مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دہشت گردی کا اسلام سےتعلق نہیں،عالمی میڈیا اسے مذہب سے نہ ملائے: ملالہ یوسف زئی
آکسفورڈ ... طالبان سے لڑ کر جدوجہد کی بین الاقوامی علامت بننے والی ملالہ یوسف زئی نے برطانیہ کی قدیم اور عظیم درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب کرکے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کا شمار اب ان نامی گرامی لیڈروں میں ہوگیا ہے جنہیں آکسفورڈ جیسی درسگاہ کے تاریخی ہال میں خطاب کا موقع ملا جن میں مدر تھریسا، نیلسن منڈیلہ اور میلکم ایکس جیسی نامور عالمی شخصیات کے علاوہ پاکستانی سربراہان مملکت پرویز مشرف اور بیبظیر بھٹو بھی شامل ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کے زیر اہتمام تاریخی ڈیبیٹ ہال میں طلباء سے کھچا کھچ بھرے ہال میں طلباء کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں اسلحہ کی بجائے کتابوں کو اپنا ہتھیار بنائیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، دنیا میں جدید اسلحہ کی بجائے جدید تعلیم کی دوڑ کو پروان چڑھایا جائے، اسلام امن و محبت کا مذہب ہے اور اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، دنیا میں امن اورپسماندہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں کامیابی میری زندگی کا سب سے بڑا ایوارڈ ہو گا،ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کو عام کرنے میں کردار ادا کریں، جنگی اسلحہ کی بجائے خواندگی کی شرح کو پرکھ کر سپر پاور کا سٹیٹس دیا جائے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر پریت وچارا سندھو، سابق صدر ماریہ رومین اور پاکستان سٹوڈنٹس سوسائٹی کے سابق صدر اور پی ایچ ڈی سیاسیات کے طالبعلم عدنان رفیق سوال کرنے والے پینل میں شامل تھے، جب کہ ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی، پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اور آصفہ بھٹو زرداری بھی اس موقع پر ہال میں موجود تھے۔ طلبہ سے بات چیت میں ملالہ بے حد محتاط تھی، دہشت گردی کے حوالے سے متعدد سوالوں کے جواب اسکے والد ضیا الدین نے دئے جو برمنگھم قونصلیٹ میں ایجوکیشن اتاشی کو طور پر تعینات ہیں۔ ملالہ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں لیکن معاشرتی تبدیلی لانے کے لیے انھیں اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا اور اب وہ سیاستدان بننا چاہتی ہیں۔ انھوں نے اس خدشہ کا اظہاربھی کیا کہ ان کے عملی سیاست میں آنے کے موقع پر ان کے آدھے مداح ان کے حمایتی نہیں رہیں گے۔ ملالہ نے کہا کہ کرپشن،دہشت گردی اور انتہا پسندی کا اسلام سے کچھ تعلق نہیں ، عالمی میڈیا کو انہیں مذہب سے نتھی کرنے کی بجائے جرائم کے طور پر دیکھنا چاہئے، نیلسن منڈیلا کی جدوجہد سے بے حد متاثر ہوں، ایک سوال کے جواب میں ملالہ کا کہنا تھا کہ برمنگھم اور برطانیہ میں اسے بے پناہ پیار ملا ہے لیکن سوات کے سر سبز و شاداب پہاڑ وں کی خوبصورتی کو وہ کبھی بھول نہیں سکتی۔ برطانیہ میں سردی انھیں بہت ستاتی ہے جب کے سوات دنیا میں جنت کا نظارہ پیش کرتا ہے اور وہ اس وقت کی منتظر ہیں جب وہ اپنے گھر واپس جا سکیں گی۔