مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اقبال بڑے عاشق رسول تھے،جذبہ صادق انکے پاکیزہ سیرت والدین کی اولین تر بیت کا نتیجہ تھا
لندن ... بارکنگ مسلم سوشل کلچرل سوسائٹی کے اشتراک سے مجلسِ اقبال لندن نے مسلم کمیونٹی سنٹر میں علامہ اقبال کے حوالے سے ایک علمی اور فکری تقریب منعقد کی۔ جس میں بارکنگ کے علاوہ لندن کے دیگر علاقوں میں مقیم مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں نے شرکت کی تھی۔ صدارت کے فرائض پروفیسر خضر اعظم نے سر انجام دیئے۔ مہمانان خصوصی میں ڈاکٹر ادریس اور ہیکنی کے سابق مئیر شجاع شیخ تھے۔ محمد شریف نے نظامت کی۔ حسب روایت یہ تقریب وقت پر شروع کی گئی۔ بارکنگ مسلم سوشل اینڈ کلچرل سوسائٹی کے صدر راجہ محمد بشیر نے قرآن کلیم کی تلاوت سے اس پروگرام کا آغاز کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک نعت بھی سنائی۔ پروفیسر شریف بقا نے علامہ اقبال کی ولادت کی اہمیت کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ لندن کے معروف بیرسٹر سلیم قریشی کا موضوع سخن ’’اقبال اور عصر حاضر‘‘ تھا انہوں نے کہا کہ اقبال کی شاعری میں ہمیں صرف ماضی کی جھلکیاں ہی نہیں بلکہ دور حاضر اور مستقبل کا عکس بھی نظر آتا ہے۔اسلم رشید نے اپنی مخصوص شاعری میں عظمت اقبال کا تذکرہ کیا۔ سلمان سعود نے اپنی مترنم اور شیریں آواز میں حکیم الاامت اور ترجمان فطرت اقبال کی ایک مشہور غزل سنائی۔ سلمان سعود عاشق اقبال اور انکے کلام کو بڑے دلنشین انداز میں سنانے میں ماہر ہیں۔ حاضرین محفل نے دل کھول کر انہیں داد دی۔ ڈاکٹر جمال بھی علامہ اقبال سے خاص عقیدت رکھتے ہیں ۔انہوں نے اپنی نظم ’’علامہ محمد اقبال‘‘ سنائی ۔ وہ عظمت اقبال کے بارے میں یوں گویا ہوئے۔ روح حلم میں کیا ہیجان پیدا شعر سے تشنہ لب کے سامنے حاضر خودی کا جام تھا کامرانی کا ہمیں نسخہ دیا اس دور میں جس زمانے میں مسلماں ہر جگہ ناکا م تھا ہے دعا میری کہ پیدا پھر کوئی اقبال ہو پھر ملے پیغام جو اقبال کا پیغام تھا شکیب مراز لندن کے کہنہ مشق اور مشہور شاعر ہیں انہوں نے اس موقع پر ایک مختصر مگر بڑی فکر انگیز نظم پڑھی جسکا درج ذیل شعر قابل توجہ ہے۔ ہر شخص ناصح ہے ہر اک بنا ہے واعظ رکھتا مگر نہیں ہے کوئی بھی عقل دانا اسکے بعد نیوہیم کے سابق مئیر شیخ عبدالکریم کی تقریر کا موضوع تھا ’’اقبال کا پیغام‘‘ انسانیت کے نام۔ انکی تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ علامہ اقبال کا پیغام مسلمانوں تک محدود نہیں کیونکہ یہ آفاقی اہمیت کا حامل ہے ان کی نگاہ میں علامہ اقبال کی روز افزوں مقبولیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کا ذکر دنیا کے تمام بڑے بڑے ممالک میں بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے علامہ مرحوم و مغفور کا درج ذیل شعرسناتے ہوئے کہاکہ وہ انسانیت کے بہت بڑے ترجمان اور غمگسار تھے۔ محمد عبدا للہ قریشی کی تقریر کا موضوع تھا’’اقبال اور عشق رسول خلاصہ یہ تھا کہ علامہ اقبال بڑے عاشق رسول تھے۔ یہ جذبہ صادق انکے پاکیزہ سیرت والدین کی اولین تر بیت کا لازمی نتیجہ ہے۔یہی عشق رسول اقبال کی تمام شاعری میں رچا بسا نظر آتا ہے۔ ہیکنی کے ایک اور سابق مئیر فیض اللہ خان نے علامہ اقبال کا کلام اپنی گرجدار آواز میں سنا کر خوب داد وصول کی۔ ہیکنی کے سابق مئیر شیخ شجاع کی تقریر کا موضوع تھا’’اقبال کی ذہنی وسعت‘‘ انکی بیحد مختصر تقریر کا لب لبا یہ تھا علامہ اقبال کی ذہنی وسعت کا اعجازیہ ہے کہ انہوں نے انسان، کائنات اور زندگی کے گو نا گوں خیالات کا اظہار کر کے اپنی عظمت کا ثبوت دیا ہے۔ ان کے نواسے نے اردو میں اپنے خیالات کو بیان کر کے اپنی اردو وانی کا ثبوت دیا بچے کی اس سعی کو لوگوں نے بہت داد دی۔ ڈاکٹر ادریس نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ ہمیں علامہ اقبال کے پیغام کو بخوبی جان کر اس پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ یہی ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو نکھارنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقبال کی شاعری مقصدیت اور افادیت کی حامل ہے اس لئے یہ قابل قدر بھی ہے اور لائق مطالعہ بھی۔ انہوں نے اتحاد و انسانیت کیلئے اسلام کے عالگیر اور پر امن پیغام کی وکالت کی اور لیگ آف نیشنز کے قیام کو ناقص اور فساد انگیز قرار دیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے قیام پاکستان کے خمیر میں علامہ اقبال اور محمد علی جناح کی مساعی کو سراہا۔