مقبول خبریں
پاکستان پریس کلب برطانیہ یارکشائیر ریجن کا سہیل وڑائچ کے اعزاز میں استقبالیہ
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
سری نگر سے تھوڑی دور!!!!!!
یہ خیال بذات خود ایک سنگین غلط فہمی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر، صرف وادیء کشمیر میںمحض جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں تک محدود رہے گی ۔بلکہ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ کشمیر کے معاملے میں عالمی بے حسی تحریک آزادی کشمیر کو ایک نئی قوت عطا کرنے کا باعث بنے گی۔کشمیری جان چکے ہیں کہ اس جدوجہد میں انہیں پاکستان کے علاوہ اور کسی کا بھی ساتھ میسر نہیں۔ اسی لیے گذشتہ چند ہفتوں سے وادی کشمیر میں برسوں سے مقبول نعرے، کشمیر بنے گا پاکستان، کی گونج میں اور بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔پاکستان بھی اپنے کشمیری بھائیوں کے اس بھرم اور اعتماد کو نبھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے میں مصروف ہے۔ حال ہی میں ۳۰ اگست کو سارے پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے بے بس اور بے گناہ لوگوں کے ساتھ مودی سرکار کی جانب سے کی جانے والی نا انصافیوں پر احتجاج کے لیے ایک نئے انداز سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ دوپہر بارہ بجے پاکستان بھر کی سڑکوں پر جو جہاں تھا وہیں ٹھہر گیا، سائیکل، موٹر سائیکل، گاڑیاں اور بسیں، سب کچھ تھم گیا۔ فضا میں پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے قومی ترانے گونجنے لگے۔ ساری قوم میں ایسا طوفانی جذبہ تھا کہ اگر سری نگر کو جانے والی سڑک تک سب کو رسائی مل جاتی تو پھر کسی بھی رکاوٹ کے لیے اس بپھرے ہجوم کو روکنا ممکن نہیں رہتا۔لیکن پاکستان کسی بھی قسم کی قانون شکنی ، تشدد اور اشتعال انگیزی کا نہ تو آج قائل ہے نہ ہی آئندہ کبھی ہوگا۔ پاکستان کا مقصد صرف ایک تھا کہ ساری قوم یک آواز ہوکر اس بے حس دنیا کو جھنجھوڑ دے کہ جس کی نظر میں مقبوضہ کشمیر میں بسنے والوں پر بھارتی ظلم و ستم کسی شمار میں نہیں آتا۔مقام شکر ہے کہ پاکستانی قوم کے اس احتجاج کی گونج سات سمندر پار تک پہنچی، بہت سے ممالک نے چاہتے، نہ چاہتے ہوئے، مودی سرکار کی نا انصافیوں کے خلاف آواز بھی اٹھائی اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان یہی چاہتا تھا کہ کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف احتجاج کو عالمی تائید حاصل ہو اور یقینا پاکستان اپنے اس مقصد میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوا۔تاہم کچھ سر پھرے نام نہاد دانشورسوشل میڈیا پر اس بات کی تبلیغ بھی کرتے رہے کہ اس طرح کے مظاہروں کا کشمیریوں کو کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی بھارت کی صحت پر اس طرح کے مظاہروں کا کوئی اثر پڑے گا۔ایسے لوگوں کا خیال تھا کہ مذکورہ احتجاجی مہم دراصل عوام کی توجہ مہنگائی اور اسی قسم کے دیگر بنیادی مسائل سے ہٹانے کی ایک کوشش کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔؎تاہم اچھی بات یہ کہ ایسے دانشوروں کے ان ’زریں خیالات‘ کو پاکستانیوں نے ایک بچگانہ خیال سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔مودی سرکار کی نا انصافیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرنے کا یہ فائدہ ہوا کہ ۲ ستمبر ۲۰۱۹ کو یورپین یونین پارلیمنٹ نے کشمیر کے معاملے پر غورکرنے کے لیے کمیٹی آف فارن افیئرز کا فوری اجلاس طلب کیا۔ایم ڈی ایشیا پیسیفک مسٹر گونرنے اجلاس میں شریک ممبران کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کے نارے میں نہایت تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں بھارت کی طرف سے آرٹیکل ۳۷۰ اور آرٹیکل ۳۵Aکی منسوخی کے ذریعے کشمیر کی انتظامی حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء کا خیال تھا کہ مودی سرکار کا یہ عمل بذات خود انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے۔اجلاس میں بھارت نژاد ممبر پارلیمنٹ مادام نینا گل بھی شریک تھیں لیکن انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں برسوں سے جاری بھارتی ظلم و جبر کے خلاف جاری ہونے والے اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے سٹیٹس میں جو تبدیلی کی ہے، ایسا نہیں کہ بھارت میں رہنے والے تمام لوگوں نے اسے سراہا ہو اور اس کا خیر مقدم کیا ہو، بھارتی سول سوسائیٹی میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو مودی سرکار کے اس عمل کو نفرت اور ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔بلکہ وہاں بہت سے لوگ اس خدشے کا اظہار کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ مودی سرکار کے اس اقدام سے مقبوضہ کشمیر میں حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جائیں گے اور قتل و غارت، لاقانونیت اور انسانی حقوق کی پامالی اگر انتہائی حدوں کو چھونے لگی تو پاکستان اور دیگر ہم خیال ممالک کو مقبوضہ کشمیر کامعاملہ اقوام متحدہ کے ایوانوں میں مزید قوت کے ساتھ پیش کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔عین ممکن ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ اپنے فوجی دستے بھیجنے کی کوئی راہ نکالے۔اگر ایسا ہوگیا توپھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جو تھوڑی بہت نام نہاد سی عملداری ہے وہ بھی ختم ہوجائے گی۔مقبوضہ کشمیر ایک اور افغانستان کا منظر پیش کرنے لگے گا۔لیکن مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں ایک نہایت اہم فرق ہے۔ افغانستان کے لوگوں نے تیس چالیس سال بعد بھی ہار نہیں مانی اور بالآخر درانداز غیر ملکی فوجوں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔کشمیریوں کے پاس نہ تو ایسے وسائل ہیں اور نہ ہی ایسا علاقائی مزاج۔بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سکھ اور کشمیری، دونوں ہی مزاجاً پر امن قسم کے لوگ ہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آزادی کبھی بھی کسی کو پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی جاتی،اس مقصد کے حصول کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانا پڑتی ہے، آزادی کا حصول ہمیشہ جنگی جنون کا متقاضی ہوتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ظلم وجبر کی چکی میں پسنے والے کشمیری ہوں یا پھر ہندو استحصال کا شکار سکھ،جنگی جنون کی عدم موجودگی کی صورت میں،ان دونوں کے لیے، اپنے انتہائی مثبت مقاصد کا حصول بھی ناممکن ہوگا۔افغانستان کی مثال ہمیشہ ان کے سامنے رہنی چاہیے۔ دنیا کے طاقت ور ترین ممالک افغانستان کے مقامی باشندوں کے ہاتھوں کیڑے مکوڑوں کی طرح مارے جارہے ہیں۔ہر تھوڑے دن بعد غیر ملکی افواج کی طرف سے افغانستان چھوڑنے کی باتیں کی جاتی ہیں تو افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے لیے نسبتاً امن ہوجاتا ہے لیکن جیسے ہی کوئی ایسا بیان سامنے آتا ہے جس میں یہ ارادہ ڈانواں ڈول دکھائی دے، ان غیر ملکی فوجوں کی ٹھکائی اور رگڑائی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔اگر سکھ اور کشمیری آج بھی اپنی آزادی اور الگ ریاستوں کے قیام کی جدو جہد میں سرفروشی کا عنصر بھی شامل کر لیں توصورت حال لمحوں میںبڑی حد تک مختلف ہوجائے گی۔ استحصالی قوتوں کے سامنے امن پسندی کا بھاشن اور رویوں کی نرمی کا پرچار، حالات کو اسی منظر کی طرف لے جاتا ہے جو آج ہمیں مقبوضہ کشمیر میں دکھائی دے رہا ہے۔کئی ہفتوں سے وادی میں لگاتار کرفیو کے باعث، خوراک اور ادویات کا بدترین بحران ہے۔عورتوں کی عزتوں سے بھارتی فوجی کھلواڑ کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، گھر اور کاروبار، دونوں ہی راکھ ہو رہے ہیں۔ایسے میں کشمیریوں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنی تحریک آزادی کو جنگ آزادی کا روپ دے دیں۔گھی سیدھی انگلیوں سے نا نکلے تو انگلیوں کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے۔