مقبول خبریں
مسرت چوہدری اور اختر چوہدری کا لارڈ مئیر عابد چوہان کے اعزاز میں ظہرانہ
پاکستان پریس کلب یوکے کے سالانہ انتخابات اور تقریب حلف برداری
چیئرمین پی آئی ایچ آرچوہدری عبدالعزیز کوسوک ایوارڈ فار کمیونٹی سروسز سے نواز گیا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
ہر انسان کو اس کے مذہب کے مطابق تدفین کی اجازت ملنی چاہئے: سعیدہ وارثی و دیگر
Corona virus
پکچرگیلری
Advertisement
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
لوٹن (رپورٹ شیراز خان )برطانیہ میں مقیم کشمیری صحافی اسرار احمد راجہ کی کتاب بعنوان ’’ کشمیر کا المیہ ‘‘ کی تقریب رونمائی لوٹن کے ٹاون ہال میں منعقد ہوئی جس میں مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک سمیت مقامی کونسلروں، سیاسی، صحافتی اور سماجی شخصیات سمیت تقریب کے صدر پروفیسر ظفر خان، پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے یوکے میں چیئرمین چوہدری عبدالعزيز اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی مرکزی جامع مسجد کے امام حافظ اعجاز نقشبندی کی تلاوت قرآن پاک سے تقریب کا آغاز ہوا تو ابتداء میں مئیر لوٹن کونسلر طاہر ملک نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا مقررین نے بھارت کی ہندوتوا کے نظریے کی پیروکار نریندرمودی کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اس وقت جاری کشمیریوں کی نسل کشی، لاک ڈاؤن، کرفیو کے نفاد پر نہایت غم و غصے کا اظہار کیا اور بھارتی اقدامات کو شرمناک قرار دیا مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیر کی تحریک میں ایک ایسا موڑ آگیا ہے کہ ہم نے اگر اس موقع پر ہر سیاسی اور سفارتی محاذ پر اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کے لئے اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف اپنا بھرپور کردار ادا نہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گئی برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں منتخب ہونے والے ممبران آف پارلیمنٹ کو بار بار یہ یاد دہانی کروانی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں کتاب کے مصنف اسرار احمد راجہ نے کہا کہ کشمیر کی تحریک کو برادریوں، قبیلوں اور علاقائی تقسیم پر کبھی نقصان پہنچا تو کبھی سیاسی اور جماعتی بنیادوں پر مالی اور زاتی مفادات کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے اور یہ امر ابھی تک جاری ہے کشمیر کا المیہ تین سو بیس صفحات پر مشتمل ہے اس کتاب میں اجاگر کیا گیا ہے کہ کشمیر کی تاریخ پانچ سو سال پرانی ہے اور یہ تاریخ کشمیریوں نے اپنی آئیندہ نسلوں کو منتقل کرنی ہے اسرار احمد راجہ نے کہا کہ آج بھی اگر لوگ تحریک سے مخلص ہوجائیں تو کشمیر آزاد ہوجائے گا اور اس کا بیڑہ َخود کشمیریوں نے اٹھانا ہے۔ایک طرف لوگ اپنی جان ومال کی قربانیاں دے رہے ہیں تو دوسری جانب ہم ان حالات میں بھی انکے لئے آواز نہیں اٹھا سکتے۔پروفیسر ظفر خان، چوہدری عبدالعزیز، شیراز خان، اسرار خان کونسلر راجہ وحید اکبر، جے کے ایل ایف کے راجہ ایوب راٹھور، انوار راجہ، خالد جونوی، تحریک کشمیر برطانیہ کے نائب صدر غفارت شاہد ،سابق میٹر ریاض بٹ اور پروفیسر امتیاز کا کہنا تھا کہ اسرار احمد راجہ کی کتاب ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے جب ساری دنیا میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث ہے ان حالات میں کتاب کشمیر کی تاریخ ماضی اور حال میں رونما ہونے والے واقعات کی خوبصورت منظر کشی کرنے اور معلومات فراہم کرنے کا باعث بنے گی انوار راجہ نے کہا کہ کشمیر کا المیہ ایک ایسی کتاب ہے جو کشمیریوں کو ایک قوم بننے کی ترغیب دیتی ہے ان میں احساس بیدار کرنے کا سبب ہے معروف سماجی و سیاسی رہنما راجہ اکبرداد نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سپورٹ کررہا ہے اس کا ہمیں احترام ہے البتہ کشمیر پر پالیسی کو زیادہ جارحانہ بنانے کی ضرورت ہے بعد ازاں جو وکشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی صدر سید تحسین گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسرار راجہ کو کتاب لکھنے پر خراج تحسین پیش کیا انہوں نے اپیل کی کہ 16 فروری کو لندن بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مظاہرہ کیا جائے جس میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی جائے، اس موقع پر کونسلر راجہ اسلم خان، کونسلر کاشف چوہدری، پی ٹی آئی کے رہنما چوہدری عبدالمجید، چوہدری محمد افسر، شفقت محمود، پیپلزپارٹی کے چوہدری محمد تاج، عبدالرشید ملک، لبریشن فرنٹ کے سابق صدر صابر گل، فیاض قریشی، حاجی قربان حسین، پروفیسر ممتاز بٹ، حاجی طالب کیانی، فیصل القاب، ضیاءالحق قریشی، سرفراز احمد موسیٰ، راجہ ذوالفقار، مسرت اقبال، منصف چوہدری، جمیل منہاس، کامران عابد بخاری، نثار گلشن، عتیق الرحمن، سید صفدر بخاری، راجہ عمران، احتشام الحق قریشی، شہزاد علی اور دیگر موجود تھے۔