مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ٹوری حکومت فیملی بینیفٹس میں مزیدکمی کیلئے کوشاں، لب ڈیم کی مخالفت !!
لندن ... موجودہ برطانوی حکومت سے نالاں عوام نے عراقی نژاد مسلمان ممبر پارلیمنٹ ندیم زہاوی کی اس تجویز کا سخت برا منایا ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے کہا ہے کہ بینیفٹ ریفارمز کے سلسلے میں حکومت کو ہر برطانوی فیملی کے صرف دو بچوں کو فوائد دینے چاہیئں۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے انہوں نے کہا ہے کہ اس سے ناصرف آبادی کا تناسب برقرار رہتا ہے بلکہ معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔ ایم پی نے چائلڈ ٹیکس کریڈٹ کیلئے بھی دو بچوں کی حد مقرر کرنے کی سفارش کی ہے انھوں نے دعویٰ کیاہے کہ ان کی سفارش اور تجویز پر عمل کی صورت میں سالانہ اربوں پونڈ کی بچت ہوگی۔ جبکہ نائب برطانوی وزیر اعظم نک کلیگ نے کہا ہے کہدو کی حد سے زائد بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو بینفٹس سے محروم کرنے کا اقدام ناقابل قبول ہوگا۔ ٹوری پارٹی کے موقف بارے انکا کہنا ہے کہ ہم بہت دوررس چائلڈ بینفٹ تبدیلیاں بہت پہلے ہی متعارف کراچکے ہیں اور ان میں مزید تبدیلیاں لانا ناانصافی ہوگی۔ ریاست یا حکومت کا بچے پیدا کرنے کے لیے تعداد مقرر کرنا جبر ہوگا۔ حکومتی پارٹی ٹوری کے ایم پی ندیم زہاوی نے اپنے موقف کی وضاحت کیلئے معروف برطانوی اخبار میل آن سنڈے میں ایک مضمون بھی لکھا جس میں کہا گیا کہ بینی فٹس کو فیملی سائز تک محددد کرنے سے اربوں پونڈ کی بچت ہوگی جو ہماری اگلی نسلوں کے کام آئے گی اور وہ ویلفیئر سٹیٹ کے حوالے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ سوچ سکیں گے۔ اس تجویز پر عمل کی صورت میں ایک فیملی جس کے تین بچے ہیں اور ان کی آمدنی 50 ہزار پونڈ سے کم ہے وہ فی الوقت پورے بینی فٹس کاکلیم کرتی ہے۔ میل آن سنڈے کاکہنا ہے کہ جو لوگ 30 ہزار پونڈ سے کم کماتے ہیں انھیں چائلڈ ٹیکس کریڈٹس میں 2 ہزار 725 پونڈ سالانہ کم ملیں گے ،زہاوی چاہتے ہیں کہ ان کی تجاویز کو ٹوری کے اگلے منشور میں شامل کرلیاجائے۔