مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کے 21 ویں چیف جسٹس، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا
اسلام آباد ... پاکستان کی سپریم کورٹ کے 21 ویں چیف جسٹس، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ نئے چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب جمعرات کی صبح ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم نواز شریف اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، وفاقی شریعت کورٹ کے ججوں کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بھی شرکت کی۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین نے جسٹس تصدق حسین جیلانی سے حلف لیا۔ وہ سات ماہ تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے اور اُن کے بعد جسٹس ناصرالملک پاکستان کے نئے چیف جسٹس بنیں گے۔ خیال رہے کہ بدھ کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اعزاز میں منعقد ہونے والے فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا تھا کہ عدالت سمیت ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر اہم معاملات پر دائر کی جانے والی درخواستوں اور اختیارات کو ذاتی مفاد میں استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت سپریم کورٹ کو ملنے والے اختیارات کی حدود پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کی طرف سے ایک نوٹ چیف جسٹس کے سامنے رکھا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس ریفرنس کی ایک نجی میڈیا گروپ کو اس کی کوریج سے متعلق الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں خبریں شائع ہوئی ہیں جس میں الزام عائد کیاگیا ہے کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے اس ضمن میں دوسرے صحافیوں سے جانبدارانہ سلوک روا رکھا۔ اس مبینہ جانبدارانہ سلوک پر سپریم کورٹ کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے سپریم کورٹ میں ہونے والی تقریبات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس پر پاکستان کے نئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار محمد علی کو معاملے کا تحقیقاتی افسر مقرر کرتے ہوئے اُنھیں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔