مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اکیسویں صدی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ترقی یافتہ انسان کے منہ پر طمانچہ ہے !!
لندن ... اکیسویں صدی اور سائنس و ٹیکنالوجی کی بے انتہا ترقی کے باوجود دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ہونا ایک المئے سے کم نہیں۔ زور آور کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے ظلم سے دنیا بے خبر رہے جب وہی ظلم خبر بننے کے باوجود رک نہیں پاتا تو اسے انسانیت کیلئے ناصرف لمحہ فکریہ کہا جا سکتا ہے بلکہ انسان کی ترقی کی معراج کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انسانی حقوق کے عالمی دن پر برطانیہ میں مقیم مختلف جماعتوں اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کمیونٹی رہنمائوں نے اپنے اپنے پیغامات میں کیا۔ سینیئر حکومتی وزیر بیرونس سعیدہ وارثی نے اسی روز بنگلہ دیشی رہنما کو پھانسی دئے جانے کے عمل کی بھر پور مخالفت کرتے ہوئے اسے حکومت کا بزدلانہ فعل قرار دیا۔ کمیونٹی کی سرکردہ شخصیت لارڈ نزیر احمد نے کہا انسانی حقوق کی خلاف وزرزیاں محض تیسری دنیا کا مسئلہ نہیں رہا کشمیر ہو یا فلسطین، عراق ہو یا شام یا بھر بنگلہ دیش یہ سب ممالک آکر کسی طاقت کے اشارے یا نشے میں چور ہوکر انسانیت کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر کو پھانسی لگانی بھی انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے حکومت عالمی جنگی قوانین کی جتنی مرضی آڑ لے دنیا جانتی ہے کہ یہ سب سیاسی مخالفت ہے، انہوں نے دنیا کے مقتدر اداروں سے اپیل کی کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی کریں ورنہ ایک ایک کرکے سب ایک دوسرے کے ظلم کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ رکن یورپی پارلیمنٹ ڈاکٹر سجاد کریم نے عالمی یوم حقوق انسانی کے موقع پر کہا ہے کہ میری آواز اور میرا ساتھ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ ہے میں کشمیر اور کشمیریوں کو فراموش نہیں کرنے دوں گا، یورپی پارلیمنٹ کے فل چیمبر سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یورپی پارلیمنٹ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی نہ کرے، ممبران یورپی پارلیمنٹ کشمیر کے بارے میں دہرا معیار نہ اپنائیں، انہوں نے کشمیر بارے خاص طورپر 2000 ہزار سے زیادہ نامعلوم اجتماعی قبروں کی برآمدگی پر اپنے ساتھیوں کی جانب سے اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہ دینے پر مایوسی اور افسوس کااظہار کیا۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ معاشرتی اقدار کے فروغ، انصاف و مساوات کے نظام کے قیام اور معاشرے کے تمام طبقوں میں اتحاد و یکجہتی کیلئے انسانی حقوق کا احترام لازمی امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اکیسویں صدی میں دنیا ترقی کے میدان میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوری دور ہونے کے باوجود آج بھی مختلف شکلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں جس کی سب سے بڑی اور سنگین مثال سیاسی کارکنوں اور دیگر شہریوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کیا جانا ہے۔ الطاف حسین نے کہا کہ شہریوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردینا اور عدالتوں میں پیش نہ کرنا انہیں حصول انصاف کے بنیادی حق سے محروم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان معاملات کا سدباب نہیں کیا جائے گا اس وقت تک پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی۔ معروف کشمیری رہنما جسٹس فائونڈیشن کے سربراہ بیرسٹر مجید ترمبو اور کشمیر سنٹر لندن کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر نذیر شال نے بھی انسانی حقوق کے عالمی دن پر دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر جانبداری سے مسئلہ کشمیر کو پرکھیں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ اس وقت کشمیری دنیا کی سب سے زیادہ مناثرہ قوم ہے جس کے ساتھ ناصرف انسان بلکہ اقوام متحدہ جیسے ادارے بھی غیر انسانی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سابق صدر کونسلرمحمود حسین نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی حکام اور افواج کی جانب سے آج بھی کشمیریوں پر اسی طرح ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، دو روز قبل کشمیری رہنما یاسین ملک اور انکی فیملی کیساتھ سلوک کیا گیا وہ انسانیت کے ماتھے پر داغ ہے۔ یوکے پیپلز نیشنل پارٹی (یوکے پی این پی) کے صدر عثمان کیانی اور دیگر برطانوی رہنمائوں نے بھی انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ سے پر زور اپیل کی کہ وہ 64 سال قبل کشمیریوں سے کئے گئے اپنے وعدے کی تکمیل کرے اور انہیں انکا حق خود ارادیت دے۔