مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کے 21 ویں چیف جسٹس، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا
اسلام آباد ... پاکستان کی سپریم کورٹ کے 21 ویں چیف جسٹس، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ نئے چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب جمعرات کی صبح ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم نواز شریف اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، وفاقی شریعت کورٹ کے ججوں کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بھی شرکت کی۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین نے جسٹس تصدق حسین جیلانی سے حلف لیا۔ وہ سات ماہ تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے اور اُن کے بعد جسٹس ناصرالملک پاکستان کے نئے چیف جسٹس بنیں گے۔ خیال رہے کہ بدھ کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اعزاز میں منعقد ہونے والے فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا تھا کہ عدالت سمیت ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر اہم معاملات پر دائر کی جانے والی درخواستوں اور اختیارات کو ذاتی مفاد میں استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت سپریم کورٹ کو ملنے والے اختیارات کی حدود پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کی طرف سے ایک نوٹ چیف جسٹس کے سامنے رکھا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس ریفرنس کی ایک نجی میڈیا گروپ کو اس کی کوریج سے متعلق الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں خبریں شائع ہوئی ہیں جس میں الزام عائد کیاگیا ہے کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے اس ضمن میں دوسرے صحافیوں سے جانبدارانہ سلوک روا رکھا۔ اس مبینہ جانبدارانہ سلوک پر سپریم کورٹ کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے سپریم کورٹ میں ہونے والی تقریبات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس پر پاکستان کے نئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار محمد علی کو معاملے کا تحقیقاتی افسر مقرر کرتے ہوئے اُنھیں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔