مقبول خبریں
ڈیبی ابراھم کیساتھ ناروا سلوک سے بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ بے نقاب
مہنگائی کی ذمے دار عمران خان حکومت ہے ،شہباز شریف
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کی ڈیبی ابراھام کے ہندوستان میں داخلے پر پابندی کی شدید مذمت
آتش فشاں
پکچرگیلری
Advertisement
بلقیس بانو زندہ کیوں؟؟؟؟؟
کیا آپ جانتے ہیں بلقیس بانو کے ساتھ کیا ہوا؟؟؟بھارت میں شہریت کے حوالے سے نئی قانون سازی کے بعد سے بلقیس بانو کی داستان الم ایک بار پھر کثرت سے سننے میں آرہی ہے۔1992میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے وقت بلقیس بانو کی عمر یہی کوئی سترہ اٹھارہ برس کے لگ بھگ تھی۔ان کا گائوں احمد آباد سے کوئی دو سو کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ ہندو بلوائیوں نے جس دن ان کے گائوں میں مسلمانوں کے ساٹھ سے زائد گھر ایک ساتھ جلا دیے تو تمام گھر والے سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ کیا کہ رات ہوتے ہی احمد آباد جاکر پناہ لے لی جائے۔بلقیس سمیت خاندان کے اٹھارہ افراد ایک ٹرک میں ضروری سامان کے ساتھ سوار ہوگئے۔ ابھی چند کلومیٹر کا سفر ہی کیا ہوگا کہ پچیس تیس کے قریب ہندو بلوائیوں نے ٹرک کو گھیرے میں لے کر رکنے پر مجبور کردیا۔ وہ جئے ھند اور جئے مودی کے نعرے لگا رہے تھے۔ٹرک روکتے ہی انہوں نے شیرخوار بچوں کو مائوں کی گود سے کھنچ کھینچ کر فرش پر پٹخنا شروع کردیا ، دس بارہ سال کی عمر کے بچوں کو خنجروں سے چیر دیا گیا، مردوں کی گردن میں ان ہی کی عورتوں کی چادریں باندھ کر وہیں درختوں سے لٹکا دیا گیا، جو عورتیں بچ گئیں ، انہیں ایک ساتھ دس دس بلوائیوں نے اپنی جنسی دیوانگی کا نشانہ بنایا۔ اس کی ایک بڑی بہن شمیم بھی اسی ٹرک میں سوار تھی جس کے ہاں ایک روز پہلے ہی ایک بچی نے جنم لیا تھا۔ ظالموں نے پہلے اس معصوم بے زبان بچی کو زمین پر پٹخ کر موت کے گھاٹ اتارا اور پھر شمیم کی عزت کو تار تار کیا۔خود بلقیس بھی اس وقت وہ پانچ ماہ کی حاملہ بھی تھی،لیکن بلوائیوں نے اس کے حاملہ ہونے کا بھی لحاظ نہیں کیا۔ قصہ مختصر کہ وہ تمام اٹھارہ کے اٹھارہ لوگ مار دیے گئے، بلقیس کو بھی وہ بلوائی مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے، لیکن قدرت نے ابھی اس کی زندگی کا اختتام نہیں لکھا تھا۔دن نکلنے پر اسے ہوش آیا تو سارا بدن لہو لہو تھا اور اس کے ہر طرف اس کے پیاروں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ تب سے اب تک بلقیس بانو اپنے گھرانے کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کا حساب لینے کے لیے عدالتوں کے دھکے کھارہی ہے۔ ایک نیوز چینل سے کچھ دن قبل بات کرتے ہوئے اس نے کہا تھا، ’’ میں ابھی تک زندہ کیوں ہوں؟؟کاش میں بھی اسی رات ماردی جاتی، مجھے ان بے حس اور نابینا عدالتوں میں یوں ذلیل تو نا ہونا پڑتا۔‘‘ مسلمانوں کے ساتھ مسٹر مودی کی سرپرستی میں اس طرح کا ظلم و ستم کوئی نئی بات نہیں۔2002میں ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے ناپاک عمل کے بعد جب مسلمانوں نے احتجاج کیا تو بھی ہندو انتہا پسندوں نے اسی طرح کے وحشیانہ رویے کا مظاہرہ کیا تھالیکن بھارتی حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔آج بھی مودی سرکار کا مسلمانوں کے ساتھ وہی سرد مہری کا رویہ ہے۔حال ہی میں مودی سرکار نے بھارت میں مسلمانوں کے لیے شہریت کاایک نیا قانون نتعارف کرایا ہے جس کے تحت بھارت میں مسلمان ممالک سے ہجرت کرکے آنے والوں کے باعثمسائل میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔قانون میں کہا گیا ہے کہ افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان خطے کے وہ ممالک ہیں جو اسلام کو اپنا قومی مذہب قرار دیتے ہیں اور جہاں مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی پابندیوں کا سامنا نہیں ،دنیا بھر اور خاص طور پر جنوب ایشیا میں آباد مسلمانوں کے لیے ان ممالک سے بہتر اور محفوظ جگہ اور کوئی نہیں ہوسکتی۔لہٰذا تمام مسلمانوں کو ان مسلمان ممالک میں ٹھکانہ بنانا چاہیے۔ہندوستان صرف ہندوئوں کے لیے ہے، مسلمانوں کا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں۔آجکل سارا ہندوستان اس قانون کے خلاف احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔نئی دلی، ممبئی، بینگلور، کلکتہ، احمد آباد اور لکھنئو سمیت چودہ سے زائد شہروں میں حکومت کو شہریت کے نئے قانون کے حوالے سے بدترین عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ چھوٹے چھوٹے جلسے جلوسوں سے شروع ہونے والی تحریک گھیرائو جلائو کے واقعات تک پہنچ چکی ہے۔اب تک ہزاروں لوگ گرفتار کیے جاچکے ہیں اور درجنوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی ہیں ۔آگ اور خون کا یہ کھیل ہر روز شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے۔حالات حکومت کے بالکل بھی کنٹرول میں نہیں، حکومت نے تنگ آکر پورے ملک میں دفعہ 144نافذ کردی ہے جس کے تحت چار یا چار سے زائد لوگوں کے اکھٹاہونے پر پابندی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی طرح ہنگاموں سے متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ سمیت مواصلات کے ہر نظام کو معطل کردیا گیا ہے، ریل گاڑیاں اور بسیں بھی روک دی گئی ہیں۔اندیشہ ہے کہ حالات اور بھی خرابی کی طرف جائیں گے۔تاہم قابل غور بات یہ کہ مودی سرکار مسلمانوں کے اس احتجاج کو معمولی سی بھی اہمیت دینے کی بجائے قوم کی توجہ تقسیم کرنے کے لیے لائین آف کنٹرول کے دوسری طرف پاکستانی علاقے میںآباد بے گناہ شہریوں پر بلا اشتعال گولہ باری میں مصروف ہے۔ ہندتوا فلسفے کے سچے پیروکار مسٹر مودی ایک عرصے سے کوشش میں تھے کہ کسی طرح مسلمانوں پر دیش کی زمین اور بھی تنگ کر دی جائے اور ایسے حالات پیدا کردیے جائیں جن سے پریشان ہوکر مسلمان بھارت چھوڑ کر کسی اور ملک میں آباد ہونے کی سوچنے لگیں۔کبھی بابری مسجد کو مندر میں بدلنے کی کوشش تو کبھی گائے کاٹنے کے جرم میں مسلمانوں کو زندہ جلانے کی مہم، مودی سرکار نے شائیننگ انڈیا میں سب کچھ ہی کرڈالا لیکن پھر بھی انہیں تشفی نہ ہوسکی۔اب ایک آخری کاوش کے طور پر شہریت کا یہ نیا بل پاس کروالیاتاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کو اس بات کا قطعاً بھی اندازہ نہیں تھا کہ مسلمان اس بل کے خلاف اس قدر شدیدردعمل کا مظاہرہ کریں گے۔شاید مودی صاحب کا خیال تھا کہ مسلمانوں کا یہ شور ہنگامہ محض چند روز میں ٹھنڈا پڑ جائے گا۔جب مقبوضہ کشمیر کی الحاقی حیثیت بدلنے کے حوالے سے آرٹیکل 370اور 35Aکی منسوخی کا اعلان کیا گیا تھا تب بھی ایک دم سے بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیاتھا لیکن کشمیری چیخ چلاِّکر بالآخر خاموش ہوگئے۔ مودی صاحب سمجھتے ہیںکہ اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا بھارت کے مسلمان اپنے اس استحصال کو بھی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں گے؟؟؟کیا اس بار بھی مسلمان ہمیشہ کی طرح بے بسی اور لاچارگی کی ایک نئی داستان کا عنوان ٹھہریں گے؟؟؟ بحرحال یہ ساری صورت حال دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ سوچنے پر ضرور مجبور کرے گی کہ آخر ہر جگہ صرف اور صرف مسلمان ہی ظلم و ستم کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں۔کہاں گئی ہماری وہ للکار جسے سن کر دشمنوں کے دل دہل جاتے تھے اور کہاں گئی ہماری وہ تلوار جس کی چمک اور کڑک ہی دشمن کا خون خشک کردیا کرتی تھی۔ہمیں اپنے زوال کے اسباب پر غور ضرور کرنا چاہیے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ بلقیس بانو کی طرح ہم بھی آج سے کچھ عرصے بعدیہی شکوہ کرتے دکھائی دیں کہ ہم مر کیوں نہیں گئے، ہم ابھی تک زندہ کیوں ہیں؟؟؟