مقبول خبریں
مسرت چوہدری اور اختر چوہدری کا لارڈ مئیر عابد چوہان کے اعزاز میں ظہرانہ
پاکستان پریس کلب یوکے کے سالانہ انتخابات اور تقریب حلف برداری
چیئرمین پی آئی ایچ آرچوہدری عبدالعزیز کوسوک ایوارڈ فار کمیونٹی سروسز سے نواز گیا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
ہر انسان کو اس کے مذہب کے مطابق تدفین کی اجازت ملنی چاہئے: سعیدہ وارثی و دیگر
Corona virus
پکچرگیلری
Advertisement
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
لندن (خصوصی رپورٹ: عمران راجہ) برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئر پرسن ایم پی ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی برطانیہ کے وزیر خارجہ برائے اقوام متحدہ و ساؤتھ ایشیاء لارڈ طارق احمد سے ملاقات۔ ملاقات میں کشمیر میں مسلسل کرفیو،لاک ڈاؤن، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور برطانوی حکومت کے کردار اور اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئر پرسن ایم پی ڈیبی ابراھم نے کہا کہ ہمارے گروپ کے ممبران پارلیمنٹ نے ان 38دنوں میں یک بعد دیگرے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کو متعدد خطوط لکھے، پارلیمنٹ میں سوال اٹھائے کہ برطانیہ کی حکومت کشمیر کی سنگین صورتحال پر قدم اٹھائے اور اپنے مؤقف کا اظہار کرے لیکن وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی جانب سے کوئی قابل ذکر قدم نہ اٹھایا گیا۔ وفد نے وزیر خارجہ پر زور دیا کہ بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کشمیر سے کرفیو اور لاک ڈاؤن ختم کر کے کشمیریوں کو روز مرہ اور معمول کی زندگی جینے کا حق دیا جائے۔ انسانی حقوق کی سنگین خالف ورزیوں کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی ہیں اور برطانوی حکومت کو یہ معاملہ اقوام متحدہ اور بھارتی حکومت سے اٹھانا چاہئے۔ اس موقع پر وزیرمملکت برائے خارجہ ساؤتھ ایشیاء و اقوام متحدہ نے وفد کو یقین دلایا کہ برطانوی حکومت ممبران پارلیمنٹ کے جذبات اور احساسات پر بھرپور غور کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلہ پر بھارت سمیت دیگر فورمز پر کوشش کرے گی۔ بھارت اور پاکستان میں کشدیگی کم ہو اور کشمیر میں حالات معمول پر لانے کے لیے بھارتی حکومت سے معاملے کو اٹھایا جائے گا۔ برطانوی حکومت ممبران پارلیمنٹ کے خطوط اور احساسات سے مکمل واقف ہے اور اس بابت بھارتی حکومت سے رابطے میں ہے۔