مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جی ایس پلس ریٹنگ، یورپی یونین میں پاکستان کی شاندار فتح، 27 ممالک میں برآمدات کی چھوٹ
برسلز ... یورپی پارلیمنٹ میں گرما گرم بحث و مباحثہ کے بعد پاکستان نے یورپی ممبران پارلیمنٹ کی واضع حمائت سے جی ایس پلس ملک کا درجہ حاصل کرلیا ہے جسکے بعد پاکستانی تاجر اپنے مصنوعات یورپی منڈیوں میں لے جانے میں آزاد ہوں گے۔ برطانیہ سے پاکستانی نژاد ممبر یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم نے اس حوالے سے بھرپور جدوجہد کی اور یورپی پارلیمنٹ میں فرینڈز آف پاکستان کے چیئرمین ہونے کا حق ادا کیا۔ حکومت پاکستان کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے گورنر پنجاب محمد سرور اور یورپی یونین کیلئے پاکستانی سفیرمنور سعید بھٹی نے بھی اس سلسلے میں کوئی پس و پیش نہ کی جسکی وجہ سے دنیا میں یہ تاثر واضع طور پر ابھرا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے بعد ثمر آور ہونے لگی ہے۔ اس سکیم پر یکم جنوری 2014 سے عمل ہو گا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے یورپی یونین کے اس فیصلے کو پاکستانی مصنوعات پر اعتماد کے اظہار کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کامیابی حکومت کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یورپی ایوان میں پاکستان کو معاشی استحکام کیلئے یس سہولت کی فراہمی کیلئے بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی تو 406 ممبران نے پاکستان کے حق میں جبکہ 182نے مخالفت میں ووٹ دیے۔ پاکستان کو یہ سہولت ملنے سے 27 یورپی ممالک کو پاکستانی برآمدات پہنچانے میں ناصرف مدد ملے کی بلکہ ایک اندازے کے مطابق ان برآمدات کے حجم میں سالانہ ایک ارب ڈالر تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان 2017ء تک ان مراعات سے فائدہ اٹھا سکے گا۔سہولت کے تحت پاکستان کی ٹیکسٹائل کی 900 اور دیگر شعبوں کی1600 مصنوعات ڈیوٹی کے بغیر یورپی یونین کے 27 ممالک کو برآمد کی جاسکیں گی۔ برطانیہ میں حکومتی شریک پارٹی لب ڈیم کی یورپین جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس ترجمان سارہ لڈفورڈ نے کہا کہ پاکستان یورپی مارکیٹ تک آسان رسائی کا مستحق ہے۔ اسلئے انکی پارٹی نے اسے بھر پور سپورٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کمیونی کیشن کے سوشل اور بزنس چینلز کھلے رکھناچاہتے ہیں اور اب اسی جذبے کے ساتھ لبرل ڈیموکریٹ ایم ایپیز پاکستانی ایکسپورٹرز کے لئے یورپی ٹریڈ مواقع کھولنے کی کوششوں میں صف اول میں ہیں تاکہ اس سے ملک میں ترقی کو فروغ ملے اورلاکھوں لوگوں کے روزگار میں بہتری آئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ تعلقات میں اضافے سے پاکستان اور برطانیہ کی کمپنیز قریب آئیں گی اور برطانوی انویسٹرز کے لئے بھی بڑی اورابھرتی ہوئی مارکیٹ میں مواقع سے فائدہ اٹھانا آسان ہوجائیگا۔