مقبول خبریں
اولڈہم ہوپ ووڈ ہاؤس ہیلتھ سنٹر میں خواتین کو آگاہی دینے کیلئے لیڈی ہیلتھ ڈے کا اہتمام
بھارتی لابی نے کشمیر کانفرنس کوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے: شاہ محمود قریشی
تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام کوپن ہیگن میں اظہار یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کے 21 ویں چیف جسٹس، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا
اسلام آباد ... پاکستان کی سپریم کورٹ کے 21 ویں چیف جسٹس، جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ نئے چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب جمعرات کی صبح ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم نواز شریف اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، وفاقی شریعت کورٹ کے ججوں کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بھی شرکت کی۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین نے جسٹس تصدق حسین جیلانی سے حلف لیا۔ وہ سات ماہ تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے اور اُن کے بعد جسٹس ناصرالملک پاکستان کے نئے چیف جسٹس بنیں گے۔ خیال رہے کہ بدھ کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اعزاز میں منعقد ہونے والے فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا تھا کہ عدالت سمیت ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر اہم معاملات پر دائر کی جانے والی درخواستوں اور اختیارات کو ذاتی مفاد میں استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت سپریم کورٹ کو ملنے والے اختیارات کی حدود پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کی طرف سے ایک نوٹ چیف جسٹس کے سامنے رکھا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس ریفرنس کی ایک نجی میڈیا گروپ کو اس کی کوریج سے متعلق الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں خبریں شائع ہوئی ہیں جس میں الزام عائد کیاگیا ہے کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے اس ضمن میں دوسرے صحافیوں سے جانبدارانہ سلوک روا رکھا۔ اس مبینہ جانبدارانہ سلوک پر سپریم کورٹ کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے سپریم کورٹ میں ہونے والی تقریبات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس پر پاکستان کے نئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار محمد علی کو معاملے کا تحقیقاتی افسر مقرر کرتے ہوئے اُنھیں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔