مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
خودکش حملے مسلمان نوجوان طبقے کو گمراہ اور تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے:سعودی مفتی اعظم
ریاض ... کرسمس سے قبل مذاہب کی دنیا پر نظر رکھنے والوں کو ایک ایسی خبر سننے کو ملی ہے جسکی توقع عام طور پر نہیں کی جاتی، ایک عرصے سے مسلم انتہا پسندی کے سرے بغیر کسی ثبوت کے سعودی عرب سے جوڑنے والے بھی یقینی طور پر اس خبر سے چونکے ہونگے۔ خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزآل الشیخ نے واضع طور پر کہا ہے کہ جسطرح خود کشی حرام ہے اسی طرح خود کش حملے بھی حرام ہیں، اسلام کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ سعودی اخبار الحیات کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ خودکش حملہ کرناسنگین جرم ہے اس طرح کی کارروائیاں وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں جہنم میں جانے کی بہت زیادہ جلدی ہوتی ہے۔ انکا واضع موقف تھا کہ پنے آپ کو مارنا ایک سنگین جرم اورسنگین گناہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملے مسلمان نوجوان طبقے کو گمراہ اور تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔ واضع رہے کہ اسلامی ممالک میں قرآن و حدیث کے مطابق فتوہ جاری کرنے والے کو مفتی اور انکے سربراہ کو مفتی اعظم کہا جاتا ہے۔ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزآل الشیخ نے کہا کہ خودکش حملہ آور نا صرف مسلمان بلکہ تمام انسانیت کا دشمن ہے اسلام تو کسی ایک شخص کی جانب سے خودکشی کو بھی حرام قرار دیتا ہے۔ تو پھر خودکش حملے کس طرح جائز ہوسکتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کو ناصرف اپنے ملک بلکہ پوری امت مسلمہ میں بڑی اہمیت حاصل ہے، ہر سال لاکھوں فرزندان توحید حج کے موقع پر انکا خطبہ پورے انہماق سے سنتے ہیں۔ امسال خطبہ حج میں بھی انہوں نے خود کش حملوں کی سختی سے مذمت کی تھی۔ غیر مذاہب سے اس کا رد عمل سامنے نہیں آیا تاہم سعودی عرب اور وہاں کے مفتیان کرام سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والے مسلمانوں نے سوشل میڈیا پر طرح طرح کی پوسٹیں ڈالنی شروع کر دی ہیں جس سے مسلم فرقوں کا آپس کی بحث کا بازار خوب گرم ہے۔