مقبول خبریں
سمائل ایڈ یوکے کا بے گھر افراد کی مدد کیلئے کمیونٹی سپورٹ وہیکل سروس کا آغاز
برطانوی انتخابات:تحریک حق خود ارادیت کی مسئلہ کشمیر کیلئے امیدواروں میں لابی مہم جاری
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
جموں و کشمیر تحریک حق خود اردیت کا لوٹن میں کشمیر لابی کانفرنس کا انعقاد
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
انسانی حقوق کا عالمی دن پر تحریک حق خود ارادیت کے زیر اہتمام کانفرنس کا اہتمام
یہ رنگ جو مہکے تو ہوا پھول بنے گی!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
’’ انڈین سپریم کورٹ کے ایک سابق جج مسٹر مرکنڈے کاجو نے کچھ عرصے قبل ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ایک دندان شکن بیان دیاتو بھارت کے ہندو انتہا پسند حلقوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ انہوں نے کہا، ’’میں گائے کا بچہ نہیں ہوں اور نہ ہی گائے میری ماں ہے۔گائے تو گھوڑے اور کتے جیسا ایک جانور ہے اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔میں گائے کا گوشت بہت شوق سے کھاتا ہوں‘۔‘ کوئی مسلمان یا عیسائی یہ بیان دیتا تو نہ جانے کتنے گھر جلا دیے گئے ہوتے، کتنی دکانیں تہس نہس کردی جاتیں اور کتنے بے گناہوں کا خون سڑکوں کو لال کرچکا ہوتا لیکن کیا کریں کہ یہ بیان ایک ہندو نے دیا تھا۔جسٹس ریٹائرڈ مرکنڈے نے یہ بیان دادری کے علاقے میں کچھ عرصہ قبل محمد اخلاق نامی ایک پچپن سالہ مسلمان کے ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کی مذمت میں جاری کیا تھا۔تفصیلات کے مطابق کچھ شرپسندوں نے یہ افواہ اڑادی تھی کہ محمد اخلاق نے لوگوں سے چھپ کر گائے کاٹی اور گھر میں اس کا گوشت پکایا۔ اس افواہ کے بعد ہندو بلوائیوں نے محمد اخلاق کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور اسے لکڑیوں اور پتھروں سے مار مار کر ہلاک کردیا۔ بلوائیوں نے اس کے جوانں سال بیٹے کو بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ آج بھی ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہے۔جسٹس مرکنڈے کا کہنا تھا کہ گائے کا گوشت کھانا دنیا بھر میں کہیں بھی جرم نہیں،تاہم جس طرح ہم کسی کو بھی گائے کا گوشت کھانے پر مجبور بھی نہیں کرسکتے اسی طرح ہم کسی کو گائے کا گوشت کھانے سے روک بھی نہیں سکتے۔ کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار بھارت کی معروف مصنفہ شوبھادی نے بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی گائے کا گوشت بہت شوق سے کھاتی ہوں اور یہ اختیار کسی کے پاس بھی نہیں کہ مجھے بتائے کہ مجھے کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ہے۔ بھارتی معاشرے میںگائو ماتا کی تعظیم و تکریم جس تیزی سے ختم ہورہی ہے اس پر ہندو انتہا پسند حیران بھی ہیں اور فکرمند بھی۔لیکن دلچسپ بات یہ کہ پاکستان کی نفرت اپنی جبلت میں چھپائے چند انتہا پسند ایسے بھی ہیں جو بھارتی معاشرے میں آنے والی اس تبدیلی کے پس منظر میں بھی پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو تلاش کر رہے ہیں۔جسٹس مرکنڈے کے مذکورہ بیان پر کئی انتہا پسند ہندو راہنمائوں نے بہ بانگ دہل اس بات کا اعلان کیا کہ جسٹس صاحب گائے مخالف تحریک آئی ایس آئی کے کہنے پر چلارہے ہیں۔شہر شہر جسٹس صاحب کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے اور جگہ جگہ ان کے پتلے بھی جلائے گئے۔ سنا ہے انتہا پسندوں کی طرف سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ۔ اس ساری صورت حال میں جسٹس صاحب کے پاس ایک ہی راستہ باقی تھا کہ وہ خود پر آئی ایس آئی کی ایجنٹی کا لگنے والا الزام دور کرنے کے لیے کچھ ایساکریں کہ معاملات صحیح ڈگر پر آ جائیں۔ اسی خیال کے پیش نظر حال ہی میں انہوں نے ایک مضمون تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم پاکستان، افواج پاکستان، پاکستان کی مذہبی جماعتوں اور پاکستانی عوام سمیت ہر ایک کو فراڈ قرار دیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں۔ واضح رہے کہ ماضی قریب میں جسٹس مرکنڈے بارہا اس بات کا اعتراف کرتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم کی ذہانت اور سمجھداری کے دل سے قائل ہیں۔ انتہا پسندوں سے اپنی جان بچانے کے لیے مسٹر مرکنڈے کو پاکستان دشمنی پر مبنی اس قسم کا مضمون لکھنا پڑا، یہ بات کئی حوالوں سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ان کی اس تحریر سے کم از کم یہ حقیقت تو سامنے آئی کہ وہ آزادی ء اظہار جس کے پاکستان میںمبینہ فقدان پر دنیا بھر میں شور مچایا جارہا ہے،بھارت میں بھی عنقیٰ دکھائی دیتی ہے۔بھارت میں رہتے ہوئے کسی بھی شخص کے لیے یہ ناممکن سے بھی چند قدم بڑھ کر ہے کہ وہ پاکستان کے حق میں کوئی بات کر سکے۔صرف پاکستان ہی نہیں، ہندو مت کی فرسودہ رسوم و روایات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو ایک بد ترین ردعمل سامنے آتا ہے۔اسی انتہا پسندی کا نتیجہ ہے کہ بھارت میں ہر سال بیسیوں مسلمان اور عیسائی گائے کاٹنے، گائے کا کاروبار کرنے یا پھر گائے کا گوشت کھانے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔بلکہ اس معاشرے میں کسی سے بھی بدلہ لینے یا پھر پرانا حساب کتاب چکانے کا آسان ترین طریقہ یہی ہے کہ دشمن پر گائے کاٹنے کا الزام لگا دیا جائے۔اب عنقریب یہی صورت حال مقبوضہ کشمیر میں بھی پیدا ہونے والی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد، مودی سرکار ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ ہندو وہاں جائیدادیں بھی خریدیں گے اور کاروبار بھی کریں گے، مسلمان وہاں پہلے ہی اکثریت میں ہونے کے باوجود، ایک کچلی ہوئی زندگی گذار رہے تھے، اب ان کی آزمائشوں میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وہاں بھی گائے کا گوشت کھانا جرم قرار پا جائے گا، جو مسلمان گائے کاٹیں گے، ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو بھارت کے دیگر حصوں میں مسلمانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود نام نہاد مسلم دنیا خاموشی سے مسلمانوں کے ساتھ اس ظلم اور نا انصافی کو برداشت کرتی رہے گی۔یہ بے بسی، یہ لاچارگی، کبھی بھی مسلمانوں کی جبلت کا حصہ نہیں رہی۔ مسلمان تو غیر مسلموں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر کبھی خاموش نہیں رہے، یہ کیسے مسلمان ہیں جو اپنے ہی بھائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر آواز اٹھانے کا نہ تو حوصلہ رکھتے ہیں نہ ہی قوت۔ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔