مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شمال مغربی انگلستان کے قصبے ہل میں نفرت انگیز واقعہ، امام مسجد کی آنکھ ضائع ہونے کا اندیشہ
ھل ... انگلینڈ کے شمال مغربی ساحل پر واقع خوبصورت اور پرسکون قصبے ھل میں کچھ شدت پسندوں کی تفرت کی زد میں آکر جب سے شخص زخمی ہوا ہے پورے قصبے میں اور ارد گرد کا علاقوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انتی خبر سے اکثریت نے شائد الٹ سوچا ہو کیونکہ نفرت کی زد میں آنے والا ایک شریف، باریش اور صلح جو امام مسجد حافظ عبدالسالک ہیں، جنکے جواں بیٹے نے اپنے سامنے بلاوجہ ایک شخص کو گھونسا مار کر اپنے والد کو زخمی کرتے دیکھا اور ہمت، طاقت اور جرات کے باوجود ایسا کرنے والے دیوانے اور اسکے ساتھیوں پر جوابی حملہ نہیں کیا بلکہ جنگل کی آگ کیطرح بھیلتی اس خبر کے ممکنہ رد عمل کو روکنے کیلئے مسجد میں اعلان کیا کہ مسلم کمیونٹی کو اس واقعہ پر خود کو ٹھنڈا رکھنا ہے اور جسی قسم کے فساد میں نہیں پڑنا۔ برطانوی اخبارات نے بھی اس واقعے کو کافی اہمیت دی ہے کہ انگلش ڈیفنس لیگ کے زیر اثر علاقے میں ایک امام مسجد کو اس طرح نفرت کا بشانہ بنانا کہ جس سے اسکی ایک آنکھ کی بینائی ہمیشہ کیلئے ضائع ہونے کا خدشہ ہو مسلمانوں کا ردعمل فطری تھا مگر کمیونٹی نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملہ پولیس پر چھوڑ دیا ہے۔اسلامی سینٹر کے پیش امام پر گزشتہ روز 2 نامعلوم افراد نے جن کے ساتھ ایک خاتون بھی تھی حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ لہولہان ہوگئے، 60 سالہ حافظ عبدالسالک مسجد کے قریب رہائش پذیر اپنی بیٹی کے گھر سے ہفتہ کی شام گھر کی طرف جارہے تھے ابھی وہ سڑک پر نکلے ہی تھے کہ دو مردوں نے جن کے ساتھ ایک خاتون بھی تھی ان کی کار رکوانے کی کوشش کی ، اس مقصد کیلئے انھوں نے سڑک کے بیچ میں دوڑنا شروع کردیا جس کی وجہ سے حافظ صالح کو کار روکنا پڑی انھوں نے ان لوگوں کو راستہ چھوڑنے کیلئے ہارن بجایا جس پر ایک شخص ان کی کار کے عین سامنے لیٹ گیا جس پر حافظ سالک کنفیوز ہوگئے اور وہ کار کادروازہ کھول کر باہر نکلے اتنی دیر میں اجنبی سڑک سے اٹھ کھڑا ہوا اس نے کار کے قریب جاکر دروازہ کھول کراندر کاجائزہ لیا کار میں اس وقت پیش امام کی اہلیہ اور چھوٹی بیٹی بیٹھی ہوئی تھی کارکا دروازہ کھولنے والے شخص نے پیش امام کے منہ پر پوری طاقت سے ایک گھونسا رسید کیا جس سے وہ لہولہان ہوگئے،اور ان کاچہرہ خون سے تربتر ہوگیا، تینوں حملہ آور اس واردات کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے۔ مضروب امام مسجد کے صاحبزادے عتیق سالک کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ حملہ نسلی امتیاز کی بنیاد پر کیا گیا ہے یا اس کاسبب کچھ اور تھاکیونکہ حملہ آوروں نے کارکادروازہ کھولنے اور حملے کے دوران ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا، ہمبر سائیڈ پولیس نے ایک ہزار سے زیادہ نمازیوں کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے جمعہ کی نماز کے دوران مسجد پر حفاظتی فرائض انجام دئے، امام مسجد حافظ عبدالسالک کاشمار علاقے کی معروف اور مقتدر شخصیات میں ہوتا ہے وہ کونسل اور پولیس بورڈ کے اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے ہیں، اور دوسرے مذاہب کے نمائندوں کے ساتھ ملک امن ومفاہمت کے فروغ کیلئے کام کرتے ہیں۔