھر کے علمائے کرام، مشائخ عظام اور اہلسنت والجماعت کی تمام تنظیموں سے رابطہ قائم کرکے نہ صرف ان کی نمائندگی حاصل کی جائے گی بلکہ سنی اتحاد کونسل برطانیہ ویورپ کو مربوط ومضبوط بنا کر اہلسنت والجماعت کا متحدہ پلیٹ فارم بنایاجائے گا اور نوجوان علمائے کرام کو بھی سنی اتحاد کونسل میں بھرپور نمائندگی دی جائے گی۔