مقبول خبریں
مدر فائونڈیشن گوجرخان کے روح رواں راجہ عرفان کی برطانیہ آمد پر انکے اعزاز میں استقبالیہ
ماحولیاتی آلودگی کے باعث بچہ ماں کے رحم میں مر جاتا ہے یا اسکی افزائش رک جاتی ہے: ایک تحقیق
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
گذشتہ دو تین ہفتوں سے ہمارا محکمہ پولیس ایک عجیب سی قومی جذباتیت کا نشانہ دکھائی دے رہا ہے۔سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف لعنت ملامت کا ایک ایساطوفان ہے جو کسی طور تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ برا بھلا کہنے سے شروع ہونے والا یہ نامناسب سا سلسلہ، معذرت کے ساتھ،ماں بہن کی گالیوں تک پہنچ گیا۔جن جن کو ماضی میں کسی نہ کسی حوالے سے پولیس کی طرف سے کسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا، وہ بھی حساب برابر کرنے کے لیے، کیل کانٹے سے لیس ہوکر میدان میں اتر آئے،واضح رہے کہ یہ میدان جنگ کوئی میلوں میں پھیلا ہوا لق و دق ریگستان یا پھر گھنا سا جنگل نہیں بلکہ چار ضرب چھ انچ حدود اربع کی اینڈرائڈ سکرین ہے۔اس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ میدان میں موجود اکثر و بیشتر جنگجوئوں کی نہ تو کوئی شناخت ہی نہ ہی کوئی پتا سرا۔ کچھ اپنے اور کچھ پرائے۔ہمارے ہمسایہ ملکوں سے بھی بہت سے جنگجو اس میدان میں کود پڑتے ہیں۔ ان کی شناخت ان کے لکھے ہوئے کمنٹس میں لفظوں کی ہجے سے کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر انڈیا کا کوئی جنگجو کمنٹس میں’ غائب‘ یا’ غیر‘کا لفظ لکھے کا تو وہ ’ گائب‘ اور ’گیر‘ لکھے گا۔پولیس کے خلاف سوشل میڈیا پر اظہار غیض و غضب کا سلسلہ بینکوں کی اے ٹی ایم توڑنے میں ملوث صلاح الدین نام کے ایک ملزم کی پولیس کسٹڈی میں مبینہ ہلاکت کے بعد ہوا۔ایک اور واقعہ جو سامنے آیا وہ ایک درگاہ پر عام زائرین کی قطار سے نکل کر وی آئی پی زائرین کی قطار میں غلطی سے داخل ہوجانے والے ایک شخص پر مقامی ایس ایچ او کے مبینہ تشدد کا تھا۔اسی دوران وہ ویڈیو بھی وائرل ہو گئی جس میں ایک پولیس والاایک انتہائی بزرگ خاتون سے بدتمیزی کرتا دکھائی دیا۔پھر یوں ہوا کہ گاڑی کی غلط پارکنگ کے تنازعے پر ایک خاتون کانسٹبل کو ایک وکیل نے سر عام تھپڑ بھی جڑ دیا۔ لیڈی کانسٹبل نے اس واقعے کی رپورٹ درج کرائی تو مبینہ طور پر رپورٹ لکھنے والے سے ملزم کا نام غلط لکھا گیا، شنوائی نہ ہونے پر سوشل میڈیا نے لیڈی کانسٹبل کے نوکری سے احتجاجً مستعفی ہونے کی خبر بھی پھیلا دی۔قابل غور بات یہ کہ مذکورہ واقعے پر بھی سوشل میڈیا پر بے شمار تبصرے ہوئے اور یقیناً یہاں بھی ’گیر ملکی‘ جنگجو کافی متحرک دکھائی دیے۔ایک کمننٹ کی کچھ لائنیں ملاحظہ فرمائیے۔ـ ـ’’وکلا کی بدماشیاں (بدمعاشیاں) قابل مزمت (مذمت)ہیں مگر آپ کھود (خود) دل پے ہاتھ رکھ کے بتائے (بتائیے) کہ پولیس ناکے پے عام شہریوں کی شر عام (سر عام)کتنی بے عجتی ( بے عزتی) ہوتی ہے۔کئی مرتبہ پولیس ان پر بلاوجہ ہاتھ بھی اٹھاتی ہے۔ وکلا وہ واحد طبقہ ہے جو پولیس سے ٹکر لے سکتا ہے۔ ـــ‘‘ یعنی یہ کہ کسی طرح وکلاء اور پولیس کے درمیان فساد کی صورت حال پیدا ہوجائے۔عوام بھی پولیس کے مقابل پہاڑ جیسی دیوار بن جائیں۔ مجرموں سے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو، قانون شکن طاقت ور ہو جائیں۔ اس ساری صورت حال میں گذشتہ دنوں لوئر دیر بم دھماکے کے شہید ہیڈکانسٹبل سیف اللہ کی جیب سے برامد ہونے والے ایک رقعے کی تصاویر بھی منظر عام پر آئیں جس میں اس قرض کی تفصیل درج تھی جو اس نے مختلف لوگوں سے لے رکھا تھا اور ہر مہینے اقساط میں واپسی کر رہا تھا۔ قابل ذکر بات یہ کہ جس معاشرے میں اربوں کھربوں کے قرضے بغیر ڈکار ہضم کر جانا معمول کا عمل ہو اس معاشرے میں اس شہید کے ذمے واجب الادا رقم بارہ تیرہ ہزار سے زائد نہیں تھی اور وہ اس قرض کی ادائیگی کے لیے کس قدر فکر مند اور محتاط تھا کہ شہادت کے وقت بھی اس کی جیب سے قرض کی تفصیل کا کاغذ برآمد ہوا، شاید اسے اندازہ تھا کہ پولیس کی نوکری میں،موت سے فاصلہ کچھ زیادہ نہیں رہتا۔پشاور میں رہنے والے ایک ریٹائرڈ ڈی آئی جی صاھب کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر کثرت سے دیکھی گئی جس میں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد تین کمروں کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پزیر ہیں اور آمدو رفت کے لیے سائکل استعمال کرتے ہیں۔ایک ٹریفک وارڈن کی تصویر بھی بہت وائرل ہوئی جسے 104سے بھی زیادہ بخار تھا اور محرم ڈیوٹی کے باعث اسے درخواست کے باوجود مبینہ طور پر چھٹی نہیں مل سکی، وہ بے چارہ اسی حالت میں محرم ڈیوٹی دیتا رہا اور اسی دوران شدت بخار سے اللہ کو پیارا ہوگیا۔مختصر یہ کہ ڈھونڈنے پر لگ جائیں تو اچھی اور بری لاکھوں مثالیں مل جائیں گی۔اساتذہ ہوں، ڈاکٹر ہوں، تاجر ہوں یا پھر انکم ٹیکس اور ایکسائز کے افسران و اہلکار یا پھر سیاستدان،، اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، ایماندار اور فرض شناس بھی، بے ایمان اور بدعنوان بھی، کسی بھی معاشرے میں برے لوگوں کی تعداد اچھے لوگوں سے بڑھ جائے تو اس معاشرے کا قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر شعبہ زندگی میں برے لوگ موجود ضرور ہیں لیکن ان کی تعداد ابھی اچھے لوگوں کی تعداد سے بڑھ نہیں پائی، اسی لیے ہم قائم بھی ہیں ، موجود بھی اور یقینا اپنے ارد گرد پھیلے بدخواہوں کے لیے ایک خطرہ بھی، وہی بدخواہ جو کبھی ہم پر عسکریت پسندی کا لیبل لگاتے ہیں تو کبھی انتہا پسندی کا، کبھی دہشت گردوں کی سرپرستی کا تو کبھی مالی معاملات میں بدعنوانی کا۔ہر طرف سے ہمارا گلا کھونٹنے کی جدو جہد جاری ہے۔ کبھی کسی گرے لسٹ میں ہمارا نام شامل کر کے تو کبھی ہمارے دریائوں کے پانی کی بندش کا سہارا لے کر، کبھی نیوکلیر اثاثوں پر فکر مندی کا اظہار کر کے تو کبھی ہماری فوج اور آئی ایس آئی پر الزامات کی بارش برسا کر۔لیکن ہم بھی ہمت ہارنے والے نہیں۔ہماری قومی خوشیاں ہوں یا پھر مذہبی تہوار،آج سے محض چند برس پہلے تک ہمارا سب کچھ دہشت گردوں سے مقابلوں کی نذر ہوجاتا تھا، ہمارے تعلیمی ادارے اور ہسپتال تک دہشت گردوں سے محفوظ نہیں تھے ، ہمارے بھرے پرے بازار خودکش دھماکوں سے مٹی کا ڈھیر بن جاتے تھے، ہمارے پارک، ہمارے کھیل کے میدان قبرستان بن چکے تھے، لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ہمارے سیکیورٹی ادارے خلوص نیت کے ساتھ جدو جہد کرتے رہے اور بالآخر ہمارا ملک اس خوفناک منظر سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس ہو یا پھر فوج یا پھر انٹیلی جنس ادارے، ان کی کامیابی عوامی سپورٹ اور عوامی تعاون کے بغیر کبھی بھی ممکن نہیں ہوتی۔ سیکیورٹی اداروں اور عوام کے بیچ نفرت کا بیج اسی لیے بویا جاتا ہے تاکہ یہ ادارے عوامی سپورٹ سے محروم ہوجائیں۔اسی طرح کی ایک منظم مہم پاکستان میں فوج کے خلاف بھی چلائی جا چکی ہے۔ سیکورٹی اداروں کے خلاف اپنے ہی لوگوں کی طرف سے سجایا جانے والا میدان جنگ کوئی نیک شگن نہیں ہے۔اور بالخصوص ایک ایسے وقت میں کہ جب ہمیں بین الاقوامی سازش کار دھیرے دھیرے ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جسے لڑنے کا ہمارا کبھی بھی نہ تو کوئی ارادہ تھا نہ ہی نیت۔ہم نے معاملات کو ہمیشہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کاوش اور خواہش کی۔لیکن ہماری اس کاوش کو بزدلی سکجھا جاتا رہا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بھارتی آرمی چیف انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بڑھک مار رہے ہیں کہ ہماری حکومت اجازت دے تو ہم پاکستان سے الحاق شدہ کشمیر کو بھی اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔اگرچہ یہ بڑھک لگانے کے بعد بھارتی آرمی چیف اندر ہی اندر پچھتا ضرور رہے ہوں گے، انہیں رہ رہ کر پلوامہ، پٹھان کوٹ اور ممبئی حملوں جیسے واقعات بھی یاد آرہے ہوں گے کہ جنہوں نے بھارتی فوج کی ساری صلاحیتوں کا پول کھول کے رکھ دیا تھا لیکن بطور قوم ہمیں اپنے سیکورٹی اداروں کی عزت اور احترام کو بہر حال ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔فوج ہو یا پولیس یہ سب ہمارے تحفظ اور ہماری بقاء کے ذمے دار ادارے ہیں اور ان کی کامیابی پبلک سپورٹ سے جڑی ہوتی ہے۔ہمیں اپنے سیکیورٹی اداروں کے مقابل کھڑا کرنا بھی اس ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے جس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ مد مقابل کو نفسیاتی طور پر اتنا کمزور کردو کہ وہ کسی بھی قسم کاہتھیار اٹھانے کے قابل ہی نہ رہے۔کوئی بھی جنگ جیتنے کے لیے لازم ہے کہ لڑنے والا اس یقین کامل کے ساتھ میدان میں اترے کہ فتح اس کا مقدر ہوگی۔