مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
خودکش حملے مسلمان نوجوان طبقے کو گمراہ اور تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے:سعودی مفتی اعظم
ریاض ... کرسمس سے قبل مذاہب کی دنیا پر نظر رکھنے والوں کو ایک ایسی خبر سننے کو ملی ہے جسکی توقع عام طور پر نہیں کی جاتی، ایک عرصے سے مسلم انتہا پسندی کے سرے بغیر کسی ثبوت کے سعودی عرب سے جوڑنے والے بھی یقینی طور پر اس خبر سے چونکے ہونگے۔ خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزآل الشیخ نے واضع طور پر کہا ہے کہ جسطرح خود کشی حرام ہے اسی طرح خود کش حملے بھی حرام ہیں، اسلام کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ سعودی اخبار الحیات کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ خودکش حملہ کرناسنگین جرم ہے اس طرح کی کارروائیاں وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں جہنم میں جانے کی بہت زیادہ جلدی ہوتی ہے۔ انکا واضع موقف تھا کہ پنے آپ کو مارنا ایک سنگین جرم اورسنگین گناہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملے مسلمان نوجوان طبقے کو گمراہ اور تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔ واضع رہے کہ اسلامی ممالک میں قرآن و حدیث کے مطابق فتوہ جاری کرنے والے کو مفتی اور انکے سربراہ کو مفتی اعظم کہا جاتا ہے۔ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیزآل الشیخ نے کہا کہ خودکش حملہ آور نا صرف مسلمان بلکہ تمام انسانیت کا دشمن ہے اسلام تو کسی ایک شخص کی جانب سے خودکشی کو بھی حرام قرار دیتا ہے۔ تو پھر خودکش حملے کس طرح جائز ہوسکتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کو ناصرف اپنے ملک بلکہ پوری امت مسلمہ میں بڑی اہمیت حاصل ہے، ہر سال لاکھوں فرزندان توحید حج کے موقع پر انکا خطبہ پورے انہماق سے سنتے ہیں۔ امسال خطبہ حج میں بھی انہوں نے خود کش حملوں کی سختی سے مذمت کی تھی۔ غیر مذاہب سے اس کا رد عمل سامنے نہیں آیا تاہم سعودی عرب اور وہاں کے مفتیان کرام سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والے مسلمانوں نے سوشل میڈیا پر طرح طرح کی پوسٹیں ڈالنی شروع کر دی ہیں جس سے مسلم فرقوں کا آپس کی بحث کا بازار خوب گرم ہے۔