مقبول خبریں
یورپین اسلامک سنٹر اولڈہم میں مسجد خضرا کی تزئین وآرائش کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
نوازشریف کی طرح باقی قیدیوں کوبھی علاج معالجے کیلئےرہا کیا جائے
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
اینڈریو سٹیفن سن سے راجہ نجابت حسین اور سردار عبدالرحمٰن کی ملاقات
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان اور چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ آجکل چین کے دورے پر ہیں۔گلف نیوز نے اس دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کے یہ دو سب سے نمایاں چہرے اگرچہ الگ الگ دنوں پر چین پہنچے لیکن دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔ عمران خان صاحب اپنے شیڈول کے مطابق چین کی سیاسی قیادت سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں جبکہ جنرل باجوہ چین کی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔جنرل باجوہ کا مقصد سیکیورٹی مسائل بشمول بگڑتے ہوئے پاک ٔبھارت تعلقات اور اس سب صورت حال سے جڑے مسئلہ کشمیر پر چین کو اعتماد میں لینا ہے جبکہ جناب عمران خان پاکستان کے اقتصادی مسائل کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370اور35Aکی منسوخی کے بعد کی صورت حال کو اپنی ملاقاتوں کا موضوع بنارہے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک برس کے قلیل عرصے میں جناب عمران خان کا چین کا یہ تیسرا دورہ ہے۔چین سے مسلسل رابطے کے باعث اس عالمی غلط فہمی کو دور کرنے میں بڑی مدد ملی ہے کہ پاکستان امریکی دبائو میں آکر چین سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیر اعظ پاکستان اور آرمی چیف کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان روابط کو اور بھی مضبوط کرے گا، چین کی طرف سے پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھیں گے اور سی پیک منصوبے پر کام کی رفتار میں اور بھی تیزی آئے گی۔تاہم سب سے اہم بات یہ کہ پاکستان کو کشمیر کے معاملے میں چین کی طرف سے مزید سپورٹ ملنے کا بھی امکان ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا جو کھیل برسوں سے جاری ہے، آرٹیکل 370اور35Aکی منسوخی کے بعد اس کھیل کی شدت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔ابھی حال ہی میں الجزیرہ میںبشیر احمد ڈار نام کے ایک ساٹھ سالہ کشمیری کی داستان الم شائع ہوئی ہے۔ یہ شخص پیشے کے اعتبار سے پلمبر ہے، گونگا نہیں ہے لیکن کچھ بھی بولنے سے قاصر ہے، اشاروں کنایوں میں ٹوٹی پھوٹی گفتگو کرتا ہے۔ کچھ ہفتے پہلے بپھرے ہوئے بھارتی فوجیوں نے اس کے جبڑے پر اس قوت کے ساتھ لاٹھی ماری کہ اس کے لیے بات کرنا ممکن نہیں رہا۔الجزیرہ نے حال ہی میںبھارتی مقبوضہ کشمیر کے اس ساٹھ سالہ غریب پلمبر کی داستان الم دنیا تک پہنچائی تو لوگوں کو معلوم ہوا کہظلم کیا ہوتا ہے، جبر کسے کہتے ہیں اور بے بسی کس کیفیت کا نام ہوتا ہے۔ بشیر احمد کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کرنے کے چند روز بعد، ایک رات بھارتی قابض فوجی اس کے کچے گھر کی دیواریں پپھلانگ کر اند داخل ہوئے اور اسے بالکل برہنہ کردیا۔ دراندازی کرنے والے سپاہیوں میں سے چند شراب کے نشے میں بالکل دھت تھے۔ انہوں نے بشیر احمد کو نہایت بے رحمی سے مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ان کا مطالبہ تھا کہ وہ اپنے اس چھوٹے بھائی کو پیش کرے جو مودی سرکار کے خلاف ایک احتجاجی جلوس میں آگے بڑھ بڑھ کر نعرے لگا رہا تھا۔بشیر احمد نے انہیں ہزار سمجھایا کہ وہ بالکل بھی نہیں جانتا کہ اس کا چھوٹا بھائی کہاں ہے لیکن انہوں نے اس کی ایک بھی نہ سنی، بے رحمی کے ساتھ مارتے رہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہم تمہارے گھر کی تمام عورتوں کو برہنہ کر کے ساری وادی میں گھمائیں گے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔انہوں نے بشیر احمد پر اتنا تشدد کیا کہ وہ بے ہوش ہوگیا اور وہ فوجی سپاہی اسے مردہ سمجھ کر اپنے بوٹوں تلے روندتے ہوئے واپس چلے گئے۔اس واقعے کے محض چار روز بعد بھارتی فوجی سپاہی دوبارہ اس کے گھر میں داخل ہوئے۔ بشیر احمد صحن کے ایک کونے میں زخمی حالت میں چارپائی پر پڑا درد سے کراہ رہا تھا۔ ایک سپاہی اسے دیکھ کر غضبناک ہوکر بولا، ’ تو ابھی تک زندہ ہے، ہم تو سمجھے تھے مرگیا ہے‘۔ یہ کہہ کر ایک بار پھر اس پر وحشیانہ تشدد کا آغاز کر دیا گیا۔شدید مار پیٹ کے باعث بے بس بشیر احمد کی یہ حالت تھی کہ بیٹھ سکتا تھا نہ لیٹ سکتا تھا۔سارے گھر کو تہس نہس کر کے وہ بدمست فوجی سپاہی واپس چلے گئے لیکن یہ کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔اس واقعے کے دس بارہ روز بعد بھارتی فوجیوں کا ایک اور ٹولہ بشیر احمد کے گھر میں داخل ہوا اور افراد خانہ کو ایک بار پھر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جاتے ہوئے گھر میں رکھی ہوئی گندم ، چاول اور دیگر اشیائے خوردونوش کی بوریوں میں زہریلی دوائوں کا سپرے کردیا گیا تاکہ انہیں استعمال نہ کیا جاسکے۔ پینے کے پانی کے مٹکوں کو توڑ دیا گیا اور گھر کی بیرونی دیوار کو بھی دھکامار کے گرادیا گیا۔ اس طرح کے واقعات مقبوضہ کشمیر میں رہنے والوں کے لیے کوئی نئے واقعات نہیں تاہم آرٹیکل 370اور35 Aکی منسوخی کے بعد یہ بھارتی فوجی گھروں میں موجود باہردہ خواتین کو دیکھ کر ایک نیا جملہ بولنے لگے ہیں، ’ ہم بارات لے کر آئیں گے۔ تیار رہنا۔‘ مذکورہ آرٹیکل کی منسوخی سے پہلے کسی غیر مقامی شخص کو کشمیر ی عورتوں سے شادی یا پھر کشمیر میں جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، اب یہ پابندی ختم کردی گئی ہے۔ بھارتی فوجی پہلے تو کشمیری خواتین کو، عمر کا لحاظ کیے بغیر تلاشی اور محاصرے کے نام پر جنسی دہشت گردی کا نشانہ بنالیتے تھے، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن ہندو فوجی اب وہاں مسلمان لڑکیوں کو شادی کی دھمکی بھی دینے لگے ہیں کہ قانون نے ان کے ہاتھ کھول دیے ہیں۔اگرچہ مسلمان لڑکی ، جان قربان کرسکتی ہے، ہندو سے شادی کا تصور بھی نہیں کرسکتی لیکن طاقت ور کی زور زبردستی کا کمزور کے پاس کوئی بھی سدباب نہیں ہوتا۔کئی دہائیوں سے بھارتی ظلم و ستم کانشانہ کشمیری اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ قوانین میں حالیہ تبدیلی ساری کی ساری مسلم دنیا میں ایک ہلچل پیدا کردے گی۔ دنیا بھر کے نام نہاد جنگجو گروہ سر پر کفن باندھ کر کشمیریوں کے خلاف اس نا انصافی پر ایک حشر برپا کردیں گے،مسلمان ممالک بھارت سے تجارتی معاہدے منسوخ کردیں گے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ کہنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ جب سے مقبوضہ کشمیر میں غیر مقامی لوگوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت ملی ہے، کچھ خوشحال مسلم ممالک کے حکمرانوں نے اپنے نمائیندوں کو مقبوضہ کشمیر میں ’ موقعے کی جگہ‘ تلاش کرنے پر مامور کردیا ہے۔ سنا ہے وہاں بڑے بڑے محل، فائیو سٹار ہوٹل اور ریسورٹسResorts)) بنانے کی خواہش میں بھی مسلم ممالک کے سرمایہ کار دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہر ممکن حربہ استعمال کر نے میں مصروف ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس محاصرے پر بظاہر کوئی فکرمندی دکھائی نہیں دیتی جس نے کشمیریوں کے لیے زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے۔یہ بھی کیا بدنصیبی ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے لوگ اسی نام نہاد حکومت کے ہاتھوں اپنے بنیادی حقوق کی پامالی کا شکار ہیں جو حکومت مقبوضہ کشمیر پر اپنی ملکیت کے اظہار کے لیے دنیا کے ہر فورم پر شور مچاتی ہے ۔ہمارے بہت سے تجزیہ کار مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ظلم و ستم کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں، سچ پوچھیں تو فوج تو وہی کچھ کرتی ہے جو کرنے کا اسے حکم دیا جاتا ہے۔ اگر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو آرٹیکل 370اور 35Aواپس لے کر ختم کیا گیا ہے تو یہ کام وہاں تعینات فوج نے نہیں کیا۔بھارتی فوج تو اصل میں مودی سرکار کے ناجائز اقدامات کے نتیجے میں کشمیریوں کے متوقع ردعمل کو بزور طاقت روکنے کے لیے تعینات کی گئی ہے۔ اس میں بھارتی فوج کی کوئی ذاتی مرضی شامل ہے نہ ہی ذاتی پسند ۔آج مودی صاحب کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کر دیں یا پھربھارتی سپریم کورٹ مودی سرکار کو اپنا فیصلہ واپس لینے کی ہدایت کردے تو صورت حال بدل کر پہلے جیسی ہوجائے گی۔تاہم جبر کی یہی کیفیت جاری رہی تو معاملات انتہائی خوفناک ہوجانے کا غالب امکان ہے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوگیا تو اس میں بھی نقصان کشمیری عوام کا ہی ہوگا۔ ایک طرف جدید ترین اسلحے سے لیس لاکھوں کی تعداد میںفوج اور دوسری طرف ہاتھوں میں درختوں کی ٹہنیوں سے بنی لاٹھیاں تھامے بے بس بے آسرا سے لوگ۔ یہ سب کچھ کب تک یونہی چلتا رہے گا، کشمیریوں پر چھائی ہوئی ظلم اور بے بسی کی رات کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ کوئی تو ہو جو اس اذیت بھری طویل تاریکی میں روشن چراغ کی صورت سامنے آئے۔کہاں گئیں وہ تمام نام نہادمسلمان تنظیمیں جنہیںعسکریت پسند، انتہا پسند ، شدت پسند قرار دے کر اب تک مسلمانوں کا گلا گھوٹا جاتا رہا ہے۔اس سے بڑھ کر ذلت اور شرمساری کی بات کیا ہوگی کہ50کے لگ بھگ مسلمان ممالک کی موجودگی میں پاکستان کو کشمیریوں کی مدد کے لیے چین کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا پڑرہی ہے۔