مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر میں65سال سےاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کےتیس نکات پرعملدرآمد نہیں ہورہا
لندن ... پورٹکیلس ہائوس میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت یورپ کے زیر اہتمام ایک خصوصی تقریب ہوئی جس میں لارڈ نذیر احمد سمیت متعدد پارلیمنٹیرینز نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت تنظیم کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے کی۔ جبکہ آل پارلیمانی گروپ آن پاکستان کے چیئرمین اینڈریو اسٹیفن سن ایم پی، ڈیوڈ وارڈ ایم پی، لوسی پاول ایم پی، فیونا میک ٹیگرٹ ایم پی، بولٹن ویسٹ سے ممبر پارلیمنٹ جولی ہلنگ، بولٹن ساؤتھ ایسٹ کی ممبر پارلیمنٹ بیرسٹر یاسمین قریشی اور ڈیوزبری کے ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر سائمن نے انسانی حقوق کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ لارڈ قربان حسین، فلپ ڈیوس ایم پی، راجر گاڈسیف ایم پی، ایرک اولنسرشا ایم پی، مارک ہینڈرک ایم پی اور ڈیبی ابراھم ایم پی نے اپنی طرف سے بھرپور معاونت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیریوں کو انکے بنیادی حقوق اقوام متحدہ کے چارٹر اور خصوصی طور پر کشمیر پر قراردادوں کے مطابق دینے کا مطالبہ کیا اورکہا کہ آج 65سال پورے ہوگئے ہیں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ان تیس نکات پر مقبوضہ کشمیر میں بالکل عملدرآمد نہیں ہورہا بلکہ بھارتی افواج اور حکمرانوں کے مظالم ان تمام نکات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ممبران پارلیمنٹ اور کشمیری رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو بھی بنیادی حقوق دیئے جائیں۔ اقوام متحدہ اور اسکے ممبران اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائیں۔ کنٹرول لائن پر دیوار بنانا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ناقابل قبول ہیں انہیں بند کرایا جائے۔ برطانوی حکومت سے مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کے لئے برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت یورپ اور اسکے عہدیداروں کی طرف سے برطانیہ بھر میں قومی دنوں اور کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کے سلسلے میں چلائی جانیوالی مہم کو مسئلہ کشمیر کو عوامی سطح پر روشناس کرانے کی ایک اچھی کوشش قرار دیتے ہوئے اس میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ جبکہ متعدد ارکان نے اولڈھم، بولٹن، مانچسٹر، ڈربی، نوٹنگھم، برمنگھ، بریڈفورڈ، لیوٹن، اور لندن کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کی دستخطی مہم اور مقامی سیاستدانوں سے رابطوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن کشمیر کے سابق چیئرمین لارڈ نذیر احمدنے کہاکہ عالمی برادری بے حسی کا شکار ہے جنہیں لاکھوں کشمیریوں کی شہادتیں اور خواتین و بچوں پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے۔ بیرسٹریاسمین قریشی ایم پی نے کہا کہ عالمی برادری کو بھارت اور پاکستان پر زور دینا چاہیئے کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حقوق دیکر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کریں جبکہ برطانوی حکومت کو بھی ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ تحریک کے رہنماؤں اور خواتین ارکان رعنا شمع نذیر، یاسمین ڈار، کونسلر نسرین علی، شہناز صدیق، صائمہ یوسف، نادیہ شبیر، سعیدہ سلطانہ، سرور ضمیر، شاہد اقبال کے علاوہ مشتاق لاشاری نے بھی تقریب سے خطاب کرکے مسئلہ کو عالمی سطح پر نظر انداز کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ تحفظ تحریک ناموس رسالت کے رہنماؤں ملک رحمت اعوان اور قاضی منظور حسین نے ممبران پارلیمنٹ کو یادداشتیں دیں۔