مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
خودکش حملے مسلمان نوجوان طبقے کو گمراہ اور تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے:سعودی مفتی اعظم
ریاض ... کرسمس سے قبل مذاہب کی دنیا پر نظر رکھنے والوں کو ایک ایسی خبر سننے کو ملی ہے جسکی توقع عام طور پر نہیں کی جاتی، ایک عرصے سے مسلم انتہا پسندی کے سرے بغیر کسی ثبوت کے سعودی عرب سے جوڑنے والے بھی یقینی طور پر اس خبر سے چونکے ہونگے۔ خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزآل الشیخ نے واضع طور پر کہا ہے کہ جسطرح خود کشی حرام ہے اسی طرح خود کش حملے بھی حرام ہیں، اسلام کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ سعودی اخبار الحیات کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ خودکش حملہ کرناسنگین جرم ہے اس طرح کی کارروائیاں وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں جہنم میں جانے کی بہت زیادہ جلدی ہوتی ہے۔ انکا واضع موقف تھا کہ پنے آپ کو مارنا ایک سنگین جرم اورسنگین گناہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملے مسلمان نوجوان طبقے کو گمراہ اور تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔ واضع رہے کہ اسلامی ممالک میں قرآن و حدیث کے مطابق فتوہ جاری کرنے والے کو مفتی اور انکے سربراہ کو مفتی اعظم کہا جاتا ہے۔ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزآل الشیخ نے کہا کہ خودکش حملہ آور نا صرف مسلمان بلکہ تمام انسانیت کا دشمن ہے اسلام تو کسی ایک شخص کی جانب سے خودکشی کو بھی حرام قرار دیتا ہے۔ تو پھر خودکش حملے کس طرح جائز ہوسکتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کو ناصرف اپنے ملک بلکہ پوری امت مسلمہ میں بڑی اہمیت حاصل ہے، ہر سال لاکھوں فرزندان توحید حج کے موقع پر انکا خطبہ پورے انہماق سے سنتے ہیں۔ امسال خطبہ حج میں بھی انہوں نے خود کش حملوں کی سختی سے مذمت کی تھی۔ غیر مذاہب سے اس کا رد عمل سامنے نہیں آیا تاہم سعودی عرب اور وہاں کے مفتیان کرام سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والے مسلمانوں نے سوشل میڈیا پر طرح طرح کی پوسٹیں ڈالنی شروع کر دی ہیں جس سے مسلم فرقوں کا آپس کی بحث کا بازار خوب گرم ہے۔