مقبول خبریں
جامع مسجد اولڈہم میں جشن عیدمیلادالنبیؐ کے حوالہ سے محفل کا انعقاد ،حامد سعید کاظمی و دیگر کی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وہ ایک ایسا شخص تھا جس نے دنیا میں اپنا فرض نبھایا، منڈیلا کیلئے عالمی خراج کا سلسلہ جاری
جوہانسبرگ ... پسے ہوئے طبقات کا عالمی نمائندہ، دنیا سے جیت کر موت سے ہار جانے والا نیلسن منڈیلا کروڑوں افراد کی آنکھوں کو اشکبار کرکے ہمیشہ کیلئے اپنی آنکھیں بند کر گیا۔ کس رنگ، نسل، خطے یا مذہب کا فرد ایسا ہوگا جس نے نیلسن منڈیلا کو خراج عقیدت پیش نہ کیا ہوگا۔ جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر نیلسن منڈیلا کے انتقال پر لاکھوں جنوبی افریقی باشندوں کے علاوہ دنیا بھر کے عوام اور خواص نے افسوس کا اظہار کیا۔ منڈیلا پھیپھڑوں میں انفیکشن کی وجہ سے طویل عرصے سے زیرِ علاج تھے۔ نیلسن منڈیلا کو بابائے جمہوری جنوبی افریقہ کہا جاتا ہے اور جنوبی افریقہ میں انھیں احترام سے مادیبا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ انھیں 1964 میں سبوتاژ اور بغاوت کے الزامات میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی اور فروری 1990 میں انھیں رہائی ملی تھی۔ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد پر 1993 میں انھیں امن کا نوبل انعام دیا گیا جبکہ 1994 میں وہ بھاری اکثریت سے ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے اور صدر بننے کے بعد انھوں نے مفاہمت اور معاف کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ پاکستان کو عظیم رہنما نیلسن مینڈیلا کی میزبانی کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے نیلسن کی رحلت کو عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکی ات سراپا جدوجہد تھی۔ برطانیہ سے بھی کمیونٹی شخصیات نے انکی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انکا کہنا تھا کہ نیلسن منڈیلا کے انتقال سے ایک عظیم دور ختم ہوگیا ہے۔ وہ دنیا کی طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے لوگوں کو غلامی سے آزادی دلوائی۔ کمیونٹی رہنمائوں نے انکے اس جملے پرزیادہ خوشی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انکی خواہش ہے انکے مرنے کے بعد لوگ انکے بارے میں کہیں کہ"وہ (نیلسن منڈیلا) ایک ایسا شخص تھا جس نے دنیا میں اپنا فرض نبھایا"۔ نیلسن منڈیلا کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ ہوگی اور ان کی وفات پر قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا ہے جو منڈیلا کی تدفین تک سرنگوں رہےگا۔ تدفین مشرقی کیپ کے گاؤں کونو میں ہوگی جہاں وہ پلے بڑھے تھے۔ تاہم اس سے قبل ان کی میت کو پریٹوریا میں تین دن تک دیدارِ عام کے لیے رکھا گیا ہے۔