مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شراب بیچنا بند کرو ورنہ کوڑے کھانے کو تیاررہو،مسلم انتہا پسند گروپ کالندن میں مظاہرہ
لندن ...مسلم انتبا پسندی کے حوالے سے معروف مشرقی لندن کے علاقے وائٹ چیپل میں کرسمس سے قبل پھر سے ایک ایسی حرکت کی گئی ہے جس نے سے امن، محبت اور بھائی چارے کے خواہاں مسلمانوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ برطانیہ میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے پرچارک انجم چوہدری نے بھی ان لوگوں کو بھرپور سپورٹ کیا۔ تفصیلات کے مطابق برک لین ایسٹ لندن پر برقعہ پوش خواتین اور باریش مردوں نے کالعدم قرار دی گئی تنظیم المہاجرون کے سربراہ انجم چوہدری کے ہمراہ مظاہرہ کیا اور شراب بیچنے والوں کو متنبہ کیا کہ اگر وہ اس کام سے باز نہ آئے تو اسلامی شریعت کے مطابق انہیں سزا دی جائے گی۔ انجم چوہدری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ ناانصافی کا گڑھ ہے۔ یہاں شاپس کے چلانے والے مسلمان ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ شراب فروخت کرنا اور پینا منع ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کے درمیان رہتے ہوئے یہ شیطانی کام جاری نہیں رہ سکتا۔ مظاہرے کے آرگنائزر انور رحمن نے کہا کہ شراب فروخت کرنے والوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اس کی فروخت بند کردیں، کیونکہ شرعی قوانین کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم معاشرے میں شراب کے سبب پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کررہے ہیں۔ کیونکہ شراب میں تشدد کے بیشتر واقعات، گھریلو تشدد، ڈیٹ ریپ اور ریپ کی دیگر وارداتوں کی ذمہ دار ہوتی ہے۔مسٹر رحمن جو ابوبرا کے نام سے جانے جاتے ہیں نے کہا کہ شراب کے خلاف احتجاج کا فیصلہ اسی علاقے میں اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہاں دفاتر میں کام کرنے والے افراد کرسمس پارٹیوں کے لیے آتے ہیں۔ نہوں نے کہا کہ متعدد شاپس مالکان شراب فروخت کرنے پر شرمندہ ہیں، لیکن وہ اسے کاروباری مجبوری بتاتے ہیں۔واضع رہے اسی گروپ کے تین افراد کو پچھلے ہفتہ ایسی ہی سرگرمیوں پر سزا بھی ہوئی تھی۔ انہیں لوگوں کو ہراساں کرنے کے جرم میں مختلف میعاد کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان نوجوانوں نے علاقے میں شرعی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے شراب پینے والوں پر حملہ کرنے، جوڑے کو ہاتھ پکڑ کر نہ چلنے کی ہدایت دینے اور ایک خاتون کو نامناسب لباس نہ پہننے پر دوزخ میں چلنے کی دھمکی دینے کے الزامات تھے۔ اس مظاہرے کے خلاف مخالف انتہا پسند جماعت انگلش ڈیفنس لیگ کے چند ارکان نے بھی احتجاج کیا۔ ایسٹ لندن ماسک کے ترجمان نے احتجاجی مظاہرے کی مذمت کرتے ہوئے اسے شہرت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات مقامی افراد اور بزنس مالکان کو اپنا دشمن بنائیں گے۔ شراب فروخت کرنے والوں کو کوڑے مارنے کی دھمکی کو ممتاز مسلم سکالر اور قولیم فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر اسامہ حسن نے اشتعال انگیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو اس بات کا احساس نہیں کہ الکحل اس معاشرے کا حصہ ہے۔ بیشتر مسلمان بشمول میرے شراب نہیں پیتے اور ایسا ہی مسلم معاشروں میں ہوتا ہے۔ ہم ایک جمہوری معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہمیں مظاہرے کرنے کی آزادی ہے اور انہیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ کسی پر زبردستی اپنے خیالات نہیں تھوپ سکتے۔