مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شراب بیچنا بند کرو ورنہ کوڑے کھانے کو تیاررہو،مسلم انتہا پسند گروپ کالندن میں مظاہرہ
لندن ...مسلم انتبا پسندی کے حوالے سے معروف مشرقی لندن کے علاقے وائٹ چیپل میں کرسمس سے قبل پھر سے ایک ایسی حرکت کی گئی ہے جس نے سے امن، محبت اور بھائی چارے کے خواہاں مسلمانوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ برطانیہ میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے پرچارک انجم چوہدری نے بھی ان لوگوں کو بھرپور سپورٹ کیا۔ تفصیلات کے مطابق برک لین ایسٹ لندن پر برقعہ پوش خواتین اور باریش مردوں نے کالعدم قرار دی گئی تنظیم المہاجرون کے سربراہ انجم چوہدری کے ہمراہ مظاہرہ کیا اور شراب بیچنے والوں کو متنبہ کیا کہ اگر وہ اس کام سے باز نہ آئے تو اسلامی شریعت کے مطابق انہیں سزا دی جائے گی۔ انجم چوہدری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ ناانصافی کا گڑھ ہے۔ یہاں شاپس کے چلانے والے مسلمان ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ شراب فروخت کرنا اور پینا منع ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کے درمیان رہتے ہوئے یہ شیطانی کام جاری نہیں رہ سکتا۔ مظاہرے کے آرگنائزر انور رحمن نے کہا کہ شراب فروخت کرنے والوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اس کی فروخت بند کردیں، کیونکہ شرعی قوانین کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم معاشرے میں شراب کے سبب پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کررہے ہیں۔ کیونکہ شراب میں تشدد کے بیشتر واقعات، گھریلو تشدد، ڈیٹ ریپ اور ریپ کی دیگر وارداتوں کی ذمہ دار ہوتی ہے۔مسٹر رحمن جو ابوبرا کے نام سے جانے جاتے ہیں نے کہا کہ شراب کے خلاف احتجاج کا فیصلہ اسی علاقے میں اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہاں دفاتر میں کام کرنے والے افراد کرسمس پارٹیوں کے لیے آتے ہیں۔ نہوں نے کہا کہ متعدد شاپس مالکان شراب فروخت کرنے پر شرمندہ ہیں، لیکن وہ اسے کاروباری مجبوری بتاتے ہیں۔واضع رہے اسی گروپ کے تین افراد کو پچھلے ہفتہ ایسی ہی سرگرمیوں پر سزا بھی ہوئی تھی۔ انہیں لوگوں کو ہراساں کرنے کے جرم میں مختلف میعاد کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان نوجوانوں نے علاقے میں شرعی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے شراب پینے والوں پر حملہ کرنے، جوڑے کو ہاتھ پکڑ کر نہ چلنے کی ہدایت دینے اور ایک خاتون کو نامناسب لباس نہ پہننے پر دوزخ میں چلنے کی دھمکی دینے کے الزامات تھے۔ اس مظاہرے کے خلاف مخالف انتہا پسند جماعت انگلش ڈیفنس لیگ کے چند ارکان نے بھی احتجاج کیا۔ ایسٹ لندن ماسک کے ترجمان نے احتجاجی مظاہرے کی مذمت کرتے ہوئے اسے شہرت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات مقامی افراد اور بزنس مالکان کو اپنا دشمن بنائیں گے۔ شراب فروخت کرنے والوں کو کوڑے مارنے کی دھمکی کو ممتاز مسلم سکالر اور قولیم فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر اسامہ حسن نے اشتعال انگیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو اس بات کا احساس نہیں کہ الکحل اس معاشرے کا حصہ ہے۔ بیشتر مسلمان بشمول میرے شراب نہیں پیتے اور ایسا ہی مسلم معاشروں میں ہوتا ہے۔ ہم ایک جمہوری معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ہمیں مظاہرے کرنے کی آزادی ہے اور انہیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ کسی پر زبردستی اپنے خیالات نہیں تھوپ سکتے۔